🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. ما جاء في مبعث النبي ﷺ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بارے میں آنے والی روایات کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37708 ترقیم الشثری: -- 39312
٣٩٣١٢ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا عفان قال: حدثنا وهيب قال: حدثنا خالد الحذاء عن عبد الله بن شقيق ان رجلا سال النبي ﷺ متى كنت نبيا؟ قال:"كنت نبيا وآدم بين الروح والجسد" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) مرسل، عبد اللَّه بن شقيق تابعي، وأخرجه أحمد (١٦٦٢٣)، والحاكم ٢/ ٦٠٨، والطبراني ٢٠/ (٨٣٤)، وابن أبي عاصم في السنة (٤١٠)، والآجري في الشريعة ص ٤١٦، وأبو نعيم في الحلية ٩/ ٥٣، وابن قانع في معجم الصحابة ٣/ ١٣٠، وابن سعد ٧/ ٦٠، والطحاوي في شرح المشكل (٥٩٧٧)، والبيهقي في الدلائل ١/ ٨٤، وابن الأثير في أسد الغابة ٨/ ٢٨٥، والمزي ١٤/ ٣٦٠، والذهبي في معجم شيوخه ٢/ ١٣.

حضرت عبد اللہ بن شقیق روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا۔ آپ کب سے نبی (بنائے گئے) ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوابًا فرمایا: میں نبی تھا جبکہ آدم روح اور جسد کے درمیان تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39312]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39312، ترقيم محمد عوامة 37708)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37709 ترقیم الشثری: -- 39313
٣٩٣١٣ - حدثنا علي بن مسهر عن ابي إسحاق الشيباني عن عبد الله بن شداد ابن الهاد قال: نزل (جبريل) (١) على رسول الله ﷺ (فغمه) (٢) ثم قال (٣) : اقرا، قال:"وما اقرا؟"، قال: (فغمه) (٤) ، ثم قال (له) (٥) : اقرا، قال:"وما اقرا؟"، قال: ﴿اقرا باسم ربك الذي خلق﴾، فاتى خديجة فاخبرها بالذي راى، فاتت ورقة بن نوفل ⦗٣٥٧⦘ فذكرت ذلك له، فقال لها: هل راى زوجك صاحبه في حضر؟ قالت: نعم، قال: فإن زوجك نبي (و) (٦) سيصيبه من امته بلاء (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (جبرئيل).
(٢) سقط من: [هـ]: وفي [ق]: (فجمه).
(٣) في [ي]: زيادة (له).
(٤) في [هـ]: (فضمه).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) مرسل؛ عبد اللَّه بن شداد لم تثبت له رواية عن النبي ﷺ، أخرجه ابن بشكوال ١/ ٣٢٠، وابن جرير ٣٠/ ٢٥٢، وفي التاريخ ١/ ٥٣٢.

حضرت عبد اللہ بن شداد بن الہاد سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھانپ لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: پڑھو! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کیا پڑھوں؟ راوی کہتے ہیں۔ جبرائیل نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھانپ لیا اور کہا: پڑھو! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کیا پڑھوں؟ جبرائیل نے کہا: { اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ } آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے اور جو کچھ دیکھا تھا۔ اس کی حضرت خدیجہ کو خبر دی۔ وہ ورقہ بن نوفل کے پاس حاضر ہوئیں اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی۔ ورقہ نے خدیجہ سے کہا: کیا تمہارے شوہر نے اپنے اس ساتھی کو حضر میں دیکھا ہے؟ خدیجہ نے کہا: ہاں! ورقہ نے کہا: پھر (تو) تیرا شوہر نبی ہے اور ان کو عنقریب اپنی امت کی طرف سے آزمائش آئے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39313]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39313، ترقيم محمد عوامة 37709)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37710 ترقیم الشثری: -- 39314
