🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. حديث المعراج حين أسري بالنبي ﷺ
معراج کی احادیث، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء کروایا گیا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37727 ترقیم الشثری: -- 39331
٣٩٣٣١ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا عوف (عن) (١) زرارة بن اوفى قال: قال ابن عباس: قال رسول الله ﷺ:"لما كان ليلة اسري بي اصبحت بمكة ⦗٣٧٤⦘ قال: (فظعت) (٢) بامري وعرفت ان الناس مكذبي"، فقعد رسول الله ﷺ معتزلا حزينا، فمر به ابو جهل فجاء حتى جلس إليه فقال كالمستهزئ: هل كان من شيء؟ قال:"نعم"، قال: وما هو؟ قال:"اسري بي الليلة"، قال: إلى اين؟ قال:"إلى بيت المقدس"، قال: ثم اصبحت بين اظهرنا؟ قال:"نعم"، فلم (يره) (٣) انه يكذبه مخافة ان يجحد الحديث إن دعا قومه إليه، قال: اتحدث قومك ما حدثتني إن دعوتهم إليك؟ قال:"نعم"، قال: هيا معشر بني كعب بن لؤي هلم، قال: فتنفضت المجالس فجاؤوا حتى جلسوا إليهما، فقال: حدث قومك ما حدثتني، قال رسول الله ﷺ:"إني اسري بي الليلة"، قالوا: إلى اين؟ قال:"إلى بيت المقدس"، قالوا: ثم اصبحت بين (ظهرانينا؟) (٤) قال:"نعم"، قال: فمن بين مصفق ومن بين واضع (يده) (٥) على راسه متعجبا (للكذب) (٦) زعم، وقالوا: اتستطيع ان تنعت لنا المسجد؟ قال: وفي القوم من سافر إلى ذلك البلد وراى المسجد، قال رسول الله ﷺ:"فذهبت انعت لهم، فما زلت انعت (وانعت) (٧) حتى التبس علي بعض النعت، فجيء بالمسجد وانا انظر إليه حتى وضع دون دار عقيل او دار عقال، (فنعته) (٨) وانا انظر إليه"، فقال القوم: اما النعت فوالله لقد اصاب (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (ابن).
(٢) في [أ، ب، س، ق]: (قطعت).
(٣) في [جـ]: (ير)، وفي [هـ]: (يرد).
(٤) في [س]: (أظهرينا)، وفي [جـ، ي]: (ظهرينا).
(٥) في [س]: (يديه).
(٦) في [ق]: (للذي).
(٧) سقط من: [ط، هـ].
(٨) في [س]: تكرر.
(٩) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٨١٩)، والنسائي في الكبرى (١١٢٨٥)، والطبراني (١١٧٨٢)، والبزار (٥٦/ كشف)، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٣٦٣، والفاكهي (٢١٠٠)، والضياء في المختارة ١٠/ ٣٩، وابن عساكر ٤١/ ٢٣٥، وأبو نعيم في الدلائل (٧٥)، والحارث (٢١/ بغية)، والآجري في الشريعة (١٠٢٩).

حضرت زرارہ بن اوفی روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس رات کو مجھے اسراء کروایا گیا میں نے (اس کی) صبح مکہ میں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ میں اپنے معاملہ (معراج) کی وجہ سے گھبرایا ہوا تھا اور میں جانتا تھا کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علیحدہ اور غمگین ہو کر بیٹھ گئے تو ابو جہل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور استہزاء کرنے والے کی طرح پوچھا: کیا کچھ (نئی) بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ابو جہل نے پوچھا: کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے آج کی رات سیر کروائی گئی ہے۔ ابو جہل نے پوچھا: کہاں کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیت المقدس کی طرف۔ ابو جہل نے کہا۔ پھر (سیر کے بعد) آپ نے صبح ہمارے درمیان کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! ابو جہل کی رائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کی نہ ہوئی۔ اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم کو بلائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کا انکار نہ کردیں۔ ابو جہل نے کہا۔ اگر میں تمہاری قوم کو تمہاری طرف بلاؤں تو کیا تم انہیں بھی وہ بات بیان کروگے جو تم نے مجھے بیان کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! ابو جہل نے کہا: اے بنی کعب بن لوی کی جماعتو! آ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ پس تمام لوگ آگئے یہاں تک کہ لوگ ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے۔ تو ابو جہل نے کہا۔ جو بات آپ نے مجھے بیان کی تھی وہ بات اپنی قوم کے سامنے بیان کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے آج کی رات سیر کروائی گئی ہے۔ لوگوں نے پوچھا: کہاں کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیت المقدس کی۔ لوگوں نے کہا۔ پھر آپ نے صبح ہمارے درمیان کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! راوی کہتے ہیں: کچھ لوگ، تالیاں بجانے لگے اور کچھ لوگوں نے اس بات کو جھوٹ سمجھ کر تعجب کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو اپنے سر پر رکھ لیا۔ اور کہا: کیا آپ ہمارے لئے مسجد (اقصیٰ) کی نعت (صفت) بیان کرسکتے ہیں؟ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں افراد بھی تھے جنہوں نے اس شہر کا سفر کیا تھا اور مسجد اقصیٰ کو دیکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ پس میں نے ان کے لئے (مسجد کی) صفت بیان کرنا شروع کی۔ اور میں مسلسل صفت بیان کرتا رہا۔ یہاں تک کہ بعض اوصافِ مسجد مجھ پر ملتبس ہوگئے تو مسجد کو (سامنے) لایا گیا اور میں مسجد کو دیکھنے لگا۔ یہاں تک کہ مسجد کو دارعقیل یا دارعقال سے پرے رکھ دیا گیا۔ پس میں نے مسجد کی نعت (صفت) بیان کی جبکہ میں مسجد کی طرف دیکھ رہا تھا۔ لوگوں نے کہا۔ (مسجد کی) صفت تو بخدا بالکل درست (بیان کی) ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39331]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39331، ترقيم محمد عوامة 37727)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39331 in Urdu