مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
20. ما قالوا: في مهاجر النبي ﷺ وأبي بكر وقدوم من قدم
جو باتیں محدثین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
ترقیم عوامۃ: 37765 ترقیم الشثری: -- 39370
٣٩٣٧٠ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: اخبرنا إسرائيل عن ابي إسحاق عن البراء بن عازب قال: اشترى ابو بكر من (عازب) (١) (رحلا) (٢) بثلاثة عشر ⦗٤٠٠⦘ درهما فقال ابو بكر لعازب: مر البراء فليحمله إلى رحلي، فقال له عازب: (لا) (٣) ، حتى (تحدثنا) (٤) كيف صنعت انت ورسول الله ﷺ حيث خرجتما والمشركون يطلبونكما. قال: رحلنا من مكة فاحيينا ليلتنا ويومنا حتى اظهرنا، وقام قائم الظهيرة فرميت ببصري هل ارى من ظل ناوي إليه، فإذا انا بصخرة فانتهينا إليها، (فإذا) (٥) بقية ظل لها، فنظرت (بقية) (٦) ظل (لها) (٧) فسويته ثم فرشت لرسول الله ﷺ (فيه) (٨) فروة، ثم قلت: اضطجع يا رسول الله فاضطجع. ثم ذهبت انقض ما حولي هل ارى من الطلب احدا، فإذا انا براعي غنم يسوق غنمه إلى الصخرة، يريد منها الذي اريد فسالته فقلت: لمن انت يا غلام؟ فقال: لرجل من قريش، قال: فسماه فعرفته، فقلت: هل في غنمك من لبن؟ قال: نعم، قلت: هل انت (٩) (حالب لي) (١٠) قال: نعم. قال: فامرته فاعتقل شاة من غنمه فامرته ان ينفض ضرعها من الغبار، ثم امرته ان ينفض كفيه، فقال: هكذا، فضرب إحدى يديه بالاخرى، فحلب كثبة من لبن، ومعي لرسول الله ﷺ إداوة على فمها خرقة، فصببت على اللبن حتى برد اسفله. ⦗٤٠١⦘ فاتيت رسول الله ﷺ فوافقته قد استيقظ فقلت: اشرب يا رسول الله، فشرب رسول الله ﷺ حتى رضيت. ثم قلت: انى الرحيل يا رسول الله، فارتحلنا والقوم يطلبوننا، فلم يدركنا احد منهم غير سراقة بن مالك بن (جعشم) (١١) على فرس له، فقلت: هذا الطلب قد لحقنا يا رسول الله (١٢) وبكيت فقال:"ما يبكيك؟" فقلت: اما والله ما على نفسي ابكي ولكني ابكي عليك، قال: فدعا عليه رسول الله ﷺ فقال:"اللهم اكفناه بما شئت"، قال: فساخت به فرسه في الارض إلى بطنها، فوثب عنها ثم قال: يا محمد قد علمت ان هذا عملك، فادع الله ان ينجيني مما انا فيه، فوالله لاعمين على من ورائي من الطلب، وهذه كنانتي فخذ سهما منهما فإنك ستمر على إبلي وغنمي بمكان كذا وكذا فخذ منها حاجتك، فقال رسول الله ﷺ:"لا حاجة لنا في إبلك". وانصرف عن رسول الله ﷺ (ودعا له رسول الله ﷺ) (١٣) ، وانطلق راجعا إلى اصحابه، ومضى رسول الله ﷺ وانا معه حتى قدمنا المدينة ليلا، فتنازعه القوم: ايهم ينزل عليه، فقال رسول الله ﷺ:"إني انزل الليلة على بني النجار اخوال عبد المطلب، اكرمهم