مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
20. ما قالوا: في مهاجر النبي ﷺ وأبي بكر وقدوم من قدم
جو باتیں محدثین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
ترقیم عوامۃ: 37763 ترقیم الشثری: -- 39368
٣٩٣٦٨ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا هشام بن عروة عن ابيه وفاطمة عن اسماء قالت: صنعت سفرة النبي ﷺ في بيت ابي بكر حين اراد ان يهاجر إلى المدينة، قالت: فلم نجد لسفرته ولا لسقائه ما نربطهما به، فقلت لابي بكر: والله ما اجد شيئا اربط به إلا نطاقي، (قالت: فقال) (٢) : شقيه باثنين، فاربطي بواحد السقاء وبالآخر السفرة، فلذلك سميت ذات النطاقين (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) في [ق]: (قال: فقال).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٧٩)، ومسلم (٢٥٤٥).
حضرت اسمائ بیان فرماتی ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا تو میں نے ابوبکر کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے توشہ دان تیار کیا۔ بیان کرتی ہیں کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توشہ دان اور پانی کی مشک کے لئے کوئی چیز نہیں ملی جس سے ہم ان دونوں کو باندھتے۔ میں نے ابوبکر سے کہا: بخدا! مجھے باندھنے کے لئے کوئی چیز (رسی وغیرہ) نہیں ملتی سوائے اپنے پٹکے کے۔ فرماتی ہیں: سیدنا صدیق اکبر نے فرمایا: اسی (پٹکے) کو دو حصوں میں پھاڑ لو۔ اور ایک کے ذریعہ سے پانی کی مشک کو باندھ دو اور دوسرے سے توشہ دان کو۔ اسی وجہ سے حضرت اسمائ کا نام ذات النطاقین معروف ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39368]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39368، ترقيم محمد عوامة 37763)
ترقیم عوامۃ: 37764 ترقیم الشثری: -- 39369
٣٩٣٦٩ - حدثنا ابو اسامة عن بن عون عن عمير بن إسحاق قال: لما خرج رسول الله ﷺ وابو بكر -يعني إلى المدينة- تبعهما سراقة بن مالك فلما اتاهما قال: هذان فرا من قريش لو رددت على قريش فرها، قال: فعطف فرسه عليهما فساخت الفرس، فقال: ادعو الله ان يخرجها ولا اقربكما، قال: (فخرجت) (١) (فعادت) (٢) حتى فعل ذلك مرتين او ثلاثا، قال: فكف، ثم قال: هلما إلى الزاد (والحملان) (٣) فقالا: لا نريد ولا حاجة لنا في ذلك (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فخرج).
(٢) سقط من: [أب، جـ، س].
(٣) في [أ]: (والمجلان).
(٤) مرسل؛ عمير تابعي، وأخرجه ابن سعد ١/ ٢٣٢.
حضرت عمر بن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر مدینہ کی طرف نکلے تو سراقہ بن مالک بھی ان کے پیچھے ہو لیا۔ پس جب ان کے پاس آیا تو کہنے لگا۔ یہی دو شخص قریش کو مطلوب ہیں۔ کاش میں قریش کو ان کے مطلوبہ افراد واپس لوٹا دوں۔ راوی کہتے ہیں: اس نے اپنا گھوڑا ان دو حضرات کی طرف دوڑایا تو گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ سراقہ نے کہا۔ آپ دونوں اللہ سے دعا کریں کہ وہ گھوڑے کو باہر نکال دے۔ میں آپ لوگوں کے قریب نہیں آؤں گا۔ راوی کہتے ہیں: پس گھوڑا باہر نکل گیا۔ تو سراقہ نے پھر پہلے والی حرکت کی۔ حتی کہ یہ دو یا تین مرتبہ ہوا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر سراقہ رُک گیا۔ پھر کہنے لگا۔ آپ آئیں۔ یہ توشہ اور سواری لے لیں۔ انہوں نے جواب دیا۔ ہمارا ارادہ نہیں ہے اور ہمیں اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39369]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39369، ترقيم محمد عوامة 37764)
ترقیم عوامۃ: 37765 ترقیم الشثری: -- 39370
