مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
55. (كلام عمر بن عبد العزيز)
حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
ترقیم عوامۃ: 36228 ترقیم الشثری: -- 37812
٣٧٨١٢ - حدثنا معتمر بن سليمان عن علي بن زيد قال: سمعت عمر بن عبد العزيز يخطب (بخناصرة) (١) فسمعته يقول: افضل العبادة اداء الفرائض، واجتناب المحارم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) قرية بالشام، وفي [أ، ب]: (محناصرة).
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن زید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے مقام خناصرہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کو خطبہ دیتے سنا۔ چناچہ میں نے آپ کو کہتے سنا بہترین عبادت فرائض کی ادائیگی ہے اور حرام چیزوں سے اجتناب ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37812]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37812، ترقيم محمد عوامة 36228)
ترقیم عوامۃ: 36229 ترقیم الشثری: -- 37813
٣٧٨١٣ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن ابيه عن ازهر بياع (الخمر) (١) قال: رايت عمر بن عبد العزيز (بخناصرة) (٢) (فسمعته) (٣) (يخطب) (٤) الناس عليه قميص مرقوع.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) جمع خمار، وفي [أ، ب]: (الحمر).
(٢) في [أ، ب]: (بالحناصره).
(٣) سقط من: [جـ، ع].
(٤) في [جـ]: (فخطب).
حضرت ازہر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو مقام خناصرہ میں لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے پیوند لگی قمیص پہنی ہوئی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37813]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37813، ترقيم محمد عوامة 36229)
ترقیم عوامۃ: 36230 ترقیم الشثری: -- 37814
٣٧٨١٤ - حدثنا إسماعيل ابن علية عن ابي (مخزوم) (١) قال: حدثني عمر بن ابي الوليد قال: خرج عمر بن عبد العزيز يوم (جمعة) (٢) وهو ناحل الجسم ⦗٥٠٤⦘ (يخطب) (٣) ، كما كان يخطب ثم قال: (٤) ايها الناس من احسن منكم فليحمد الله، ومن (اساء) (٥) فليستغفر الله، فإنه لا بد لاقوام ان يعملوا اعمالا وضعها الله في رقابهم وكتبها عليهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (مجدوم).
(٢) في [ط، هـ]: (الجمعة).
(٣) في [هـ]: (فخطب).
(٤) في [هـ]: زيادة (يا).
(٥) في [أ، ب]: (أسئ).
حضرت عمر بن الولید بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ایک جمعہ کو باہر تشریف لائے … آپ کا جسم بہت کمزور تھا … آپ نے خطبہ دیا جس طرح آپ خطبہ دیتے تھے۔ پھر فرمایا: اے لوگو! تم میں سے جو اچھا کام کرے تو اس کو اللہ کی تعریف کرنی چاہیے۔ اور تم میں سے جو برا کام کرے تو اس کو اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔ کیونکہ لوگوں کے لیے یہ بات لازمی ہے کہ وہ اعمال کریں اور اللہ ان اعمال کو ان کی گردنوں پر رکھ دے اور ان اعمال کو ان لوگوں پر لکھ دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37814]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37814، ترقيم محمد عوامة 36230)
ترقیم عوامۃ: 36231 ترقیم الشثری: -- 37815
٣٧٨١٥ - حدثنا ابو معاوية عن (معرف) (١) قال: رايت عمر بن عبد العزيز يخطب الناس (بعرفة) (٢) وعليه ثوبان اخضران، وذكر الموت فقال: (غنظ) (٣) ليس كالغنظ (وكظ ليس كالكظ) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هو ابن واصل كما في غريب الحديث للخطابي ٣/ ١٢٠٩، وفي [أ، ب]: (مقرن)، وفي [جـ]: (معرب)، وفي [ط، هـ]: (مطرف).
(٢) في [ب]: (يعرفه).
(٣) الغنظ: أعظم الكرب، وفي [أ، ب، جـ]: (عنظ)، وفي [ع]: (عنظٌ).
(٤) أي: اهتم، وفي [جـ]: (ولض ليس كاللض).
حضرت معرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو مقام عرفہ میں دیکھا وہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور ان پر دو سبز کپڑے تھے۔ آپ رحمہ اللہ نے موت کا ذکر کیا تو فرمایا: وہ سخت تکلیف ہے لیکن عام سخت تکالیف کی طرح نہیں ہے۔ وہ سخت غم ہے لیکن عام سخت غموں کی طرح نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37815]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37815، ترقيم محمد عوامة 36231)
ترقیم عوامۃ: 36232 ترقیم الشثری: -- 37816
٣٧٨١٦ - حدثنا حسين بن علي عن عمر بن ذر قال: ما رايت احدا ارى انه اشد خوفا لله من عمر بن عبد العزيز.
