مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
21. ما ذكر في كتب النبي ﷺ وبعوثه
وہ احادیث جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصدوں کا ذکر ہے
ترقیم عوامۃ: 37794 ترقیم الشثری: -- 39400
٣٩٤٠٠ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: (اخبرنا) (١) إسرائيل عن ابي إسحاق عن الشعبي ان رسول الله ﷺ كتب إلى رعية السحيمي بكتاب (٢) ، فاخذ كتاب رسول الله ﷺ فرقع به دلوه، فبعث رسول الله ﷺ سرية فاخذوا اهله وماله، وافلت رعية على فرس له عريانا ليس عليه شيء، فاتى ابنته وكانت متزوجة في بني هلال، قال: وكانوا اسلموا فاسلمت معهم، وكانوا دعوه إلى الإسلام قال: فاتى ابنته ⦗٤١٧⦘ وكان يجلس القوم بفناء بيتها، فاتى البيت من وراء ظهره، فلما راته ابنته عريانا القت عليه ثوبا، قالت: مالك؟ قال: كل الشر، ما ترك لي اهل ولا مال، قال: اين بعلك؟ قالت: في الإبل، قال: فاتاه فاخبره، قال: خذ راحلتي برحلها ونزودك من اللبن، قال: لا حاجة لي فيه، ولكن اعطني قعود الراعي وإداوة من ماء، فإني ابا در (٣) محمدا (٤) لا يقسم اهلي ومالي، فانطلق وعليه ثوب إذا غطى به راسه خرجت إسته، وإذا غطى به إسته خرج راسه، فانطلق حتى دخل المدينة ليلا، فكان (بحذاء) (٥) رسول الله ﷺ، (فلما صلى رسول الله ﷺ) (٦) الفجر قال له: يا رسول الله ابسط يدك فلابايعك، فبسط رسول الله ﷺ يده فلما ذهب رعية ليمسح عليها قبضها رسول الله ﷺ، ثم قال (له رعية) (٧) : يا رسول الله ابسط يدك (فلابايعك، قال: فبسط رسول الله ﷺ يده، فلما ذهب ريعه ليمسح عليها) (٨) ، قال: ومن انت؟ قال: رعية السحيمي، قال: فاخذ رسول الله ﷺ بعضده فرفعها، ثم قال:"ايها الناس هذا رعية السحيمي الذي (كتبت) (٩) إليه فاخذ كتابي فرقع به دلوه، فاسلم"، ثم قال: يا رسول الله اهلي ومالي؟ (١٠) فقال رسول الله ﷺ:"اما مالك فقد قسم بين المسلمين، واما اهلك فانظر من قدرت عليه منهم"، قال: فخرجت فإذا ابن لي قد عوف الراحلة وإذا هو قائم عندها، فاتيت رسول الله ﷺ فقلت: هذا ابني فارسل ⦗٤١٨⦘ معي بلالا، فقال:"انطلق معه فسله ابوك هو؟ فإن قال: نعم، فادفعه إليه"، قال: فاتاه بلال فقال: ابوك هو؟ فقال: نعم، فدفعه إليه، قال: فاتى بلال النبي ﷺ فقالوا: والله ما رايت (واحدا) (١١) منهما مستعبرا إلى صاحبه فقال رسول الله ﷺ ذلك جفاء (الاعراب) (١٢) (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [ي]: زيادة لفظ الجلال.
(٣) في [أ]: زيادة (لا).
(٤) في [أ، ب، س]: زيادة ﷺ.
(٥) في [أ، ب، س، ي]: (يحدار).
(٦) سقط من: [ب].
(٧) في [أ]: (رعيته).
(٨) سقط من: [جـ، ط، هـ].
(٩) في [أ، ب]: (كتب).
(١٠) في [ي]: زيادة (ثم).
(١١) في [أ، ب، ط]: (أحدًا).
(١٢) في [ط، هـ]: (العرب).
(١٣) مرسل؛ الشعبي تابعي، أخرجه أحمد (٢٢٤٦٦)، وابن قانع ١/ ٢١٥، والطبراني (٤٦٣٥).
حضرت شعبی سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رعی السحیمی کی طرف ایک خط لکھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط پکڑا اور اس سے اپنے ڈول کو سی لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا۔ انہوں نے (جا کر) اس کے اہل و عیال اور مال پر قبضہ کرلیا۔ اور رعیہ اپنے ایک گھوڑے پر ننگی حال میں جبکہ اس پر کچھ بھی نہیں تھا سوار ہوا۔ پس یہ اپنی بیٹی کے پاس آیا۔ اور اس کی یہ بیٹی بنی ہلال میں متزوج تھی۔ راوی کہتے ہیں۔ یہ اپنی بیٹی کے پاس آیا۔ اور اس کی بیٹی کے گھر کے صحن میں لوگوں کی مجلس سجتی تھی۔ تو یہ گھر کی پشت کی طرف سے آیا۔ جب اس کو اس کی بیٹی نے عریاں حالت میں دیکھا تو اس نے اس پر کپڑا پھینک دیا۔ اور پوچھا۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ رعیہ نے جواب دیا۔ مکمل شر واقع ہوگیا ہے۔ میرے لئے میرے اہل اور مال نہیں چھوڑا گیا۔ پھر رعیہ نے پوچھا۔ تیرا شوہر کیا ں ہے؟ بیٹی نے جواب دیا۔ اونٹوں میں۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر اس کا شوہر آیا اور رعیہ نے اس کو ساری بات بتائی۔ اس نے کہا: یہ میری سواری کجاوہ سمیت لے لو اور میں قوت میں تمہیں دودھ بھی دیتا ہوں؟ رعیہ نے کہا۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے لیکن تم مجھے ایک جوان اونٹ اور پانی کا برتن دے دو تاکہ میں جلدی سے محمد کے پاس پہنچوں کہ کہیں وہ میرے اہل و عیال اور مال کو تقسیم نہ کر دے۔ پس وہ اس حالت میں وہاں سے چلا کہ اس پر ایک کپڑا تھا۔ جب وہ اس کپڑے سے اپنا سر ڈھانپتا تھا تو اس کی سرین کھل جاتی تھی۔ اور جب وہ اپنی سرین کو ڈھانپتا تھا تو اس کا سر کھل جاتا تھا۔ پس یہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ رات کے وقت یہ مدینہ میں داخل ہوا۔ پھر یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محاذات میں پہنچ گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز پڑھ چکے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ یا رسول اللہ! اپنا ہاتھ پھیلائیں تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کروں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک پھیلایا۔ پس جب رعیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ رکھنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو واپس کھینچ لیا۔ رعیہ نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اپنا ہاتھ پھیلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا۔ رعیۃ السُّحَیمی ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی کلائی سے پکڑ کر اس کی کلائی کو بلند کیا پھر فرمایا: اے لوگو! یہ رعیۃ السُحیمی ہے جس کی طرف میں نے خط لکھا تو اس نے میرا خط لے کر اس سے اپنا ڈول سی لیا اب اسلام لے آیا ہے۔ پھر رعیہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے اہل و عیال اور میرا مال؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا مال تو مسلمانوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ اور تیرے اہل و عیال۔ پس ان میں سے تو جس پر قادر ہو ان کو دیکھ لو (مل جائیں گے) رعیہ کہتے ہیں۔ میں باہر آیا تو میرا بیٹا جو کہ کجاوہ پہچان چکا تھا۔ وہ کجاوے کے پاس کھڑا ہوا تھا۔ پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کای۔ یہ میرا بیٹا ہے۔ پھر میرے ساتھ حضرت بلال کو بھیجا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ چلے جاؤ اور اس لڑکے سے پوچھو۔ تمہارا والد یہی ہے؟ پس اگر وہ کہے: ہاں! تو وہ لڑکا اس کو دے دو۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت بلال اس جوان کے پاس آئے اور اس سے پوچھا: تمہارا باپ یہی ہے؟ نوجوان نے جواب دیا: ہاں! حضرت بلال نے وہ جوان رعیہ کے حوالہ کردیا۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت بلال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: بخدا! میں نے ان دونوں میں سے کسی ایک کو اپنے ساتھی کے دیدار پر روتے ہوئے نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہی تو اہل دیہات کا اکھڑ پن ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39400]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39400، ترقيم محمد عوامة 37794)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39400 in Urdu