بذلك"، فخرج الناس حتى دخل المدينة، وفي الطريق وعلى البيوت الغلمان والخدم (١٤) جاء محمد (١٥) جاء رسول الله، فلما اصبح انطلق فنزل حيث (امره) (١٦) (الله) (١٧) . ⦗٤٠٢⦘ (١٨) وكان رسول الله ﷺ قد صلى نحو بيت المقدس ستة عشر شهرا او سبعة عشر شهرا، وكان رسول الله ﷺ يحب ان يوجه نحو الكعبة فانزل الله: ﴿قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام﴾ [البقرة: ١٤٤] ، قال: فوجه نحو الكعبة، وقال السفهاء من الناس: ﴿ما ولاهم عن قبلتهم التي كانوا عليها قل لله المشرق والمغرب يهدي من يشاء إلى صراط مستقيم﴾ [البقرة: ١٤٢] . قال: وصلى مع النبي ﵊ (١٩) رجل ثم خرج بعد ما صلى، فمر على قوم من الانصار وهم ركوع في صلاة العصر نحو بيت المقدس فقال: هو يشهد انه صلى مع النبي ﷺ، وانه قد وجه نحو الكعبة، قال: فانحرف القوم حتى وجهوا نحو الكعبة. قال البراء: وكان نزل علينا من المهاجرين مصعب بن عمير اخو بني عبد الدار بن قصي، فقلنا له: ما فعل رسول الله ﷺ؟ (فقال) (٢٠) : هو ومكانه واصحابه على اثري، ثم اتانا (بعده) (٢١) عمرو بن ام مكتوم اخو بني فهر الاعمى، فقلنا له: ما فعل من (وراءك) (٢٢) رسول الله (٢٣) واصحابه؟ فقال: هم على اثري. ثم اتانا (بعده عمار بن ياسر وسعد بن ابي وقاص وعبد الله بن مسعود وبلال، ثم اتانا) (٢٤) عمر بن الخطاب من بعدهم في عشربن راكبا، ثم اتانا بعدهم ⦗٤٠٣⦘ رسول الله ﷺ وابو بكر معه، فلم يقدم علينا حتى قرات سورا من سور المفصل، ثم خرجنا حتى نتلقى العير فوجدناهم قد حذروا (٢٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عارب).
(٢) في [جـ، س، ق]: (رجلًا).
(٣) سقط من: [أ].
(٤) في [ق]: (تحدثني).
(٥) في [ق]: (نظرت).
(٦) في [هـ]: (بقبة).
(٧) سقط من: [ط، هـ].
(٨) سقط من: [ق].
(٩) في [أ، ب]: زيادة (مأذون).
(١٠) في [أ، ب]: (بالحلب فتحلب لي).
(١١) في [ب، ي]: (جعثم).
(١٢) في [هـ]: زيادة (فقال: لا تحزن إن اللَّه معنا، حتى إذا دنا منا فكان بيننا وبينه قدر رمح أو رمحين أو ثلاثة، قال: قلت: يا رسول اللَّه هذا الطلب قد لحقنا).
(١٣) سقط من: [ع].
(١٤) في [ق]: زيادة (يقولون).
(١٥) في [أ، ب، جـ، ق]: زيادة ﷺ.
(١٦) في [س]: (أمر).
(١٧) سقط من: [أ، ب].
(١٨) في [أ، ب]: زيادة (قال: وقد)، وفي [جـ]: (قال).
(١٩) في [أ، ب، جـ]: ﷺ.
(٢٠) هكذا في: [ق، هـ]، وفي بقية النسخ: (فقلت).
(٢١) في [ق، هـ]: (بعد).
(٢٢) في [ي]: (وراك).
(٢٣) في [أ، ب، جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٢٤) سقط من: [هـ].
(٢٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٦١٥)، ومسلم (٢٠٠٩).
حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے حضرت عازب سے ایک سامانِ سفر تیرہ درہموں میں خریدا۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عازب سے کہا۔ آپ براء کو حکم دیں کہ وہ اس کو میرے کجاوہ تک اٹھا کرلے آئے۔ حضرت عازب نے حضرت صدیق اکبر سے کہا۔ نہیں! یہاں تک کہ آپ ہمیں بتائیں کہ آپ نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کیا تھا۔ جب آپ لوگ نکلے تھے اور مشرکین تمہیں تلاش کر رہے تھے۔ ٢۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا: ہم نے مکہ سے کوچ کیا تو ہم ایک رات اور دن جاگ کر چلتے رہے یہاں تک کہ ہمیں دوپہر ہوگئی اور زوال کا وقت ہوگیا۔ میں نے نظر دوڑائی کہ کیا مجھے کوئی سایہ دکھائی دیتا ہے جس کی طرف ہم ٹھکانہ پکڑیں تو اچانک مجھے ایک چٹان دکھائی دی پس ہم اس کی طرف پہنچے۔ اس کا کچھ سایہ باقی تھا۔ میں نے اس کے بقیہ سایہ کو دیکھا اور اس (کی جگہ) کو درست کیا پھر میں نے اس سایہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے چمڑا بچھایا۔ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! لیٹ جائیے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹ گئے۔ پھر میں نے اپنے ارد گرد میں دیکھ بھال شروع کردی کہ کیا مجھے کوئی متلاشی دکھائی دیتا ہے تو اچانک مجھے ایک چرواہا دکھائی دیا جو اپنی بکریوں کو اسی چٹان کی طرف ہانک رہا تھا۔ اس کا چٹان سے وہی مقصد تھا جو میرا مقصود تھا۔ میں نے اس سے پوچھا: میں نے کہا: اے لڑکے! تم کس کے ہو؟ اس نے جواب دیا۔ قریش کے ایک آدمی کا۔ ابوبکر فرماتے ہیں۔ اس غلام نے آدمی کا نام لیا تو میں اس کو پہچان گیا۔ ٣۔ میں نے پوچھا: کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے جواب دیا: ہاں! میں نے کہا: کیا تم میرے لئے دودھ نکال دو گے؟ اس نے کہا: ہاں! حضرت ابوبکر کہتے ہیں: میں نے اس کو حکم دیا تو اس نے ایک بکری اپنی بکریوں میں سے قابو کرلی۔ پھر میں نے اس کو بکری کے تھنوں سے غبار جھاڑنے کا حکم دیا۔ پھر میں نے اس کو حکم دیا کہ وہ اپنی ہتھیلیوں کو جھاڑے۔ اس نے کہا: یوں؟ پھر اس نے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے کو مارا پھر اس نے تھوڑا سا دودھ دوہا۔ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے پانی کا ایک برتن تھا جس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ میں نے دودھ پر بہا دیا یہاں تک کہ وہ نیچے سے ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوچکے تھے۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! نوش فرمائیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرمایا یہاں تک کہ میں خوش ہوگیا۔ ٤۔ پھر میں نے عرض کیا۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا! کوچ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ پھر ہم نے کوچ کیا حالانکہ لوگ ہماری تلاش میں تھے۔ ان لوگوں میں سے سراقہ بن مالک بن جعشم کے سوا ہمیں کسی نے نہیں پایا۔ وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ متلاشی ہم تک پہنچ گیا ہے۔ اور میں (یہ کہہ کر) رو پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا بات رلا رہی ہے؟ میں نے عرض کیا۔ بخدا! میں اپنی جان (کے خوف سے) نہیں رو رہا لیکن مجھے آپ (کی جان) پر رونا آ رہا ہے۔ ابوبکر فرماتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سراقہ کے لئے بد دعا فرمائی اور کہا۔ اے اللہ! تو اس کو ہماری طرف سے جس طرح تو چاہے۔ کافی ہوجا۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں۔ پس سراقہ کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ سراقہ نے گھوڑے سے چھلانگ لگائی۔ پھر اس نے کہا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! مجھے معلوم ہے کہ یہ آپ ہی کا کام ہے۔ پس آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اس مصیبت سے نجات دے دے۔ بخدا! میں اپنے پچھلے متلاشیوں پر (اس بات کو) ضرور پوشیدہ رکھوں گا۔ اور یہ میرا ترکش ہے آپ اس میں سے تیر لے لیں۔ اور آپ عنقریب فلاں جگہ پر میرے اونٹ اور بکریوں پر سے گزریں گے آپ ان میں سے بھی اپنی ضرورت کا لے لیجئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمیں تیرے اونٹوں کی ضرورت نہیں۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے واپس مڑا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لئے دعا فرمائی۔ سراقہ واپس اپنے ساتھیوں میں چلا گیا۔ ٥۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے رہے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ یہاں تک کہ ہم رات کے وقت مدینہ میں پہنچے۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں جھگڑا شروع کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس کے گھر میں اتریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آج کی رات میں بنی نجار میں اتروں گا جو کہ عبد المطلب کے ماموں ہ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39370]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39370، ترقيم محمد عوامة 37765)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39370 in Urdu