🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. ما قالوا: في مهاجر النبي ﷺ وأبي بكر وقدوم من قدم
جو باتیں محدثین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37767 ترقیم الشثری: -- 39372
٣٩٣٧٢ - حدثنا اسود بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن (ان) (١) سراقة بن مالك (المدلجي) (٢) حدثهم ان قريشا جعلت في رسول الله ﷺ وابي بكر اربعين اوقية، قال: فبينما انا جالس إذ جاءني رجل فقال: إن الرجلين اللذين جعلت ( (قريش) (٣) فيهما) (٤) ما جعلت قريب منك؛ بمكان كذا وكذا، فاتيت فرسي وهو في (الرعي) (٥) فنفرت به ثم اخذت رمحي، قال: فركبته، قال: فجعلت اجر الرمح مخافة ان يشركني فيهما اهل الماء قال: فلما رايتهما قال ابو بكر: هذا باغ ⦗٤٠٤⦘ يبغينا، فالتفت إلي النبي ﷺ فقال:"اللهم اكفناه بما شئت"، قال: قال (فوحل) (٦) فرسي وإني لفي جلد من الارض، فوقعت على حجر (فانقلبت) (٧) ، فقلت: ادع الذي فعل بفرسي ما ارى ان (يخلصه) (٨) ، وعاهده ان لا يعصيه، قال: فدعا له، فخلص الفرس، فقال رسول الله ﷺ:" (اواهبه) (٩) انت لي؟" فقلت: نعم، فقال: (فهاهنا) (١٠) قال (١١) : (فعم) (١٢) عنا الناس، واخذ رسول الله ﷺ طريق الساحل مما يلي البحر، قال: فكنت اول النهار لهم طالبا وآخر النهار لهم مسلحة، وقال لي:"إذا استقررنا بالمدينة فإن رايت ان تاتينا فاتنا"، قال: فلما قدم المدينة وظهر على اهل بدر واحد واسلم الناس ومن حولهم، قال (سراقة) (١٣) : بلغني (انه) (١٤) يريد ان يبعث خالد بن الوليد إلى بني مدلج، قال: فاتيته فقلت له: انشدك النعمة، فقال القوم: مه، فقال رسول الله ﷺ:"دعوه"، فقال رسول الله ﷺ:"ما تريد؟" فقلت: بلغني انك تريد ان تبعث خالد بن الوليد إلى قومي، فانا احب ان توادعهم، فإن اسلم قومهم اسلموا معهم، وإن لم يسلموا لم تخشن صدور قومهم عليهم، فاخذ رسول الله ﷺ بيد خالد بن الوليد فقال له:"اذهب معه فاصنع ما اراد"، فذهب إلى بني مدلج، فاخذوا عليهم ان لا يعينوا على رسول الله ﷺ، فإن اسلمت قريش اسلموا معهم فانزل الله: ﴿ودوا ⦗٤٠٥⦘ لو تكفرون (كما كفروا) (١٥) ﴾ حتى بلغ: ﴿إلا الذين يصلون إلى قوم بينكم وبينهم ميثاق او جاءوكم حصرت صدورهم ان يقاتلوكم او يقاتلوا قومهم (١٦) ولو شاء الله لسلطهم عليكم فلقاتلوكم﴾ [النساء: ٨٩، ٩٠] (١٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، س، ط، هـ]: (عن).
(٢) في [ي]: (المدلحي).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [أ، ب]: (فيهما قريش).
(٥) في [هـ]: (الوعي).
(٦) في [أ، ب، ط، هـ]: (فوجل)، وانظر: المطالب العالية (٤٢٤٢)، والنهاية ٥/ ١٦١.
(٧) في [أ، ط]: (فانفلت)، وفى [ح، هـ]: (فانقلب).
(٨) في [أ]: (يخلصها).
(٩) في [أ]: (أواهبنه).
(١٠) في [س]: (هاهنا)، وفي [أ]: (هذا).
(١١) في [ي]: زيادة (نعم).
(١٢) في [ط، هـ]: (فعمى).
(١٣) في [ي]: (مؤلفه).
(١٤) في [أ، ب]: (أنك).
(١٥) سقط من: [هـ].
(١٦) في [أ، ب، س، ي]: زيادة ﴿كُلَّ مَا رُدُّوا إِلَى الْفِتْنَةِ أُرْكِسُوا فِيهَا﴾.
(١٧) ضعيف منقطع؛ علي بن زيد ضعيف، وأهل الحديث على أن الحسن لم يسمع من سراقة، وأخرجه البخاري (٣٩٠٦)، وأحمد (١٧٥٩١) من حديث عبد الرحمن بن مالك المدلجي عن أبيه عن أخيه سراقة.

