🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. كلام الحسن البصري
حضرت حسن بصری کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36357 ترقیم الشثری: -- 37943
٣٧٩٤٣ - حدثنا عبد الله بن مبارك عن معمر عن يحيى بن المختار عن الحسن ⦗٥٤٠⦘ قال: إن المؤمن قوام على نفسه (يحاسب) (١) نفسه لله، وإنما خف الحساب يوم القيامة على قوم حاسبوا انفسهم في الدنيا، وإنما شق الحساب يوم القيامة على قوم اخذوا هذا الامر (عن) (٢) غير محاسبة، إن المؤمن (يفجؤه) (٣) الشيء فيعجبه فيقول: والله إني لاشتهيك وإنك لمن حاجتي، ولكن والله ما من وصلة إليك، هيهات حيل بيني وبينك، ويفرط منه الشيء فيرجع إلى نفسه فيقول: ما اردت (إلى) (٤) هذا؟ (مالي) (٥) ولهذا، (مالي) (٦) (عذر بهذا) (٧) ، والله لا اعود إلى هذا ابدا إن شاء الله، إن المؤمنين قوم (اوثقهم القرآن) (٨) (وحال) (٩) بينهم وبين هلكتهم، إن المؤمن اسير في الدنيا، يسعى في فكاك رقبته، لا يامن شيئا حتى يلقى الله، يعلم انه ماخوذ عليه في ذلك كله.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (محاسب).
(٢) في [هـ]: (على).
(٣) في [جـ]: (يفجأه).
(٤) في [أ، ب]: (إلا).
(٥) في [جـ]: (مال).
(٦) في [جـ]: (مال).
(٧) في [أ، ب، س]: (غير هذا)، وفي [جـ، ع]: (عدد غير هذا)، وفي [هـ]: (عذر بها).
(٨) في [أ، ب، ع]: (أوبقهم الناس)، وفي [س]: (أولقهم الناس).
(٩) في [ب]: (وحا).

حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں بیشک مومن اپنے نفس پر نگران ہوتا ہے اور وہ خدا کے لیے اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے۔ اور قیامت کے دن حساب انہی لوگوں پر ہلکا ہوگا جو دنیا میں اپنے نفسوں کا محاسبہ کریں گے اور قیامت کے دن حساب انہی لوگون پر مشکل ہوگا جو اس بات کا محاسبہ نہیں کرتے۔ بیشک مومن کے پاس کوئی چیز اچانک آتی ہے تو وہ اس کو اچھی لگتی ہے اور وہ کہتا ہے۔ خدا کی قسم! مجھے تمہاری چاہت تھی۔ اور بیشک تم میری ضرورت کی چیز ہو۔ لیکن خدا کی قسم! تیری طرف کوئی رابطہ نہیں تھا۔ اور ایمان والے سے کوئی چیز ضائع ہوتی ہے تو وہ اپنے نفس کی طرف رجوع کرتا ہے اور کہتا ہے۔ میں نے تو اس کا ارادہ نہیں کیا تھا؟ مجھے اس سے کیا غرض ہے؟ میرے پاس اس کے علاوہ بھی ایک تعداد ہے۔ خدا کی قسم! میں اس کی طرف کبھی نہیں لوٹوں گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ یقینا اہل ایمان وہ لوگ ہیں جن کو قرآن نے پختہ کیا ہے اور ان کے اور ان کے ہلاک شدہ سامان کے درمیان حائل ہے۔ مومن دنیا میں قیدی ہوتا ہے جو اپنی گردن چھڑانے میں کوشاں رہتا ہے اور خدا تعالیٰ سے ملنے تک کسی شے سے مامون نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ وہ اس سب میں قابل مواخذہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37943]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37943، ترقيم محمد عوامة 36357)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 37943 in Urdu