٣٩٣١٤ - حدثنا عبيد الله قال: (اخبرنا) (١) إسرائيل عن ابي إسحاق عن ابي (ميسرة) (٢) ان رسول الله ﷺ كان إذا برز سمع من يناديه: يا محمد، فإذا سمع الصوت انطلق هاربا فاتى خديجة فذكر ذلك لها فقال:"يا خديجة قد خشيت ان يكون قد خالط عقلي شيء إني إذا برزت اسمع من (يناديني) (٣) فلا ارى شيئا فانطلق هاربا فإذا هو عندي يناديني"، فقالت: ما كان الله ليفعل بك ذلك، إنك ما (علمت) (٤) (تصدق) (٥) الحديث وتؤدي الامانة وتصل الرحم، فما كان (الله) (٦) ليفعل بك ذلك، فاسرت ذلك إلى ابي بكر -وكان نديما له في الجاهلية- فاخذ ابو بكر بيده، فانطلق به إلى ورقة فقال: وما ذاك؟ فحدثه بما حدثته خديجة، فاتى ورقة فذكر ذلك له، فقال ورقة: هل ترى شيئا؟ قال:"لا، ولكني إذا برزت سمعت النداء، (فلا ارى شيئا فانطلق هاربا فإذا هو عندي"، قال: فلا تفعل) (٧) ، فإذا سمعت النداء فاثبت حتى تسمع ما يقول لك، فلما برز سمع النداء: يا محمد، قال:"لبيك"، قال: ⦗٣٥٨⦘ (قل) (٨) : اشهد ان لا إله إلا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله، ثم قال له: قل: ﴿الحمد لله رب العالمين (٢) الرحمن الرحيم (٣) (مالك يوم الدين) (٩) ﴾ حتى فرغ من فاتحة الكتاب، ثم اتى ورقة، فذكر ذلك له، فقال له ورقة: ابشر ثم ابشر (ثم ابشر) (١٠) ، فإني اشهد انك الرسول الذي بشر به عيسى ﵇ (١١) (برسول) (١٢) ياتي من بعدي اسمه احمد، فانا اشهد انك (انت) (١٣) احمد، وانا اشهد انك محمد، وانا اشهد انك رسول الله، وليوشك ان تؤمر بالقتال، ولئن امرت بالقتال (وانا حي) (١٤) لاقاتلن معك، فمات ورقة فقال رسول الله ﷺ:" (رايت) (١٥) القس في الجنة عليه ثياب خضر" (١٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [ب]: (مسيره).
(٣) في [جـ]: (ينادي).
(٤) في [ب، جـ]: (عملت).
(٥) في [أ، ب]: (صدق).
(٦) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٧) في [جـ]: تكرر.
(٨) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) سقط من: [ب].
(١١) سقط من: [س، هـ].
(١٢) في [ق]: (رسول).
(١٣) سقط من: [ي].
(١٤) سقط من: [أ، ب].
(١٥) في [ق]: (أنه رأى).
(١٦) مرسل؛ أبو ميسرة عمر بن شرحبيل تابعي مخضرم، وأخرجه الثعلبي في التفسير ١٠/ ٢٤٤، وابن إسحاق في السيرة (١٥٧)، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ١٦٤، والآجري في الشريعة (٩٧٣)، وابن عساكر ٦٣/ ٧.

حضرت ابو میسرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کھلی جگہ میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آواز دینے والے کو سنتے جو آپ کو آواز دیتا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ آواز سنتے تو آپ دوڑتے ہوئے چلنے لگتے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی اور فرمایا: اے خدیجہ! مجھے ڈر لگتا ہے کہ میری عقل میں کوئی چیز خلط ہوگئی ہے۔ میں جب کھلی جگہ کی طرف نکلتا ہوں تو میں کسی منادی کو سنتا ہوں لیکن مجھے کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی پس میں دوڑا ہوا چلا آیا۔ ناگہاں وہ منادی میرے ساتھ ہی تھا اور وہ مجھے آواز دے رہا تھا۔ حضرت خدیجہ نے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا نہیں کرے گا۔ آپ کو جتنا میں جانتی ہوں تو آپ سچ بات کی تصدیق کرتے ہیں اور امانت کو ادا کرتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ایسا نہیں کرے گا۔ حضرت خدیجہ نے یہ بات خفیہ طور پر حضرت ابوبکر سے بیان کردی۔ ابوبکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاہلیت کے زمانہ میں دوست تھے۔ حضرت ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ورقہ کے پاس لے گئے۔ ورقہ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ آپ نے وہ ساری بات بیان کی جو حضرت خدیجہ نے آپ کو بتائی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ورقہ کے پاس آئے اور یہ واقعہ ذکر کیا ہے۔ ورقہ نے پوچھا؟ آپ نے کچھ دیکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! لیکن جب میں باہر نکلتا ہوں تو ایک آواز سنتا ہوں اور مجھے کوئی چیز دکھائی نہیں دی تو میں دوڑا ہوا چلا پس ناگہاں وہ منادی میرے ساتھ ہی تھا۔ ورقہ نے کہا: آپ (ایسا) نہ کریں۔ پس جب آپ آواز سنیں تو رُک جائیں یہاں تک کہ جو بات وہ آپ سے کہتا ہے اس کو سُن لیں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھلی جگہ کی طرف نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز سُنی: اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں حاضر! منادی نے کہا: کہیے! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر منادی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا { الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، الرَّحْمَن الرَّحِیمِ، مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ } فاتحہ شریف کے آخر تک پڑھایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ورقہ کے پاس تشریف لائے اور اس کے سامنے یہ بات ذکر کی تو ورقہ نے کہا: تمہیں بشارت ہو پھر تمہیں بشارت ہو پھر تمہیں بشارت ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ہی وہی رسول ہیں جن کی بشارت عیسیٰ نے دی تھی۔ (فرمایا تھا) ایسا رسول جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔ پس میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ احمد ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ محمد ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور قریب ہے کہ آپ کو قتال (جہاد) کا حکم دیا جائے اور اگر آپ کو قتال کا حکم دیا گیا اور میں زندہ ہوا تو البتہ ضرو ر بالضرور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں قتال کروں گا۔ پھر (اس کے بعد) ورقہ فوت ہوگئے۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: میں نے اس عیسائی عالم کو جنت کے اندر سبز کپڑوں میں دیکھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39314]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39314، ترقيم محمد عوامة 37710)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37711 ترقیم الشثری: -- 39315
٣٩٣١٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن الحسن قال: (ابتعث) (١) الله النبي ﷺ (٢) مرة لإدخال رجل الجنة، قال: فمر على (كنيسة) (٣) ⦗٣٥٩⦘ من كنائس اليهود فدخل إليهم وهم يقرؤون سفرهم، فلما راوه اطبقوا السفر وخرجوا، (و) (٤) في ناحية من الكنيسة رجل يموت قال: فجاء إليه فقال: إنما منعهم ان (يقرؤا) (٥) انك اتيتهم وهم يقرؤن (نعت) (٦) نبي هو نعتك، ثم جاء إلى السفر ففتحه ثم قرا فقال: اشهد ان لا إله إلا الله وان محمدا رسول الله ﷺ، (ثم قبض فقال رسول الله ﷺ) (٧) :"دونكم اخاكم"، (قال) (٨) : فغسلوه وكفنوه وحنطوه ثم صلى عليه (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (انبعث).
(٢) في [س، هـ]: ﵊.
(٣) في [ب، س]: (كنيسته).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [ق]: (يقرءون).
(٦) في [أ، ب، س]: (بعث).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) سقط من: [س].
(٩) مرسل ضعيف؛ الحسن تابعي، وعطاء اختلط.

حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک آدمی کو جنت میں داخل کرنے کے لئے بھیجا۔ راوی کہتے ہیں: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہود کی عبادت گاہوں میں سے ایک عبادت گاہ کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اس وقت وہ لوگ اپنی کتاب پڑھ رہے تھے۔ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو کتاب کو بند کردیا اور باہر نکل گئے۔ عبادت گاہ کے ایک کونہ میں ایک آدمی مر نے کے قریب پڑا ہوا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آدمی کے پاس تشریف لائے تو اس آدمی نے عرض کیا۔ ان لوگوں (یہود) کو پڑھنے سے اس بات نے منع کیا ہے کہ آپ ان کے پاس تشریف لائے ہیں اور یہ لوگ (اس وقت) ایک نبی کی صفات پڑھ رہے تھے۔ جو کہ آپ ہی ہیں۔ پھر وہ آدمی کتاب کے پاس آیا۔ اس کو کھولا اور پڑھا تو کہا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ پھر اس آدمی کی روح قبض ہوگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’؛ اپنے بھائی کو سنبھالو۔ راوی کہتے ہیں: پھر صحابہ نے اس کو غسل دیا اور کفن دیا اور حنوط لگایا پھر اس پر جنازہ پڑھا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39315]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39315، ترقيم محمد عوامة 37711)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37712 ترقیم الشثری: -- 39316
٣٩٣١٦ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن انس ان رسول الله ﷺ اتاه (جبريل) (١) وهو يلعب مع الغلمان، فاخذه فصرعه فشق عن قلبه، فاستخرج القلب ثم استخرج علقة منه فقال: هذا حظ الشيطان منك، ثم غسله في (طست) (٢) من ذهب بماء زمزم، ثم لامه ثم اعاده في مكانه، قال: وجاء الغلمان يسعون إلى امه -يعني: (ظئره) (٣) ، (فقالوا) (٤) : إن محمدا (٥) - قد قتل، (قال) (٦) : ⦗٣٦٠⦘ فاستقبلوه وهو منتقع اللون، قال انس: لقد كنت ارى اثر (المخيط) (٧) في صدره (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق، هـ]: (جبرئيل).
(٢) في [أ، ب، س]: (طشت).