حضرت حسن سے روایت ہے کہ سراقہ بن مالک المدلجی نے لوگوں کو بیان کیا کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے متعلق چالیس اوقیہ مقرر فرمائی۔ کہتے ہیں۔ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس دوران ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا۔ وہ آدمی جن کے بارے میں قریش نے اپنا اعلانِ (انعام) کیا ہے۔ تمہارے قریب ہیں۔ فلاں جگہ پر، کہتے ہیں۔ میں اپنے گھوڑے کے پاس آیا اور گھوڑا چَر رہا تھا۔ میں اس کو لے کر دوڑا پھر میں نے اپنے نیزے کو پکڑا۔ کہتے ہیں: میں اس پر سوار ہوگیا۔ اور میں نے اس ڈر سے نیزے کو کھینچنا شروع کیا کہ کہیں ان دونوں کے بارے میں میرے ساتھ کوئی شریک نہ ہوجائے۔ فرماتے ہیں۔ پس جب میں نے ان دونوں کو دیکھ لیا تو حضرت ابوبکر نے فرمایا: یہ متلاشی ہے جو ہیں ہ تلاش کر رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے اللہ! جس طرح تو چاہتا ہے اس کو ہمارے طرف سے کافی ہوجا۔ سراقہ کہتے ہیں۔ میرا گھوڑا زمین میں دھنس گیا حالانکہ میں سخت زمین میں تھا۔ اور میں ایک پتھر پر گرا اور پلٹی کھائی تو میں نے عرض کیا۔ آپ اس ہستی سے دعا کریں جس نے میرے گھوڑے کے ساتھ جو کیا ہے میں اس کو دیکھ رہا ہوں۔ کہ وہ اس کو یہاں سے نکال دے۔ کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سراقہ کے لئے دُعا کی تو گھوڑا باہر آگیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ مجھے ہدیہ کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا۔ جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس یہاں ہی رہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے ہماری حالت کو مخفی رکھنا۔ ٢۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمندر کے ساتھ ساحل کا راستہ پکڑ لیا۔ کہتے ہیں۔ میں دن کے آغاز میں ان کا متلاشی تھا اور دن کے آخر میں ان کا محافظ تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: جب ہم مدینہ کو اپنا سفر بنالیں تو اگر تمہاری رائے ہو تو ہمارے پاس آنا۔ سراقہ کہتے ہیں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اور اہل بدر، اہل احد پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غلبہ حاصل ہوا۔ لوگ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد والوں نے اسلام قبول کرلیا۔ سراقہ کہتے ہیں۔ مجھے یہ بات پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی مدلج کی طرف حضرت خالد بن الولید کو بھیجنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ میں آپ کو انعام (کا وعدہ) یاد دلاتا ہوں لوگ کہنے لگے۔ رک جاؤ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کو چھوڑ دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا ارادہ ہے؟ میں نے عرض کیا۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ میری قوم کی طرف خالد بن ولید کو بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اور مجھے یہ بات محبوب ہے کہ آپ ان کے ساتھ عہد و پیمان کرلیں۔ پھر اگر ان کی قوم ایمان لے آئی تو وہ بھی ایمان لے آئیں گے۔ اور اگر ان کی قوم ایمان نہ لائی تو پھر ان پر ان کی قوم کے دل سخت نہیں ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید کا ہاتھ پکڑا اور ان سے فرمایا: اس کے ساتھ جاؤ اور جو یہ چاہتا ہے وہی معاملہ کرو۔ ٣۔ پس حضرت خالد بن ولید بنی مدلج کی طرف تشریف لے گئے اور ان سے یہ پیمان لیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف مدد نہیں کریں گے۔ اگر قریش اسلام لے آئے تو وہ بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں گے۔ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں۔ { وَدُّوا لَوْ تَکْفُرُونَ کَمَا کَفَرُوا …حَتَّی بَلَغَ … إِلاَّ الَّذِینَ یَصِلُونَ إِلَی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِیثَاقٌ، أَوْ جَاؤُوکُمْ حَصِرَتْ صُدُورُہُمْ أَنْ یُقَاتِلُوکُمْ، أَوْ یُقَاتِلُوا قَوْمَہُمْ، وَلَوْ شَائَ اللَّہُ لَسَلَّطَہُمْ عَلَیْکُمْ فَلَقَاتَلُوکُمْ }۔ حضرت حسن فرماتے ہیں۔ وہ لوگ جن کے بارے میں حصرت صدورھم کہا گیا وہ بنو مدلج ہیں۔ جو شخص بنی مدلج کے پاس پہنچ گیا سو وہ بھی ان کے جیسے معاہدہ میں ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39372]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39372، ترقيم محمد عوامة 37767)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39372 in Urdu