حضرت عمر بن ذر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے زیادہ خوفِ خدا والا کوئی آدمی نہیں دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37816]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37816، ترقيم محمد عوامة 36232)
ترقیم عوامۃ: 36233 ترقیم الشثری: -- 37817
٣٧٨١٧ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن يحيى بن سعيد قال: بلغني ان عمر بن عبد العزيز خطب الناس (بعرفة) (١) فقال: (يا) (٢) ايها الناس إنكم (جئتم) (٣) من القريب والبعيد، (فانضيتم) (٤) (الظهر) (٥) و (اخلقتم الثياب) (٦) ، وليس السعيد ⦗٥٠٥⦘ من سبقت دابته (او) (٧) راحلته، ولكن السعيد من تقبل منه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [أ، ب، س].
(٣) في [أ، ب، ع]: (جيتم).
(٤) في [س، غ]: (فأنصيتم)، وفي [جـ]: (أنطيتم).
(٥) في [ب]: (العمر)، وفي [جـ، ع]: (الطهر).
(٦) في [جـ]: (وأحلفتم لثياب).
(٧) في [أ، ب]: (و).
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مقام عرفہ میں لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا۔ کہا: اے لوگو! تم دور اور قریب سے آئے ہو، چناچہ تم نے جانور بھی لاغر کردیے ہیں اور کپڑے بھی پرانے کرلیے ہیں لیکن خوش بخت وہ آدمی نہیں ہے جس کی سواری آگے نکل گئی بلکہ خوش بخت وہ ہے جس کی قبولیت ہوگئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37817]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37817، ترقيم محمد عوامة 36233)
ترقیم عوامۃ: 36234 ترقیم الشثری: -- 37818
٣٧٨١٨ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن يحيى بن سعيد قال: بلغني عن عمر بن عبد العزيز قال: ذكر النعم شكرها.
حضرت عمر بن عبدالعزیز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: نعمتوں کا ذکر کرنا بھی ان کا شکر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37818]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37818، ترقيم محمد عوامة 36234)
ترقیم عوامۃ: 36235 ترقیم الشثری: -- 37819
٣٧٨١٩ - حدثنا عيسى بن يونس عن الاوزاعي عن عمرو بن مهاجر (قال) (١) : كان قميص عمر بن عبد العزيز و (ثيابه) (٢) فيما بين الكعب والشراك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [هـ]: (جبابه).
حضرت عمرو بن مہاجر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی قمیص اور آپ کے کپڑے ٹخنوں اور تسمہ باندھنے کی جگہ کے درمیان تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37819]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37819، ترقيم محمد عوامة 36235)
ترقیم عوامۃ: 36236 ترقیم الشثری: -- 37820
٣٧٨٢٠ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن المهلب بن عقبة قال: كان عمر بن عبد العزيز يخطب يقول: إن من احب (الامور) (٢) إلى الله القصد في الجدة، والعفو في المقدرة، والرفق في الولاية، وما رفق عبد (بعبد) (٣) في (الدنيا) (٤) إلا رفق الله به يوم (القيامة) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عيسى).
(٢) في [أ، ب]: (الأموال).
(٣) في [ب]: (بعبيد).
(٤) في [أ]: (الدني).
(٥) في [هـ]: (للقيامة).
حضرت مہلب بن عقبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز خطبہ دیتے تو فرماتے۔ اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین کاموں میں تونگری کی حالت میں میانہ روی اور قدرت کے وقت معافی اور اختیار کے وقت نرمی ہے۔ جو بندہ بھی کسی بندہ کے ساتھ دنیا میں نرمی کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے ساتھ نرمی کریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37820]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37820، ترقيم محمد عوامة 36236)
ترقیم عوامۃ: 36237 ترقیم الشثری: -- 37821
٣٧٨٢١ - حدثنا حسين بن علي عن عبيد بن عبد الملك [قال: كان عمر بن عبد العزيز يقول: اللهم اصلح من كان في صلاحه صلاح لامة محمد (١) ، اللهم واهلك من كان في هلاكه صلاح (لامة) (٢) محمد (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: زيادة (غ).
(٢) في [س]: (أمة).
(٣) في [أ، ب، جـ]: زيادة (غ).
حضرت عبید بن عبد الملک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! اس آدمی کو درست کردے جس کی درستگی میں امت محمدیہ کی درستگی ہے۔ اور اے اللہ! اس آدمی کو ہلاک کردے جس کی ہلاکت میں امت محمدیہ کی درستگی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37821]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37821، ترقيم محمد عوامة 36237)