🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. (كلام مسروق)
حضرت مسروق کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36024 ترقیم الشثری: -- 37608
٣٧٦٠٨ - حدثنا ابو اسامة عن الاعمش عن مسلم عن مسروق قال: كان رجل بالبادية له كلب وحمار وديك، قال: فالديك يوقظهم للصلاة، والحمار ينقلون عليه الماء، وينتفعون به ويحملون لهم خباءهم، والكلب يحرسهم، فجاء ثعلب فاخذ الديك فحزنوا لذهاب الديك، وكان الرجل صالحا فقال: عسى ان يكون خيرا، (قال) (١) : (فمكثوا) (٢) ما شاء الله ثم جاء ذئب، فشق بطن الحمار فقتله ⦗٤٤٩⦘ فحزنوا لذهاب الحمار، فقال الرجل الصالح: عسى ان يكون خيرا، ثم مكثوا بعد ذلك ما شاء الله، ثم اصيب الكلب، فقال الرجل الصالح: عسى ان يكون خيرا، فلما اصبحوا نظروا فإذا هو قد سبي من حولهم و (بقوا هم) (٣) ، قال: فإنما اخذوا اولئك بما كان عندهم من الصوت (والجلبة) (٤) ، ولم يكن عند اولئك شيء (يجلب) (٥) ، قد ذهب كلبهم وحمارهم وديكهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [ب]: (مكثوا).
(٣) في [أ، ب]: (بقوهم).
(٤) في [جـ]: (في الجاهلية).
(٥) سقط من: [س].

حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جنگل میں ایک آدمی رہتا تھا جس کے پاس ایک کتا، ایک گدھا اور ایک مرغا تھا۔ فرماتے ہیں: مرغا ان کو نماز کے لیے اٹھاتا تھا اور گدھے پر وہ پانی ادھر ادھر لے جاتے تھے اور اس سے منتفع ہوتے اور وہ ان کے لیے ان کے خیمہ کو اٹھاتا تھا۔ اور کتا ان کی حفاظت کرتا تھا۔ پھر ایک لومڑی آئی اور اس نے مرغا پکڑا۔ ان لوگوں کو مرغ کے چلے جانے کا غم ہوا لیکن وہ آدمی نیک تھا تو اس نے کہا ہوسکتا ہے کہ اس میں خیر ہو۔ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جتنی دیر اللہ نے چاہا اسی طرح رہے پھر بھیڑیا آیا تو اس نے گدھے کا پیٹ پھاڑ کر اس کو قتل کردیا۔ چناچہ وہ لوگ گدھے کے جانے پر بھی غمگین ہوئے لیکن نیک آدمی نے کہا ہوسکتا ہے اسی میں خیر ہو۔ پھر کتا بھی مرگیا۔ تو اس مرد صالح نے کہا ہوسکتا ہے یہی بہتر ہو۔ پھر جب ان لوگوں نے صبح کی تو دیکھا کہ ان کے اردگرد کے لوگ تو قید کرلیے گئے ہیں اور یہ بچ گئے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ لوگ اس لیے پکڑے گئے تھے کہ ان کے پاس آوازیں اور چیخ و پکار تھی۔ جبکہ ان لوگوں کے پاس کوئی شور مچانے والی چیز نہ تھی۔ ان کا کتا، گدھا اور مرغ تو مرگئے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37608]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37608، ترقيم محمد عوامة 36024)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 37608 in Urdu