پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
17. كلام سلمان
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کا کلام
ترقیم عوامۃ: 35818 ترقیم الشثری: -- 37400
٣٧٤٠٠ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عمرو بن مرة عن ابي البختري قال: صحب سلمان رجل من بني عبس فاتى (دجلة) (١) فقال له سلمان: اشرب، فشرب، ثم قال له: اشرب، فشرب، (ثم قال له: اشرب، فشرب) (٢) ، ثم قال له: يا اخا بني (عبس) (٣) اترى شربتك هذه نقصت من ماء دجلة شيئا؟ كذلك العلم لا ينفد، فابتغ من العلم ما ينفعك، ثم مر بنهر دن فإذا (اطعمة) (٤) وكدوس تذرى (٥) ، (فقال) (٦) : يا اخا بني عبس إن الذي (٧) كان يملك خزائنه ومحمد ﷺ (حي) (٨) ، وكانوا يمسون ويصبحون وما فيهم قفيز حنطة، ثم ذكر جلولاء وما فتح الله على المسلمين فيها، فقال: (يا) (٩) اخا بني عبس إن الله اعطاكم هذا وخولكموه قد كان يقدر عليه ومحمد حى (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (رحله).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [ب]: (عسيس).
(٤) في [أ، ب]: (طعمه).
(٥) أي: حب يُنقى.
(٦) سقط من: [س].
(٧) في [هـ]: زيادة (فتح هذا لكم وخولكموه ورزقكموه).
(٨) في [ع]: (جي).
(٩) سقط من: [أ، هـ].
(١٠) منقطع؛ أبو البختري لا يروي عن سلمان، أخرجه ابن المبارك في الزهد (٨٢٢)، وهناد (٧٤٠)، وأحمد في الزهد ص ٢٩، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٨٨، والحارث (١١١/ بغية)، والبغوي في الجعديات (١٣١)، والطيالسي (٦٥٨)، والطبراني (٦١٧٣).
حضرت ابوالبختری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنو عبس کا ایک آدمی حضرت سلمان کے ساتھ تھا۔ وہ دریائے دجلہ پر آیا تو حضرت سلمان نے اس سے کہا۔ پانی پیو۔ اس نے پانی پیا۔ پھر آپ نے اس سے کہا۔ پانی پیو۔ اس نے پانی پیا۔ پھر آپ نے اس سے کہا۔ پانی پیو۔ اس نے پانی پیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا۔ اے بنو عبس کے بھائی! ؛ تو کیا دیکھتا ہے کہ تیرے اس گھونٹ نے اس دجلہ کے پانی میں کمی کی ہے؟ اسی طرح علم نہ ختم ہونے والی چیز ہے۔ پس تو اپنے لیے نفع مند علم تلاش کر۔ پھر آپ کا گزر نہروں پر ہوا تو وہاں کچھ کھانے تھے اور دانے ہوا میں اڑائے جا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: اے بنو عبس کے بھائی! وہ آدمی جو اس کے خزانوں کا مالک تھا جبکہ آپ زندہ تھے۔ وہ لوگ صبح وشام اس حال میں کرتے کہ ان میں ایک قفیز گندم نہ ہوتی۔ پھر آپ نے جلولاء اور اس کے بارے میں مسلمانوں کی فتوحات کا ذکر فرمایا اور کہا: اے بنو عبس کے بھائی! اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ عطا فرما دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ اس پر اس وقت بھی قادر تھا جب محمد 5 زندہ تھے“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37400]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37400، ترقيم محمد عوامة 35818)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 37400 in Urdu