مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
21. ما ذكر في كتب النبي ﷺ وبعوثه
وہ احادیث جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصدوں کا ذکر ہے
ترقیم عوامۃ: 37782 ترقیم الشثری: -- 39388
٣٩٣٨٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الرحمن بن حرملة الاسلمي قال: سمعت سعيد بن المسيب يقول: كتب رسول الله ﷺ إلى كسرى وقيصر والنجاشي:"اما بعد، تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم ان لا نعبد إلا الله، ولا نشرك به شيئا، ولا (يتخذ) (١) بعضنا بعضا اربابا من دون الله، فإن تولوا فقولوا اشهدوا بانا مسلمون"، قال سعيد بن المسيب: فمزق كسرى الكتاب ولم ينظر فيه، قال نبي الله:"مزق ومزقت امته"، فاما النجاشي فآمن (٢) من كان عنده، وارسل إلى رسول الله ﷺ بهدية حلة، فقال رسول الله ﷺ:"اتركوه ما ترككم"، واما قيصر فقرا ⦗٤١٠⦘ كتاب رسول الله ﷺ فقال: هذا كتاب لم اسمع به بعد سليمان النبي (٣) بسم الله الرحمن الرحيم، ثم ارسل إلى (ابي) (٤) سفيان والمغيرة بن شعبة كانا تاجرين بارضه، فسالهما عن بعض شان رسول الله ﷺ وسالهما: من تبعه؟ فقالا: تبعه النساء وضعفة الناس، فقال: ارايتما الذين يدخلون معه ويرجعون؟ قالا: لا، قال: هو نبي، ليملكن ما تحت قدمي، لو كنت عنده لقبلت قدميه (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ي]: (تتخذ).
(٢) أي: من الأمان لمن عنده من الصحابة، وفي رواية أبي عبيد: (فآمن أو قال: فأسلم وآمن من كان عنده من أصحاب النبي ﷺ)، وفي [ق، هـ]: (فآمن وآمن).
(٣) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﵇.
(٤) سقط من: [ب].
(٥) مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي، وأخرجه سعيد بن منصور ق/ ١ (٢٤٨٠)، والقزويني في التدوين ٣/ ٤١٨، وأبو عبيد في الأموال (٥٩)، وأشار له البخاري في الصحيح (٦٤).
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسریٰ، قیصر اور نجاشی کو خط لکھا۔ اما بعد! ”ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہم تم میں مشترک ہے (اور وہ یہ ہے) کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ کو چھوڑ کر ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں“ پھر بھی اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو ”گواہ رہنا ہم مسلمان ہیں۔ حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں: کسریٰ نے خط کو پھاڑ دیا اور اس کو دیکھا ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ خود پھٹ گیا ہے اور اس کی امت بھی پھٹ گئی ہے۔ اور نجاشی نے ایمان قبول کرلیا اور اس کے پاس جو لوگ تھے وہ بھی ایمان لے آئے۔ اور اس نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک جوڑا ہدیہ میں بھیجا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھے تم بھی ا ن کو چھوڑ دو۔ اور قیصر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط پڑھا اور کہا۔ میں نے سلیمان نبی کے خط کے بعد بسم اللّٰہ الرحمان الرحیم والا خط نہیں سُنا۔ پھر اس نے ابو سفیان اور مغیرہ بن شعبہ کی طرف قاصد بھیجا۔ یہ دونوں ارض قیصر میں تاجر کی حیثیت سے موجود تھے۔ قیصر نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض احوال کے متعلق سوال کیا۔ اور ان سے یہ سوال کیا۔ کون لوگ اس کے تابع دار ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ان کے پیچھے چلنے والے کمزور لوگ اور عورتیں ہیں۔ پھر اس نے پوچھا: یہ بتاؤ! جو لوگ اس کے پاس گئے ہیں وہ واپس پلٹے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا۔ نہیں! قیصرنے کہا۔ یہ شخص نبی ہے۔ میرے قدموں کے نیچے والے حصہ زمین پر یہ شخص ضرور بالضرور تمکن حاصل کرے گا۔ اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے قدم چوم لیتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39388]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39388، ترقيم محمد عوامة 37782)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39388 in Urdu