مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
55. (كلام عمر بن عبد العزيز)
حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
ترقیم عوامۃ: 36240 ترقیم الشثری: -- 37824
٣٧٨٢٤ - حدثنا عفان (قال) (١) : (حدثنا) (٢) جويرية بن اسماء عن إسماعيل بن ابي حكيم قال: غضب عمر بن عبد العزيز يوما فاشتد غضبه، وكانت فيه حدة، وعبد الملك ابنه حاضر، فلما راوه قد سكن غضبه قال: يا امير المؤمنين انت في قدر نعمة الله عليك، وفي موضعك الذي وضعك الله (فيه) (٣) ، وما ولاك الله من امر عباده يبلغ بك الغضب ما ارى، قال: كيف قلت؟ فاعاد عليه كلامه فقال: اما تغضب يا عبد الملك؟ قال: (٤) ما يغني عني سعة (جوفي) (٥) إن لم (اردد) (٦) فيه الغضب حتى لا يظهر منه شيء اكرهه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [س]: (أخبرنا).
(٣) في [ع]: (به).
(٤) في [هـ]: زيادة (قال).
(٥) في [أ، ب، س]: (حدثي)، وفي [جـ، ع]: (حدٍ).
(٦) في [أ، ب]: (أزدد).
حضرت اسماعیل بن عبدالحکیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر بن عبدالعزیز کو غصہ آیا اور ان کا غصہ شدید ہوگیا اور اس میں کچھ تیزی بھی تھی۔ آپ کا بیٹا عبدالملک موجود تھا۔ چناچہ جب اس نے آپ کو دیکھا کہ آپ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ہے تو اس نے کہا: اے امیر المومنین! آپ، اپنے اوپر خدا کی نعمت کی قدر کریں اور جس جگہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رکھا ہے آپ اسی جگہ رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو حکومت کا اختیار دیا ہے تو بندوں کے معاملہ میں آپ کا غصہ جہاں تک پہنچا تھا آپ کو اس کا اختیار نہیں جو میں دیکھتا ہوں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: تم نے کیسے یہ بات کہی؟ چناچہ عبدالملک نے بات دہرائی۔ حضرت عمر نے پوچھا: اے عبدالملک! تمہیں غصہ نہیں آتا؟ انہوں نے فرمایا: میری اس وسعت قلبی کا کیا فائدہ؟ اگر میں اپنے غصہ کو واپس نہ کروں تاکہ اس کی وجہ سے کوئی ناپسندیدہ بات ظاہر نہ ہو؟“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37824]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37824، ترقيم محمد عوامة 36240)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 37824 in Urdu