٣٩٣٧٠ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: اخبرنا إسرائيل عن ابي إسحاق عن البراء بن عازب قال: اشترى ابو بكر من (عازب) (١) (رحلا) (٢) بثلاثة عشر ⦗٤٠٠⦘ درهما فقال ابو بكر لعازب: مر البراء فليحمله إلى رحلي، فقال له عازب: (لا) (٣) ، حتى (تحدثنا) (٤) كيف صنعت انت ورسول الله ﷺ حيث خرجتما والمشركون يطلبونكما. قال: رحلنا من مكة فاحيينا ليلتنا ويومنا حتى اظهرنا، وقام قائم الظهيرة فرميت ببصري هل ارى من ظل ناوي إليه، فإذا انا بصخرة فانتهينا إليها، (فإذا) (٥) بقية ظل لها، فنظرت (بقية) (٦) ظل (لها) (٧) فسويته ثم فرشت لرسول الله ﷺ (فيه) (٨) فروة، ثم قلت: اضطجع يا رسول الله فاضطجع. ثم ذهبت انقض ما حولي هل ارى من الطلب احدا، فإذا انا براعي غنم يسوق غنمه إلى الصخرة، يريد منها الذي اريد فسالته فقلت: لمن انت يا غلام؟ فقال: لرجل من قريش، قال: فسماه فعرفته، فقلت: هل في غنمك من لبن؟ قال: نعم، قلت: هل انت (٩) (حالب لي) (١٠) قال: نعم. قال: فامرته فاعتقل شاة من غنمه فامرته ان ينفض ضرعها من الغبار، ثم امرته ان ينفض كفيه، فقال: هكذا، فضرب إحدى يديه بالاخرى، فحلب كثبة من لبن، ومعي لرسول الله ﷺ إداوة على فمها خرقة، فصببت على اللبن حتى برد اسفله. ⦗٤٠١⦘ فاتيت رسول الله ﷺ فوافقته قد استيقظ فقلت: اشرب يا رسول الله، فشرب رسول الله ﷺ حتى رضيت. ثم قلت: انى الرحيل يا رسول الله، فارتحلنا والقوم يطلبوننا، فلم يدركنا احد منهم غير سراقة بن مالك بن (جعشم) (١١) على فرس له، فقلت: هذا الطلب قد لحقنا يا رسول الله (١٢) وبكيت فقال:"ما يبكيك؟" فقلت: اما والله ما على نفسي ابكي ولكني ابكي عليك، قال: فدعا عليه رسول الله ﷺ فقال:"اللهم اكفناه بما شئت"، قال: فساخت به فرسه في الارض إلى بطنها، فوثب عنها ثم قال: يا محمد قد علمت ان هذا عملك، فادع الله ان ينجيني مما انا فيه، فوالله لاعمين على من ورائي من الطلب، وهذه كنانتي فخذ سهما منهما فإنك ستمر على إبلي وغنمي بمكان كذا وكذا فخذ منها حاجتك، فقال رسول الله ﷺ:"لا حاجة لنا في إبلك". وانصرف عن رسول الله ﷺ (ودعا له رسول الله ﷺ) (١٣) ، وانطلق راجعا إلى اصحابه، ومضى رسول الله ﷺ وانا معه حتى قدمنا المدينة ليلا، فتنازعه القوم: ايهم ينزل عليه، فقال رسول الله ﷺ:"إني انزل الليلة على بني النجار اخوال عبد المطلب، اكرمهم بذلك"، فخرج الناس حتى دخل المدينة، وفي الطريق وعلى البيوت الغلمان والخدم (١٤) جاء محمد (١٥) جاء رسول الله، فلما اصبح انطلق فنزل حيث (امره) (١٦) (الله) (١٧) . ⦗٤٠٢⦘ (١٨) وكان رسول الله ﷺ قد صلى نحو بيت المقدس ستة عشر شهرا او سبعة عشر شهرا، وكان رسول الله ﷺ يحب ان يوجه نحو الكعبة فانزل الله: ﴿قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام﴾ [البقرة: ١٤٤] ، قال: فوجه نحو الكعبة، وقال السفهاء من الناس: ﴿ما ولاهم عن قبلتهم التي كانوا عليها قل لله المشرق والمغرب يهدي من يشاء إلى صراط مستقيم﴾ [البقرة: ١٤٢] . قال: وصلى مع النبي ﵊ (١٩) رجل ثم خرج بعد ما صلى، فمر على قوم من الانصار وهم ركوع في صلاة العصر نحو بيت المقدس فقال: هو يشهد انه صلى مع النبي ﷺ، وانه قد وجه نحو الكعبة، قال: فانحرف القوم حتى وجهوا نحو الكعبة. قال البراء: وكان نزل علينا من المهاجرين مصعب بن عمير اخو بني عبد الدار بن قصي، فقلنا له: ما فعل رسول الله ﷺ؟ (فقال) (٢٠) : هو ومكانه واصحابه على اثري، ثم اتانا (بعده) (٢١) عمرو بن ام مكتوم اخو بني فهر الاعمى، فقلنا له: ما فعل من (وراءك) (٢٢) رسول الله (٢٣) واصحابه؟ فقال: هم على اثري. ثم اتانا (بعده عمار بن ياسر وسعد بن ابي وقاص وعبد الله بن مسعود وبلال، ثم اتانا) (٢٤) عمر بن الخطاب من بعدهم في عشربن راكبا، ثم اتانا بعدهم ⦗٤٠٣⦘ رسول الله ﷺ وابو بكر معه، فلم يقدم علينا حتى قرات سورا من سور المفصل، ثم خرجنا حتى نتلقى العير فوجدناهم قد حذروا (٢٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عارب).
