🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. ما جاء في مبعث النبي ﷺ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بارے میں آنے والی روایات کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37710 ترقیم الشثری: -- 39314
٣٩٣١٤ - حدثنا عبيد الله قال: (اخبرنا) (١) إسرائيل عن ابي إسحاق عن ابي (ميسرة) (٢) ان رسول الله ﷺ كان إذا برز سمع من يناديه: يا محمد، فإذا سمع الصوت انطلق هاربا فاتى خديجة فذكر ذلك لها فقال:"يا خديجة قد خشيت ان يكون قد خالط عقلي شيء إني إذا برزت اسمع من (يناديني) (٣) فلا ارى شيئا فانطلق هاربا فإذا هو عندي يناديني"، فقالت: ما كان الله ليفعل بك ذلك، إنك ما (علمت) (٤) (تصدق) (٥) الحديث وتؤدي الامانة وتصل الرحم، فما كان (الله) (٦) ليفعل بك ذلك، فاسرت ذلك إلى ابي بكر -وكان نديما له في الجاهلية- فاخذ ابو بكر بيده، فانطلق به إلى ورقة فقال: وما ذاك؟ فحدثه بما حدثته خديجة، فاتى ورقة فذكر ذلك له، فقال ورقة: هل ترى شيئا؟ قال:"لا، ولكني إذا برزت سمعت النداء، (فلا ارى شيئا فانطلق هاربا فإذا هو عندي"، قال: فلا تفعل) (٧) ، فإذا سمعت النداء فاثبت حتى تسمع ما يقول لك، فلما برز سمع النداء: يا محمد، قال:"لبيك"، قال: ⦗٣٥٨⦘ (قل) (٨) : اشهد ان لا إله إلا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله، ثم قال له: قل: ﴿الحمد لله رب العالمين (٢) الرحمن الرحيم (٣) (مالك يوم الدين) (٩) ﴾ حتى فرغ من فاتحة الكتاب، ثم اتى ورقة، فذكر ذلك له، فقال له ورقة: ابشر ثم ابشر (ثم ابشر) (١٠) ، فإني اشهد انك الرسول الذي بشر به عيسى ﵇ (١١) (برسول) (١٢) ياتي من بعدي اسمه احمد، فانا اشهد انك (انت) (١٣) احمد، وانا اشهد انك محمد، وانا اشهد انك رسول الله، وليوشك ان تؤمر بالقتال، ولئن امرت بالقتال (وانا حي) (١٤) لاقاتلن معك، فمات ورقة فقال رسول الله ﷺ:" (رايت) (١٥) القس في الجنة عليه ثياب خضر" (١٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [ب]: (مسيره).
(٣) في [جـ]: (ينادي).
(٤) في [ب، جـ]: (عملت).
(٥) في [أ، ب]: (صدق).
(٦) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٧) في [جـ]: تكرر.
(٨) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) سقط من: [ب].
(١١) سقط من: [س، هـ].
(١٢) في [ق]: (رسول).
(١٣) سقط من: [ي].
(١٤) سقط من: [أ، ب].
(١٥) في [ق]: (أنه رأى).
(١٦) مرسل؛ أبو ميسرة عمر بن شرحبيل تابعي مخضرم، وأخرجه الثعلبي في التفسير ١٠/ ٢٤٤، وابن إسحاق في السيرة (١٥٧)، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ١٦٤، والآجري في الشريعة (٩٧٣)، وابن عساكر ٦٣/ ٧.

حضرت ابو میسرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کھلی جگہ میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آواز دینے والے کو سنتے جو آپ کو آواز دیتا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ آواز سنتے تو آپ دوڑتے ہوئے چلنے لگتے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی اور فرمایا: اے خدیجہ! مجھے ڈر لگتا ہے کہ میری عقل میں کوئی چیز خلط ہوگئی ہے۔ میں جب کھلی جگہ کی طرف نکلتا ہوں تو میں کسی منادی کو سنتا ہوں لیکن مجھے کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی پس میں دوڑا ہوا چلا آیا۔ ناگہاں وہ منادی میرے ساتھ ہی تھا اور وہ مجھے آواز دے رہا تھا۔ حضرت خدیجہ نے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا نہیں کرے گا۔ آپ کو جتنا میں جانتی ہوں تو آپ سچ بات کی تصدیق کرتے ہیں اور امانت کو ادا کرتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ایسا نہیں کرے گا۔ حضرت خدیجہ نے یہ بات خفیہ طور پر حضرت ابوبکر سے بیان کردی۔ ابوبکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاہلیت کے زمانہ میں دوست تھے۔ حضرت ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ورقہ کے پاس لے گئے۔ ورقہ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ آپ نے وہ ساری بات بیان کی جو حضرت خدیجہ نے آپ کو بتائی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ورقہ کے پاس آئے اور یہ واقعہ ذکر کیا ہے۔ ورقہ نے پوچھا؟ آپ نے کچھ دیکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! لیکن جب میں باہر نکلتا ہوں تو ایک آواز سنتا ہوں اور مجھے کوئی چیز دکھائی نہیں دی تو میں دوڑا ہوا چلا پس ناگہاں وہ منادی میرے ساتھ ہی تھا۔ ورقہ نے کہا: آپ (ایسا) نہ کریں۔ پس جب آپ آواز سنیں تو رُک جائیں یہاں تک کہ جو بات وہ آپ سے کہتا ہے اس کو سُن لیں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھلی جگہ کی طرف نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز سُنی: اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں حاضر! منادی نے کہا: کہیے! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر منادی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا { الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، الرَّحْمَن الرَّحِیمِ، مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ } فاتحہ شریف کے آخر تک پڑھایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ورقہ کے پاس تشریف لائے اور اس کے سامنے یہ بات ذکر کی تو ورقہ نے کہا: تمہیں بشارت ہو پھر تمہیں بشارت ہو پھر تمہیں بشارت ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ہی وہی رسول ہیں جن کی بشارت عیسیٰ نے دی تھی۔ (فرمایا تھا) ایسا رسول جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔ پس میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ احمد ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ محمد ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور قریب ہے کہ آپ کو قتال (جہاد) کا حکم دیا جائے اور اگر آپ کو قتال کا حکم دیا گیا اور میں زندہ ہوا تو البتہ ضرو ر بالضرور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں قتال کروں گا۔ پھر (اس کے بعد) ورقہ فوت ہوگئے۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: میں نے اس عیسائی عالم کو جنت کے اندر سبز کپڑوں میں دیکھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39314]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39314، ترقيم محمد عوامة 37710)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39314 in Urdu