(٣) في [س]: (ظئبرة).
(٤) في [جـ]: (قال).
(٥) في [أ، جـ]: زيادة ﷺ
(٦) سقط من: [س].
(٧) في [ق]: (الخيط).
(٨) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٦٢)، وأحمد ٣/ ١٤٩ (١٢٥٢٨).

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل آئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑا اور زمین پر لٹا دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ مبارک شق کیا اور قلب مبارک کو باہر نکالا پھر قلب مبارک سے ایک لوتھڑا نکالا اور فرمایا۔ یہ آپ کے (دل میں) سے شیطان کا حصہ ہے۔ پھر جبرائیل نے دل کو ایک سونے کے طشت میں ماء زمزم سے دھویا پھر جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل کو سیا پھر اس کو اس کی جگہ میں واپس رکھ دیا۔ راوی کہتے ہیں: بچے دوڑتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امی، دائی، کے پاس آئے اور کہا: محمد قتل کردیئے گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ میں سُوئی کے اثرات دیکھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39316]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39316، ترقيم محمد عوامة 37712)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37713 ترقیم الشثری: -- 39317
٣٩٣١٧ - حدثنا (ابو اسامة عن) (١) محمد بن ابي حفصة عن الزهري عن ابي سلمة عن جابر (قال) (٢) : احتبس الوحي عن النبي ﷺ (٣) في اول امره، وحبب إليه الخلاء، (فجعل) (٤) يخلو في حراء، فبينما هو مقبل من حراء قال:"إذا انا (بحس) (٥) فوقي فرفعت راسي، فإذا انا بشيء على كرسي، فلما رايته (جئثت) (٦) إلى الارض واتيت (اهلي) (٧) بسرعة فقلت: (دثروني) (٨) (دثروني) (٩) فاتاني جبريل (١٠) فجعل يقول: ﴿ياايها المدثر (١) قم فانذر (٢) وربك فكبر (٣) وثيابك فطهر (٤) والرجز فاهجر﴾" (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [س، هـ]: ﵊.
(٤) في [أ، ب]: (وجعل).
(٥) أي: بصوت، وفي [ي]: (بحبس).
(٦) في [أ، ب، ق]: (حثيت)، وسقط من: [جـ].
(٧) في [جـ]: (أهل).
(٨) سقط من: [ي]، وفي [أ]: (دثرني).
(٩) سقط من: [ي]، وفي [أ]: (دثرني).
(١٠) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﵇.
(١١) حسن؛ ابن أبي حفصة صدوق على الصحيح، والحديث أخرجه البخاري (٤٩٢٢)، ومسلم (١٦١).

حضرت جابر کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شروع شروع میں وحی بند ہوگئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خلوت محبوب ہوگئی پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حِرا میں خلوت گزین ہوجاتے۔ پس اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرا کے سامنے تھے، فرمایا: جب میں نے اپنے اوپر سے ہلکی آواز سُنی تو میں نے اپنا سر اٹھایا۔ تو مجھے اچانک کرسی پر کوئی چیز دکھائی دی پس جب میں نے اسے دیکھا تو گھبرا کر زمین کی طرف دیکھا اور میں اپنے گھر والوں کے پاس جلدی جلدی آیا اور میں نے کہا۔ مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو۔ پھر میرے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے کہنا شروع کیا: { یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ، قُمْ فَأَنْذِرْ، وَرَبَّک فَکَبِّرْ، وَثِیَابَک فَطَہِّرْ، وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39317]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39317، ترقيم محمد عوامة 37713)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37714 ترقیم الشثری: -- 39318
٣٩٣١٨ - حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى عن داود عن عكرمة في قوله: ﴿ياايها المدثر﴾ قال: دثرت هذا الامر فقم به، وقوله: ﴿ياايها المزمل﴾ قال: زملت هذا الامر فقم به (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ عكرمة تابعي، والخبر أخرجه ابن جرير في التفسير ٢٩/ ١٤٤، وورد من طريق عكرمة عن ابن عباس عند الحاكم ٢/ ٥٤٩.
حضرت عکرمہ سے قول خداوندی { یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ } کے بارے میں منقول ہے فرمایا: تجھے یہ معاملہ اوڑھا دیا گیا ہے پس تو اس کو لے کر کھڑا ہوجا۔ اور قول خداوندی { یَا أَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ } کے بارے میں منقول ہے کہ تمہیں یہ معاملہ لپیٹ دیا گیا ہے پس تم اس کو لے کر کھڑے ہو جاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39318]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39318، ترقيم محمد عوامة 37714)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں