🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. كلام سلمان
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35800 ترقیم الشثری: -- 37381
٣٧٣٨١ - حدثنا معتمر بن سليمان عن التيمي عن ابي عثمان عن سلمان قال: لما خلق الله آدم قال: واحدة لي وواحدة لك، وواحدة بيني وبينك، فاما التي لي فتعبدني لا تشرك بي شيئا، واما التي لك فما عملت من شيء (جزيتك) (١) به، واما التي بيني وبينك (فمنك) (٢) المسالة (والدعاء) (٣) وعلي الإجابة (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (خبرتك)، وفي [أ، ب]: (حزيتك)، وفي [هـ]: (جريتك).
(٢) في [س]: تكررت.
(٣) سقط من: [ط، هـ].
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد (ص ٤٧)، وابن فضيل في الدعاء (٦٨)، والبيهقي في الشعب (١١١٢)، وابن عساكر ٧/ ٤٠٧، والطبراني (٦١٣٧)، والبزار (٢٥٢٣).

حضرت سلمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو پیدا کیا تو فرمایا: ایک چیز میری ہے اور ایک چیز تیری ہے اور ایک چیز میرے اور تیرے درمیان ہے جو چیز میری ہے وہ یہ کہ تم میری عبادت کرو۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور جو چیز تمہاری ہے وہ یہ کہ تم جو عمل کرو گے میں تمہیں اس کا بدلہ دوں گا اور جو چیز میرے اور تمہارے درمیان ہے وہ یہ کہ تم سوال کرو اور دعا مانگو اور میں قبول کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37381]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37381، ترقيم محمد عوامة 35800)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35801 ترقیم الشثری: -- 37382
٣٧٣٨٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن التيمي عن ابي عثمان عن سلمان قال: كانت امراة فرعون تعذب بالشمس، فإذا انصرفوا عنها اظلتها الملائكة باجنحتها، فكانت ترى بيتها من الجنة (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٢/ ٥٣٨، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٠٥، وابن جرير ٢٨/ ١٧١، والثعلبي ٩/ ٣٥٢، والبيهقي في الشعب (١٦٣٧).
حضرت سلمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ فرعون کی بیوی کو دھوپ میں رکھ کر عذاب دیا جاتا تھا لیکن جب یہ لوگ اس سے واپس پلٹ جاتے تو فرشتے اس عورت پر اپنے پروں کا سایہ کردیتے۔ پس وہ عورت اپنا جنت والا گھر دیکھ لیتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37382]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37382، ترقيم محمد عوامة 35801)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35802 ترقیم الشثری: -- 37383
٣٧٣٨٣ - حدثنا عبد الله بن نمير عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب ان سلمان وعبد الله بن سلام التقيا، فقال احدهما لصاحبه: إن لقيت ربك فاخبرني ماذا لقيت منه؟ وإن لقيته قبلك (لقيتك) (١) فاخبرتك، فتوفي احدهما فلقيه ⦗٣٧٣⦘ صاحبه في المنام، فقال: توكل وابشر، فإني لم ار مثل التوكل قط -قالها ثلاث مرات (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) صحيح؛ أخرجه ابن المبارك في الزهد (٤٢٨).

حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت سلمان اور حضرت عبداللہ بن سلام کی باہم ملاقات ہوئی تو ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا۔ اگر تم اپنے رب سے (مجھ سے پہلے) ملو تو تم مجھے بتادینا کہ میں کیا لے کر خدا سے ملوں۔ اور اگر تم سے پہلے میں خدا سے ملا تو میں تمہیں ملوں گا اور تمہیں بتاؤں گا۔ پھر ان میں سے ایک فوت ہوگیا اور وہ اپنے ساتھی کو خواب میں ملا اور کہا۔ توکل کرو اور بشارت پالو۔ کیونکہ میں نے تو کل جیسی چیز بالکل نہیں دیکھی۔ یہ بات اس نے تین مرتبہ کہی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37383]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37383، ترقيم محمد عوامة 35802)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35803 ترقیم الشثری: -- 37384
٣٧٣٨٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمرو بن مرة عن سالم بن ابي الجعد عن زيد بن (صوحان) (١) عن سلمان انه ركع ركعتين قبل الفجر، قال: (فقلت) (٢) له، فقال: احفظ نفسك (يقظان) (٣) يحفظك نائما (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (صحوحان).
(٢) في [ع]: (قلت).
(٣) في [أ]: (يضان)، وفي [ع]: (يقطان).
(٤) مجهول؛ لجهالة زيد بن صوحان.

حضرت سلمان کے بارے میں حضرت زید بن صوحان روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فجر سے پہلے دو رکعات ادا کیں۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان سے کہا تو انہوں نے فرمایا: تم بیداری میں اپنے نفس کی حفاظت کرو تو وہ نیند میں تمہاری حفاظت کرے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37384]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37384، ترقيم محمد عوامة 35803)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35804 ترقیم الشثری: -- 37385
٣٧٣٨٥ - حدثنا وكيع عن الاعمش عن (شمر) (١) عن بعض اشياخه عن سلمان قال: اكثر الناس ذنوبا يوم القيامة اكثرهم كلاما في معصية الله (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (شهر).
(٢) مجهول؛ لإبهام شيوخ شمر، أخرجه أحمد في الزهد (ص ١٥٠)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٠٢، وابن أبي الدنيا في الصمت (٧٥).

حضرت سلمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ گناہوں والا وہ شخص ہوگا جب سب سے زیادہ خدا کی نافرمانی میں کلام کرنے والا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37385]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37385، ترقيم محمد عوامة 35804)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35805 ترقیم الشثری: -- 37386
٣٧٣٨٦ - حدثنا وكيع عن هشام بن (الغاز) (١) عن عبادة بن نسي قال: كان لسلمان (خباء) (٢) من عباء (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ع]: (الغار).
(٢) في [س]: (خباط).
(٣) منقطع؛ عبادة لا يروي عن سلمان، أخرجه ابن سعد ٤/ ٨٨.

حضرت عبادہ بن نسی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلمان کا عباء کا ایک خیمہ تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37386]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37386، ترقيم محمد عوامة 35805)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35806 ترقیم الشثری: -- 37387
٣٧٣٨٧ - حدثنا يحيى بن سعيد عن حبيب بن شهيد عن بن بريدة ان سلمان كان يصنع الطعام من كسبه فيدعو المجذومين فياكل معهم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ ابن بريدة لا يروي عن سلمان.
حضرت ابن بریدہ سے روایت ہے کہ حضرت سلمان، اپنی کمائی سے کھانا تیار کرتے تھے۔ پھر آپ مجذومین کو بلاتے اور ان کے ہمراہ کھانا کھاتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37387]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37387، ترقيم محمد عوامة 35806)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35807 ترقیم الشثری: -- 37388
٣٧٣٨٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن سماك عن النعمان بن حميد قال: دخلت مع خالي عباد على سلمان، فلما رآه صافحه سلمان، وإذا (هو) (١) مقصص، وإذا هو يسف (الخوص) (٢) ، فقال (له) (٣) : اشتري لي بدرهم فاسفه و (ابيعه) (٤) بثلاثة، فاتصدق بدرهم واجعل درهما فيه، وانفق درهما، ولو ان عمر نهاني ما انتهيت (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ]: (الحوص)، وفي [ع]: (الحوض).
(٣) في [أ، طـ، هـ]: (إنه).
(٤) في [ع]: (وأتبعه).
(٥) مجهول؛ لجهالة النعمان بن حميد، أخرجه ابن حبان في الثقات ٥/ ٤٧٣، وابن سعد ٤/ ٨٩، وابن عساكر ٢١/ ٤٣٤.

حضرت نعمان بن حمید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے خالو عباد کے ہمراہ حضرت سلمان کے ہاں گیا۔ پس جب حضرت سلمان نے ان کو دیکھا تو انہیں مصافحہ کیا۔ اور ان کے بال خوب لمبے تھے اور وہ چٹائی بن رہے تھے۔ حضرت سلمان نے فرمایا: یہ چیز میرے لیے ایک درہم میں خریدی جاتی ہے۔ میں اس کو بنتا ہوں اور اس کو تین درہموں میں بیچتا ہوں۔ پھر میں ایک درہم صدقہ کردیتا ہوں اور ایک درہم اسی کام میں لگا دیتا ہوں اور ایک درہم خرچ کردیتا ہوں۔ اور اگر حضرت عمر مجھے (اس سے) منع کریں تو بھی میں منع نہیں ہوں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37388]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37388، ترقيم محمد عوامة 35807)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35808 ترقیم الشثری: -- 37389
٣٧٣٨٩ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي (ظبيان) (١) عن (جرير) (٢) قال: نزلنا الصفاح فإذا (نحن) (٣) برجل نائم في ظل شجرة قد كادت الشمس تبلغه، قال: فقلت للغلام: انطلق بهذا النطع (فاظله) (٤) ، (قال: فاظله) (٥) ، فلما استيقظ (إذا) (٦) هو سلمان، قال: فاتيته اسلم عليه قال: فقال: يا جرير تواضع لله، (فإن) (٧) من تواضع لله رفعه الله يوم القيامة، يا جرير هل تدري ما الظلمات يوم القيامة؟ قال: قلت: لا ادري، قال: ظلم الناس بينهم في الدنيا، ثم اخذ عودا لا ⦗٣٧٥⦘ اكاد اراه بين اصبعيه فقال: يا جرير لو طلبت (في الجنة) (٨) مثل هذا العود لم تجده، قال: قلت: يا ابا عبد الله اين النخل والشجر؟ فقال: اصوله اللؤلؤ والذهب واعلاه الثمر (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (طيار).
(٢) في [ع]: (حرير).
(٣) في [جـ]: (هو).
(٤) في [ع]: (فأطله).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [أ، ب]: (فإذا).
(٧) في [جـ]: (أنه).
(٨) سقط من: [جـ].
(٩) صحيح؛ أخرجه هناد (٩٨)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٠٢، والبيهقي في الشعب (٨١٤٧)، وابن عساكر ٢١/ ٤٣٨، والفاكهي (٢٩١٦)، والدينوري في المجالسة (٨٤٧).

حضرت جریر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم مقام صفاح میں اترے تو ہم نے (وہاں) درخت کے سائے میں ایک آدمی کو سویا ہوا دیکھا۔ قریب تھا کہ اس کو سورج پہنچ جاتا کہتے ہیں کہ میں نے غلام سے کہا۔ یہ چمڑا لے جاؤ اور اس آدمی پر سایہ کردو۔ راوی کہتے ہیں پس اس نے اس پر سایہ کردیا۔ پھر وہ آدمی جب بیدار ہوا تو وہ حضرت سلمان تھے۔ راوی کہتے ہیں میں ان کے پاس آیا اور ان کو سلام کیا۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت سلمان نے کہا۔ اے جریر! اللہ کے لیے تواضع اختیار کرو۔ کیونکہ جو شخص اللہ کے لیے تواضع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن بلند کردیتے ہیں۔ اے جریر! تم جانتے ہو کہ قیامت کے دن ظلمات کیا ہیں؟ راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا: میں نہیں جانتا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کا دنیا میں باہم ظلم کرنا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ایک لکڑی میرا خیال نہیں تھا کہ آپ اس کو اپنے ہاتھ میں رکھیں گے۔ فرمایا: اے جریر! اگر تم جنت میں اس کے مثل لکڑی تلاش کرو گے تو نہ پاؤ گے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے ابوعبداللہ! کھجور کے اور دوسرے درخت کہاں ہوں گے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کے اصول موتیوں اور سونے کے ہوں گے اور ان کے اوپر پھل ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37389]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37389، ترقيم محمد عوامة 35808)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35809 ترقیم الشثری: -- 37390
٣٧٣٩٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن عاصم عن ابي عثمان عن سلمان قال: إذا كان العبد يذكر الله في السراء ويحمده في الرخاء فاصابه ضر فدعا الله قالت الملائكة: صوت معروف من امرئ ضعيف (فيشفعون) (١) له، وإن (كان) (٢) العبد (لا) (٣) يذكر الله في السراء، ولا يحمده في الرخاء، فاصابه ضر فدعا الله قالت الملائكة: صوت منكر فلم يشفعوا له (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، س]: (لشعفون).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [س]: (لم).
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد (ص ٣١٣)، وابن فضيل في الدعاء (٨٥)، والبيهقي في الشعب (١١٤٠).

حضرت سلمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بندہ جب خوشحالی میں خدا کا ذکر کرتا ہے اور تنگدستی میں اس کی حمد وثنا کرتا ہے پھر اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اللہ سے دعا کرتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں ایک کمزور بندے کی پہچانی ہوئی آواز ہے۔ چناچہ وہ اس کی شفاعت کرتے ہیں اور اگر خوشحالی میں خدا کو یاد نہیں کرتا اور تنگدستی میں خدا کی حمد نہیں کرتا پھر اس کو تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اللہ سے دعا کرتا ہے۔ تو فرشتے کہتے ہیں نامانوس آواز ہے چناچہ وہ اس کی شفاعت نہیں کرتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37390]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37390، ترقيم محمد عوامة 35809)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں