مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
76. (باب أول ما فعل ومن فعله)
سب سے پہلے کون سا عمل کس نے کیا؟
ترقیم عوامۃ: 36955 ترقیم الشثری: -- 38551
٣٨٥٥١ - حدثنا ابو اسامة عن سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: بعث العلاء بن الحضرمي إلى رسول الله ﷺ بثمانمائة الف من خراج البحرين، وكان اول خراج قدم به على رسول الله ﷺ، فامر به (فنثر) (١) على حصير في المسجد، واذن المؤذن فخرج إلى الصلاة فصلى، ثم جاء إلى المال فمثل عليه قائما فلم يعط ساكتا ولم يمنع سائلا، فجعل الرجل يجيء فيقول: اعطني، فيقول:"خذ (قبضة) (٢) "، (ثم يجيء الرجل فيقول: اعطني، فيقول:"خذ قبضتين") (٣) ، ويجيء الرجل فيقول: اعطني، فيقول:"خذ ثلاث قبضات" فجاء العباس فقال: يا رسول الله اعطني من هذا المال، فإني اعطيت فداي وفداء عقيل يوم بدر، ولم يكن ⦗١٣٨⦘ لعقيل مال قال: فاخذ يبسط خميصة كانت عليه وجعل (يحثي) (٤) من المال، فحثى فيها ثم قام به فلم يطق حمله فقال: يا رسول الله احمل علي، فنظر إليه النبي ﷺ فتبسم حتى بدا ضاحكه، وقال:"انقص من المال وقم بقدر ما تطيق"، فلما ولى العباس قال: اما إحدى اللتين وعدنا الله فقد (انجز) (٥) لنا إحداهما، ونحن ننتظر الاخرى قوله تعالى: ﴿ (ياايها) (٦) النبي قل لمن في ايديكم من الاسرى إن يعلم الله في قلوبكم خيرا﴾ [الانفال: ٧٠] ، إلى آخر الآية، فقد انجزها الله لنا ونحن ننتظر الاخرى (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فنثرها).
(٢) في [جـ]: (قبضته).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [جـ]: (يحثو).
(٥) في [س]: (أنجد).
(٦) سقط من: [س].
(٧) مرسل؛ حميد بن هلال تابعي، أخرجه ابن سعد ٤/ ١٥، ويعقوب في المعرفة ١/ ٥٠٣، والبلاذري ص ٩٢، وأخرجه الحاكم ٣/ ٢٢٩ من طريق حميد بن هلال عن أبي بردة عن أبي موسى مرفوعًا.
حضرت حمید بن ہلال کہتے ہیں کہ حضرت علاء بن حضرمی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بحرین کے خراج میں سے آٹھ لاکھ درہم بھیجے۔ یہ پہلا خراج تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ نے حکم دیا اور اس مال کو مسجد میں ایک چٹائی بچھا کر اس پر ڈال دیا گیا۔ مؤذن نے اذان دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ پھر آپ اس مال کے پاس آئے اور اس کے پاس کھڑے ہوگئے، آپ نے کسی خاموش کو مال نہ دیا اور کسی مانگنے والے کو محروم نہ فرمایا۔ ایک آدمی آتا اور کہتا کہ مجھے عطا کیجئے آپ اس سے فرماتے کہ ایک مٹھی لے لو۔ پھر ایک آدمی آتا اور وہ کہتا کہ مجھے عطا کیجئے آپ اس سے فرماتے کہ دو مٹھیاں لے لو۔ پھر ایک آدمی آتا اور کہتا کہ مجھے عطا کیجئے آپ اس سے فرماتے کہ تم تین مٹھیاں لے لو۔ اتنے میں حضرت عباس آئے اور انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے بھی اس مال میں سے عطا کیجئے۔ میں نے غزوہ بدر میں اپنا اور عقیل کا فدیہ دیا تھا۔ جبکہ عقیل کے پاس مال نہیں تھا۔ پھر حضرت عباس اپنے موجود چادر میں وہ مال بھرنے لگے۔ چادر بھرنے کے بعد جب وہ اٹھانے لگے تو ان سے اٹھایا نہ گیا۔ انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! مجھ پر اسے لدوا دیجئے۔ آپ ان کی طرف دیکھ کر اتنا ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ مال کم کرلو اور اتنا اٹھاؤ جتنا اٹھاسکتے ہو۔ جب حضرت عباس چلے گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے جن دو چیزوں کا وعدہ فرمایا تھا ان میں سے ایک کو پورا کردیا۔ اور ہم دوسری کا انتظار کر رہے ہیں۔ پھر قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی { یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِمَنْ فِی أَیْدِیکُمْ مِنَ الأَسْرَی إنْ یَعْلَمِ اللَّہُ فِی قُلُوبِکُمْ خَیْرًا } اللہ تعالیٰ نے اس کو پورا کردیا اور ہم دوسری بات کے پورا ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38551]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38551، ترقيم محمد عوامة 36955)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 38551 in Urdu