(٢) في [جـ، س، ق]: (رجلًا).
(٣) سقط من: [أ].
(٤) في [ق]: (تحدثني).
(٥) في [ق]: (نظرت).
(٦) في [هـ]: (بقبة).
(٧) سقط من: [ط، هـ].
(٨) سقط من: [ق].
(٩) في [أ، ب]: زيادة (مأذون).
(١٠) في [أ، ب]: (بالحلب فتحلب لي).
(١١) في [ب، ي]: (جعثم).
(١٢) في [هـ]: زيادة (فقال: لا تحزن إن اللَّه معنا، حتى إذا دنا منا فكان بيننا وبينه قدر رمح أو رمحين أو ثلاثة، قال: قلت: يا رسول اللَّه هذا الطلب قد لحقنا).
(١٣) سقط من: [ع].
(١٤) في [ق]: زيادة (يقولون).
(١٥) في [أ، ب، جـ، ق]: زيادة ﷺ.
(١٦) في [س]: (أمر).
(١٧) سقط من: [أ، ب].
(١٨) في [أ، ب]: زيادة (قال: وقد)، وفي [جـ]: (قال).
(١٩) في [أ، ب، جـ]: ﷺ.
(٢٠) هكذا في: [ق، هـ]، وفي بقية النسخ: (فقلت).
(٢١) في [ق، هـ]: (بعد).
(٢٢) في [ي]: (وراك).
(٢٣) في [أ، ب، جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٢٤) سقط من: [هـ].
(٢٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٦١٥)، ومسلم (٢٠٠٩).
حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے حضرت عازب سے ایک سامانِ سفر تیرہ درہموں میں خریدا۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عازب سے کہا۔ آپ براء کو حکم دیں کہ وہ اس کو میرے کجاوہ تک اٹھا کرلے آئے۔ حضرت عازب نے حضرت صدیق اکبر سے کہا۔ نہیں! یہاں تک کہ آپ ہمیں بتائیں کہ آپ نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کیا تھا۔ جب آپ لوگ نکلے تھے اور مشرکین تمہیں تلاش کر رہے تھے۔ ٢۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا: ہم نے مکہ سے کوچ کیا تو ہم ایک رات اور دن جاگ کر چلتے رہے یہاں تک کہ ہمیں دوپہر ہوگئی اور زوال کا وقت ہوگیا۔ میں نے نظر دوڑائی کہ کیا مجھے کوئی سایہ دکھائی دیتا ہے جس کی طرف ہم ٹھکانہ پکڑیں تو اچانک مجھے ایک چٹان دکھائی دی پس ہم اس کی طرف پہنچے۔ اس کا کچھ سایہ باقی تھا۔ میں نے اس کے بقیہ سایہ کو دیکھا اور اس (کی جگہ) کو درست کیا پھر میں نے اس سایہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے چمڑا بچھایا۔ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! لیٹ جائیے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹ گئے۔ پھر میں نے اپنے ارد گرد میں دیکھ بھال شروع کردی کہ کیا مجھے کوئی متلاشی دکھائی دیتا ہے تو اچانک مجھے ایک چرواہا دکھائی دیا جو اپنی بکریوں کو اسی چٹان کی طرف ہانک رہا تھا۔ اس کا چٹان سے وہی مقصد تھا جو میرا مقصود تھا۔ میں نے اس سے پوچھا: میں نے کہا: اے لڑکے! تم کس کے ہو؟ اس نے جواب دیا۔ قریش کے ایک آدمی کا۔ ابوبکر فرماتے ہیں۔ اس غلام نے آدمی کا نام لیا تو میں اس کو پہچان گیا۔ ٣۔ میں نے پوچھا: کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے جواب دیا: ہاں! میں نے کہا: کیا تم میرے لئے دودھ نکال دو گے؟ اس نے کہا: ہاں! حضرت ابوبکر کہتے ہیں: میں نے اس کو حکم دیا تو اس نے ایک بکری اپنی بکریوں میں سے قابو کرلی۔ پھر میں نے اس کو بکری کے تھنوں سے غبار جھاڑنے کا حکم دیا۔ پھر میں نے اس کو حکم دیا کہ وہ اپنی ہتھیلیوں کو جھاڑے۔ اس نے کہا: یوں؟ پھر اس نے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے کو مارا پھر اس نے تھوڑا سا دودھ دوہا۔ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے پانی کا ایک برتن تھا جس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ میں نے دودھ پر بہا دیا یہاں تک کہ وہ نیچے سے ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوچکے تھے۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! نوش فرمائیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرمایا یہاں تک کہ میں خوش ہوگیا۔ ٤۔ پھر میں نے عرض کیا۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا! کوچ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ پھر ہم نے کوچ کیا حالانکہ لوگ ہماری تلاش میں تھے۔ ان لوگوں میں سے سراقہ بن مالک بن جعشم کے سوا ہمیں کسی نے نہیں پایا۔ وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ متلاشی ہم تک پہنچ گیا ہے۔ اور میں (یہ کہہ کر) رو پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا بات رلا رہی ہے؟ میں نے عرض کیا۔ بخدا! میں اپنی جان (کے خوف سے) نہیں رو رہا لیکن مجھے آپ (کی جان) پر رونا آ رہا ہے۔ ابوبکر فرماتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سراقہ کے لئے بد دعا فرمائی اور کہا۔ اے اللہ! تو اس کو ہماری طرف سے جس طرح تو چاہے۔ کافی ہوجا۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں۔ پس سراقہ کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ سراقہ نے گھوڑے سے چھلانگ لگائی۔ پھر اس نے کہا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! مجھے معلوم ہے کہ یہ آپ ہی کا کام ہے۔ پس آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اس مصیبت سے نجات دے دے۔ بخدا! میں اپنے پچھلے متلاشیوں پر (اس بات کو) ضرور پوشیدہ رکھوں گا۔ اور یہ میرا ترکش ہے آپ اس میں سے تیر لے لیں۔ اور آپ عنقریب فلاں جگہ پر میرے اونٹ اور بکریوں پر سے گزریں گے آپ ان میں سے بھی اپنی ضرورت کا لے لیجئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمیں تیرے اونٹوں کی ضرورت نہیں۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے واپس مڑا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لئے دعا فرمائی۔ سراقہ واپس اپنے ساتھیوں میں چلا گیا۔ ٥۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے رہے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ یہاں تک کہ ہم رات کے وقت مدینہ میں پہنچے۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں جھگڑا شروع کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس کے گھر میں اتریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آج کی رات میں بنی نجار میں اتروں گا جو کہ عبد المطلب کے ماموں ہ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39370]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39370، ترقيم محمد عوامة 37765)
ترقیم عوامۃ: 37766 ترقیم الشثری: -- 39371
٣٩٣٧١ - حدثنا عفان قال: حدثنا شعبة عن ابي إسحاق قال: سمعت البراء يقول: اول من قدم علينا من اصحاب رسول الله ﷺ مصعب بن عمير وابن ام مكتوم، فجعلا يقرئان الناس القرآن، ثم جاء عمار وبلال وسعد، ثم جاء عمر بن الخطاب في عشرين راكبا، ثم جاء رسول الله ﷺ، (قال) (١) : فما رايت اهل المدينة فرحوا بشيء قط فرحهم به، قال: فما قدم حتى قرات: ﴿سبح اسم ربك الاعلى﴾ في (سور) (٢) من المفصل (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [س]: (سورة).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٩٤١)، وأحمد (١٨٥١٢).
