🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. حديث المعراج حين أسري بالنبي ﷺ
معراج کی احادیث، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء کروایا گیا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37728 ترقیم الشثری: -- 39332
٣٩٣٣٢ - حدثنا عفان (قال) (١) : حدثنا حماد بن سلمة عن عاصم عن زر عن حذيفة بن اليمان ان رسول الله ﷺ اتي بالبراق وهو دابة ابيض طويل، يضع (حافره) (٢) عند منتهى طرفه، قال: فلم يزايل ظهره هو وجبريل حتى اتيا بيت المقدس، وفتحت (لهما) (٣) ابواب السماء، (وراى) (٤) الجنة والنار (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [س]: (حاضره).
(٣) في [أ، ب]: (لها).
(٤) في [هـ]: (رأيا).
(٥) ضعيف؛ لضعف عاصم في زر، أخرجه أحمد (٢٣٣٤٣)، والترمذي (٣١٤٧)، والنسائي في الكبرى (١١٢٨٠)، وابن حبان (٤٥)، والحاكم ٢/ ٣٥٩، والحميدي (٤٤٨)، والطيالسي (٤١١)، والبزار (٢٩١٥)، والطحاوي في شرح المشكل (٥٠١٤)، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٣٦٤، وابن جرير في التفسير ١٥/ ١٥.

حضرت زر، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس براق لائی گئی۔ یہ ایک طویل سفید رنگ کا جانور تھا جو منتہی نظر پر قدم رکھتا تھا۔ راوی کہتے ہیں: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جبرائیل اس کی پشت پر سوار رہے یہاں تک کہ دونوں بیت المقدس پہنچ گئے اور ان کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے گئے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت اور جہنم کو دیکھا۔ راوی کہتے ہیں: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز ادا نہیں کی۔ حضرت زر کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ کیوں نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے گنجے! تیرا نام کیا ہے؟ میں تیری شکل سے واقف ہوں لیکن تیرے نام سے واقف نہیں ہوں؟ حضرت زر کہتے ہیں۔ میں نے جواباً کہا: زر بن حبیش۔ راوی کہتے ہیں۔ اس نے کہا: ارشاد خداوندی ہے۔ { سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إلَی الْمَسْجِدِ الأَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا، إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ } حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (وہاں) نماز پڑھتے ہوئے پایا ہے؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس میں نماز پڑھتے تو ہم (بھی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھتے جیسا کہ ہم مسجد حرام میں نماز پڑھتے ہیں۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانور کو اس کڑے کے ساتھ باندھا جس کے ساتھ انبیاء باندھا کرتے تھے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا خوف تھا کہ وہ چلا جائے گا حالانکہ اس کو تو اللہ تعالیٰ لائے تھے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39332]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39332، ترقيم محمد عوامة 37728)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39332 in Urdu