🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. كلام سلمان
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35823 ترقیم الشثری: -- 37405
٣٧٤٠٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن سليمان بن ميسرة والمغيرة بن شبيل عن طارق بن شهاب قال: كان لي اخ اكبر مني يكنى ابا عزرة، وكان يكثر ذكر سلمان، فكنت (اشتهي) (١) لقاءه لكثرة ذكر اخي إياه، قال: فقال لي ذات ⦗٣٨١⦘ يوم: هل لك في (ابي عبد الله؟) (٢) (قد نزل) (٣) القادسية، قال: وكان سلمان إذا قدم من الغزو نزل القادسية، وإذا قدم من الحج نزل المدائن غازيا، قال: قلت: نعم، قال: فانطلقنا حتى دخلنا عليه (في) (٤) بيت بالقادسية، فإذا هو جالس، بين (رجليه) (٥) خرقة، (وهو) (٦) يخيط زنبيلا او يدبغ إهابا، قال: فسلمنا عليه وجلسنا، قال: (فقال) (٧) : يا ابن اخي عليك (بالقصد) (٨) فإنه ابلغ (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (أشهي).
(٢) في [ع]: (أبي عبيد).
(٣) في [ع]: (قال: نزلت).
(٤) في [س، ع]: تكررت.
(٥) في [ع]: (يديه).
(٦) سقط من: [ع].
(٧) في [جـ]: (قال).
(٨) في [أ، ب]: (بالفصط).
(٩) صحيح؛ أخرجه الطبراني (٦٠٥١)، والمروزي في تعظيم الصلاة (٩٩).

حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرا ایک مجھ سے بڑا بھائی تھا جس کی کنیت ابوعزرہ تھی۔ وہ حضرت سلمان کا ذکر بڑی کثرت سے کرتا تھا۔ تو اپنے بھائی سے حضرت سلمان کا بہت زیادہ ذکر سن کر مجھے آپ سے ملاقات کا شوق تھا۔ راوی کہتے ہیں ایک دن میرے بھائی نے مجھے کہا کیا تمہیں ابوعبداللہ سے ملنے کا شوق ہے؟ وہ قادسیہ مقام میں فروکش ہیں۔ راوی کہتے ہیں حضرت سلمان جب جہاد سے واپس آتے تو قادسیہ میں اترتے اور جب حج سے واپس آتے تو مدائن میں پڑاؤ ڈالتے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا: ہاں (شوق ہے)۔ راوی کہتے ہیں پس ہم چل پڑے یہاں تک کہ ہم قادسیہ میں ان کے گھر میں اترے۔ وہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے ایک کپڑے کا ٹکڑا تھا۔ وہ ٹوکری سی رہے تھے یا چمڑے کو دباغت دے رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں پس ہم نے انہیں سلام کیا اور ہم بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے کہا: اے بھتیجے! تم پر ارادہ لازم ہے کیونکہ یہ مؤثر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37405]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37405، ترقيم محمد عوامة 35823)

Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 37405 in Urdu