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت براء کو کہتے سُنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم تشریف لائے اور ان دونوں نے لوگوں کو قرآن پڑھانا شروع کیا۔ پھر حضرت عمار، بلال اور سعد تشریف لائے پھر حضرت عمر بن خطاب بیس سواروں کی جمعیت میں تشریف لائے۔ پھر رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے اہل مدینہ کو اس بات سے زیادہ کسی چیز پر فرحاں و شاداں نہیں دیکھا۔ براء کہتے ہیں۔ (ابھی) کوئی ایک بھی صحابی نہیں آیا تھا اور میں نے { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی } مفصل سورتوں میں پڑھ لی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39371]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39371، ترقيم محمد عوامة 37766)
ترقیم عوامۃ: 37767 ترقیم الشثری: -- 39372
٣٩٣٧٢ - حدثنا اسود بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن (ان) (١) سراقة بن مالك (المدلجي) (٢) حدثهم ان قريشا جعلت في رسول الله ﷺ وابي بكر اربعين اوقية، قال: فبينما انا جالس إذ جاءني رجل فقال: إن الرجلين اللذين جعلت ( (قريش) (٣) فيهما) (٤) ما جعلت قريب منك؛ بمكان كذا وكذا، فاتيت فرسي وهو في (الرعي) (٥) فنفرت به ثم اخذت رمحي، قال: فركبته، قال: فجعلت اجر الرمح مخافة ان يشركني فيهما اهل الماء قال: فلما رايتهما قال ابو بكر: هذا باغ ⦗٤٠٤⦘ يبغينا، فالتفت إلي النبي ﷺ فقال:"اللهم اكفناه بما شئت"، قال: قال (فوحل) (٦) فرسي وإني لفي جلد من الارض، فوقعت على حجر (فانقلبت) (٧) ، فقلت: ادع الذي فعل بفرسي ما ارى ان (يخلصه) (٨) ، وعاهده ان لا يعصيه، قال: فدعا له، فخلص الفرس، فقال رسول الله ﷺ:" (اواهبه) (٩) انت لي؟" فقلت: نعم، فقال: (فهاهنا) (١٠) قال (١١) : (فعم) (١٢) عنا الناس، واخذ رسول الله ﷺ طريق الساحل مما يلي البحر، قال: فكنت اول النهار لهم طالبا وآخر النهار لهم مسلحة، وقال لي:"إذا استقررنا بالمدينة فإن رايت ان تاتينا فاتنا"، قال: فلما قدم المدينة وظهر على اهل بدر واحد واسلم الناس ومن حولهم، قال (سراقة) (١٣) : بلغني (انه) (١٤) يريد ان يبعث خالد بن الوليد إلى بني مدلج، قال: فاتيته فقلت له: انشدك النعمة، فقال القوم: مه، فقال رسول الله ﷺ:"دعوه"، فقال رسول الله ﷺ:"ما تريد؟" فقلت: بلغني انك تريد ان تبعث خالد بن الوليد إلى قومي، فانا احب ان توادعهم، فإن اسلم قومهم اسلموا معهم، وإن لم يسلموا لم تخشن صدور قومهم عليهم، فاخذ رسول الله ﷺ بيد خالد بن الوليد فقال له:"اذهب معه فاصنع ما اراد"، فذهب إلى بني مدلج، فاخذوا عليهم ان لا يعينوا على رسول الله ﷺ، فإن اسلمت قريش اسلموا معهم فانزل الله: ﴿ودوا ⦗٤٠٥⦘ لو تكفرون (كما كفروا) (١٥) ﴾ حتى بلغ: ﴿إلا الذين يصلون إلى قوم بينكم وبينهم ميثاق او جاءوكم حصرت صدورهم ان يقاتلوكم او يقاتلوا قومهم (١٦) ولو شاء الله لسلطهم عليكم فلقاتلوكم﴾ [النساء: ٨٩، ٩٠] (١٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، س، ط، هـ]: (عن).
(٢) في [ي]: (المدلحي).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [أ، ب]: (فيهما قريش).
(٥) في [هـ]: (الوعي).
(٦) في [أ، ب، ط، هـ]: (فوجل)، وانظر: المطالب العالية (٤٢٤٢)، والنهاية ٥/ ١٦١.
(٧) في [أ، ط]: (فانفلت)، وفى [ح، هـ]: (فانقلب).
(٨) في [أ]: (يخلصها).
(٩) في [أ]: (أواهبنه).
(١٠) في [س]: (هاهنا)، وفي [أ]: (هذا).
(١١) في [ي]: زيادة (نعم).
(١٢) في [ط، هـ]: (فعمى).
(١٣) في [ي]: (مؤلفه).
(١٤) في [أ، ب]: (أنك).
(١٥) سقط من: [هـ].
(١٦) في [أ، ب، س، ي]: زيادة ﴿كُلَّ مَا رُدُّوا إِلَى الْفِتْنَةِ أُرْكِسُوا فِيهَا﴾.
(١٧) ضعيف منقطع؛ علي بن زيد ضعيف، وأهل الحديث على أن الحسن لم يسمع من سراقة، وأخرجه البخاري (٣٩٠٦)، وأحمد (١٧٥٩١) من حديث عبد الرحمن بن مالك المدلجي عن أبيه عن أخيه سراقة.
حضرت حسن سے روایت ہے کہ سراقہ بن مالک المدلجی نے لوگوں کو بیان کیا کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے متعلق چالیس اوقیہ مقرر فرمائی۔ کہتے ہیں۔ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس دوران ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا۔ وہ آدمی جن کے بارے میں قریش نے اپنا اعلانِ (انعام) کیا ہے۔ تمہارے قریب ہیں۔ فلاں جگہ پر، کہتے ہیں۔ میں اپنے گھوڑے کے پاس آیا اور گھوڑا چَر رہا تھا۔ میں اس کو لے کر دوڑا پھر میں نے اپنے نیزے کو پکڑا۔ کہتے ہیں: میں اس پر سوار ہوگیا۔ اور میں نے اس ڈر سے نیزے کو کھینچنا شروع کیا کہ کہیں ان دونوں کے بارے میں میرے ساتھ کوئی شریک نہ ہوجائے۔ فرماتے ہیں۔ پس جب میں نے ان دونوں کو دیکھ لیا تو حضرت ابوبکر نے فرمایا: یہ متلاشی ہے جو ہیں ہ تلاش کر رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے اللہ! جس طرح تو چاہتا ہے اس کو ہمارے طرف سے کافی ہوجا۔ سراقہ کہتے ہیں۔ میرا گھوڑا زمین میں دھنس گیا حالانکہ میں سخت زمین میں تھا۔ اور میں ایک پتھر پر گرا اور پلٹی کھائی تو میں نے عرض کیا۔ آپ اس ہستی سے دعا کریں جس نے میرے گھوڑے کے ساتھ جو کیا ہے میں اس کو دیکھ رہا ہوں۔ کہ وہ اس کو یہاں سے نکال دے۔ کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سراقہ کے لئے دُعا کی تو گھوڑا باہر آگیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ مجھے ہدیہ کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا۔ جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس یہاں ہی رہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے ہماری حالت کو مخفی رکھنا۔ ٢۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمندر کے ساتھ ساحل کا راستہ پکڑ لیا۔ کہتے ہیں۔ میں دن کے آغاز میں ان کا متلاشی تھا اور دن کے آخر میں ان کا محافظ تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: جب ہم مدینہ کو اپنا سفر بنالیں تو اگر تمہاری رائے ہو تو ہمارے پاس آنا۔ سراقہ کہتے ہیں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اور اہل بدر، اہل احد پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غلبہ حاصل ہوا۔ لوگ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد والوں نے اسلام قبول کرلیا۔ سراقہ کہتے ہیں۔ مجھے یہ بات پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی مدلج کی طرف حضرت خالد بن الولید کو بھیجنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ میں آپ کو انعام (کا وعدہ) یاد دلاتا ہوں لوگ کہنے لگے۔ رک جاؤ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کو چھوڑ دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا ارادہ ہے؟ میں نے عرض کیا۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ میری قوم کی طرف خالد بن ولید کو بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اور مجھے یہ بات محبوب ہے کہ آپ ان کے ساتھ عہد و پیمان کرلیں۔ پھر اگر ان کی قوم ایمان لے آئی تو وہ بھی ایمان لے آئیں گے۔ اور اگر ان کی قوم ایمان نہ لائی تو پھر ان پر ان کی قوم کے دل سخت نہیں ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید کا ہاتھ پکڑا اور ان سے فرمایا: اس کے ساتھ جاؤ اور جو یہ چاہتا ہے وہی معاملہ کرو۔ ٣۔ پس حضرت خالد بن ولید بنی مدلج کی طرف تشریف لے گئے اور ان سے یہ پیمان لیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف مدد نہیں کریں گے۔ اگر قریش اسلام لے آئے تو وہ بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں گے۔ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں۔ { وَدُّوا لَوْ تَکْفُرُونَ کَمَا کَفَرُوا …حَتَّی بَلَغَ … إِلاَّ الَّذِینَ یَصِلُونَ إِلَی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِیثَاقٌ، أَوْ جَاؤُوکُمْ حَصِرَتْ صُدُورُہُمْ أَنْ یُقَاتِلُوکُمْ، أَوْ یُقَاتِلُوا قَوْمَہُمْ، وَلَوْ شَائَ اللَّہُ لَسَلَّطَہُمْ عَلَیْکُمْ فَلَقَاتَلُوکُمْ }۔ حضرت حسن فرماتے ہیں۔ وہ لوگ جن کے بارے میں حصرت صدورھم کہا گیا وہ بنو مدلج ہیں۔ جو شخص بنی مدلج کے پاس پہنچ گیا سو وہ بھی ان کے جیسے معاہدہ میں ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39372]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39372، ترقيم محمد عوامة 37767)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39373
٣٩٣٧٣ - قال الحسن: فالذين حصرت صدورهم بنو مدلج، فمن وصل إلى بني مدلج من غيرهم كان في مثل عهدهم.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39373، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 37768 ترقیم الشثری: -- 39374
٣٩٣٧٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا همام قال: اخبرنا ثابت عن انس ان ابا بكر حدثه قال: قلت للنبي ﷺ ونحن في الغار: لو ان احدهم ينظر إلى قدميه لابصرنا تحت قدميه قال:"يا ابا بكر، ما ظنك باثنين الله ثالثهما" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣١٥٣)، ومسلم (٢٣٨١)، وأحمد (١١).
حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے ان سے بیان کیا کہ جب ہم غار میں تھے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ اگر ان لوگوں میں سے کوئی بھی اپنے قدموں کی طرف نظر کرے تو البتہ ہمیں اپنے قدموں کے نیچے پالے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! تیرا ان دو آدمیوں کے بارے میں کیا گمان ہے جن کا تیسرا خدا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39374]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39374، ترقيم محمد عوامة 37768)
ترقیم عوامۃ: 37769 ترقیم الشثری: -- 39375
٣٩٣٧٥ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا هشام عن ابيه ان عبد الله بن ابي بكر كان الذي يختلف بالطعام إلى النبي ﷺ وابي بكر وهما في الغار (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ عروة تابعي، وأخرجه الحاكم ٣/ ٤٧٧، وابن سعد ٣/ ١٧٣.
حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن ابوبکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے پاس کھانا لے کر جایا کرتے تھے جبکہ وہ دونوں غار میں تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39375]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39375، ترقيم محمد عوامة 37769)
ترقیم عوامۃ: 37770 ترقیم الشثری: -- 39376
٣٩٣٧٦ - حدثنا شبابة عن ورقاء عن ابن ابي نجيح عن مجاهد في قوله: ﴿إلا (تنصروه) (١) ﴾ [التوبة: ٤٠] ، ثم ذكر ما كان من اول شانه حين بعث يقول. فالله فاعل ذلك به ناصره كما نصره ثاني اثنين (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (ينصروه).
(٢) مرسل؛ مجاهد تابعي، أخرجه ابن أبي حاتم في التفسير ٦/ ١٧٩٨ (١٠٠٣٦)، وابن جرير ١٠/ ١٣٦.
حضرت مجاہد سے {إِلاَّ تَنْصُرُوہُ } کی تفسیر کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اول وقت کی حالت کا ذکر فرمایا۔ اور کہا: اللہ پاک ان کی مدد کرے گا۔ اللہ اس کا مددگار ہے جس طرح دو میں سے دوسرے نے اس کی مدد کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39376]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39376، ترقيم محمد عوامة 37770)
ترقیم عوامۃ: 37771 ترقیم الشثری: -- 39377
٣٩٣٧٧ - حدثنا وكيع عن شريك عن إبراهيم بن مهاجر عن مجاهد قال: مكث ابو بكر مع النبي ﷺ في الغار (ثلاثا) (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ي].
(٢) مرسل؛ مجاهد تابعي، وأخرجه ابن جرير ١٠/ ١٣٦.
حضرت مجاہد سے منقول ہے کہ حضرت ابوبکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ غار میں تین (دن) ٹھہرے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39377]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39377، ترقيم محمد عوامة 37771)