مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
21. ما ذكر في كتب النبي ﷺ وبعوثه
وہ احادیث جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصدوں کا ذکر ہے
ترقیم عوامۃ: 37781 ترقیم الشثری: -- 39387
٣٩٣٨٧ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا محمد بن فضيل عن حصين (عن) (٢) عبد الله بن شداد قال: كتب كسرى إلى باذام اني نبئت ان رجلا يقول شيئا لا ادري ما هو، فارسل إليه فليقعد في بيته ولا يكن من الناس في شيء وإلا ⦗٤٠٩⦘ فليواعدني موعدا القاه به، قال: فارسل باذام إلى رسول الله ﷺ رجلين حالقي لحاهما مرسلي شواربهما، فقال رسول الله ﷺ:"ما يحملكما على هذا؟" (قال) (٣) : فقالا له: يامرنا به (الذي) (٤) يزعمون انه ربهم قال: فقال رسول الله ﷺ:"لكنا نخالف سنتكم، نجز هذا، ونرسل هذا"، قال: فمر به رجل من قريش طويل الشارب فامره رسول الله ﷺ ان يجزهما، قال: (فتركهما) (٥) بضعا وعشرين يوما، ثم قال:"اذهبا إلى (الذي) (٦) يزعمون انه ربكما، فاخبراه ان ربي قتل الذي يزعم انه ربه"، قالا: متى؟ قال:"اليوم" قال: فذهبا إلى باذام فاخبراه الخبر، قال: فكتب إلى كسرى فوجدوا اليوم هو الذي قتل فيه كسرى (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق].
(٢) في [س، ي]: (بن).
(٣) في [أ، ب]: زيادة (قال).
(٤) في [ط، ي]: (الذين).
(٥) في [ط، هـ]: (فتركها).
(٦) في [أ، ب، س]: (الذين).
(٧) مرسل؛ عبد اللَّه بن شداد تابعي.
حضرت عبد اللہ بن شداد سے روایت ہے کہ کسریٰ نے باذام کو لکھا کہ مجھے خبر دی گئی ہے۔ کہ ایک آدمی وہ بات کہتا ہے جو مجھے معلوم نہیں ہے۔ پس تم اس کی طرف کسی کو بھیجو تاکہ وہ اپنے گھر میں سکون کرے اور لوگوں میں کسی بات کو نہ پھیلائے وگرنہ میرے ساتھ کوئی وقت اور جگہ مقرر کرلے میں اس سے وہاں ملوں گا۔ راوی کہتے ہیں۔ باذام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو داڑھی منڈے ہوئے آدمیوں کو بھیجا جن کی مونچھیں لمبی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس بات پر کس نے ابھارا ہے؟ راوی کہتے ہیں: ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ کہ ہمیں اس نے اس بات کا حکم دیا ہے جو لوگوں کے گمان کے مطابق ان کا پروردگار ہے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لیکن ہم تمہارے طریقہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہم اس کو (مونچھوں کو) صاف کرتے ہیں اور اس (داڑھی) کو بڑھاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک دراز مونچھوں والا قریشی مرد گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ انہیں کاٹ دو۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان قاصدوں کو بیس سے کچھ اوپر دن چھوڑے رکھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم دونوں اس کے پاس جاؤ جس کو تم اپنا پروردگار گمان کرتے ہو اور اس کو بتاؤ کہ میرے رب نے اس شخص کو قتل کردیا ہے جو اپنے گمان میں رب بنا ہوا تھا۔ ان آدمیوں نے پوچھا: یہ کب ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کے دن۔ راوی کہتے ہیں: پس یہ دونوں باذام کی طرف گئے اور جا کر اس کو یہ خبر دی۔ راوی کہتے ہیں: ا س نے کسریٰ کو خط لکھا تو انہوں نے کسریٰ کے قتل کو آج ہی کے دن میں رونما پایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39387]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39387، ترقيم محمد عوامة 37781)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39387 in Urdu