مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
22. ما جاء في الحبشة وأمر النجاشي وقصة إسلامه
حبشہ اور نجاشی کے معاملہ سے متعلق اور اس کے اسلام لانے کا قصہ
ترقیم عوامۃ: 37795 ترقیم الشثری: -- 39401
٣٩٤٠١ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا عبيد الله بن موسى قال: اخبرنا إسرائيل عن ابي (إسحاق) (٢) عن ابي بردة عن ابي موسى قال: امرنا رسول الله ﷺ ان ننطلق مع جعفر بن ابي طالب إلى ارض النجاشي، قال: فبلغ ذلك قومنا، فبعثوا عمرو بن العاص وعمارة بن الوليد، وجمعوا للنجاشي هدية فقدمنا وقدما على النجاشي، فاتوه بهديته فقبلها وسجدوا (له) (٣) ، ثم قال له عمرو بن (العاص) (٤) : إن قوما منا رغبوا عن ديننا وهم في ارضك، فقال لهم النجاشي: في ارضي؟ قالوا: نعم، فبعث إلينا، فقال لنا جعفر: لا يتكلم منكم احد، (٥) انا خطيبكم اليوم، قال: فانتهينا إلى النجاشي وهو جالس في مجلسه وعمرو بن العاص ⦗٤١٩⦘ عن يمينه وعمارة عن يساره، والقسيسون والرهبان جلوس (٦) (سماطين) (٧) وقد (قال) (٨) له عمرو بن العاص وعمارة: إنهم (لا) (٩) يسجدون لك، قال: فلما انتهينا إليه زبرنا من عنده من القسيسين والرهبان: اسجدوا للملك، فقال جعفر: لا نسجد إلا لله، فلما انتهينا إلى النجاشي قال: ما يمنعك ان تسجد؟ قال: لا نسجد إلا لله، قال له النجاشي: وما ذاك؟ قال: إن الله بعث فينا رسوله، وهو الرسول الذي بشر به عيسى بن مريم (١٠) ، ﴿برسول ياتي من بعدي اسمه احمد﴾ [الصف: ٦] ، فامرنا ان نعبد الله ولا نشرك به شيئا، ونقيم الصلاة ونؤتي الزكاة، وامرنا بالمعروف ونهانا عن المنكر، قال: فاعجب النجاشي قوله، فلما راى ذلك عمرو بن العاص قال: (اصلح) (١١) الله الملك، إنهم يخالفونك في ابن مريم (١٢) ؟ فقال النجاشي لجعفر: ما يقول صاحبك في ابن مريم؟ قال: يقول فيه قول الله: (هو) (١٣) روح الله وكلمته اخرجه من البتول العذراء التي لم يقربها بشر، قال: فتناول النجاشي عودا من الارض فقال: يا معشر (القسيسين) (١٤) والرهبان ما يزيد ما يقول هؤلاء على ما تقولون في ابن مريم ما (يزن) (١٥) هذه، مرحبا بكم وبمن جئتم من عنده، فانا اشهد ⦗٤٢٠⦘ انه رسول الله والذي بشر به عيسى بن مريم (١٦) ، ولولا ما انا فيه من الملك لاتيته حتى احمل نعليه، امكثوا في ارضي ما شئتم، وامر لنا بطعام وكسوة، وقال: ردوا على هذين هديتهما، قال: وكان عمرو بن العاص رجلا قصيرا، وكان عمارة بن الوليد رجل جميلا، قال: فاقبلا في البحر إلى النجاشي، قال: فشربوا، قال: ومع عمرو بن (العاص) (١٧) امراته، فلما شربوا الخمر قال عمارة لعمرو: مر امراتك (فلتقبلني) (١٨) ، فقال له عمرو: الا تستحي، فاخذه عمارة فرمى به (في البحر) (١٩) فجعل عمرو يناشده حتى ادخله السفينة، فحقد عليه عمرو ذلك، فقال عمرو للنجاشي: إنك إذا خرجت خلف عمارة في اهلك، قال: فدعا النجاشي بعمارة فنفخ في (إحليله) (٢٠) فصار مع الوحش (٢١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) في [جـ]: (إسرائيل).
(٣) سقط من: [أ، ب، س]، وفي [أ، ب]: (سجد له).
(٤) في [أ، ي]: (العاصي).
(٥) في [أ، ب]: زيادة (إلا).
(٦) في [ق]: زيادة (فيما بين سماعين).
(٧) في [أ، ب]: (شماطين).
(٨) في [أ، ب]: (قالوا).
(٩) سقط من: [س].
(١٠) في [س]: زيادة ﵉.
(١١) سقط من: [س].
(١٢) في [س]: زيادة ﵉.
(١٣) سقط من: [س].
(١٤) في [س]: (القسيسان).
(١٥) في [أ، ب، س]: (ترن).
(١٦) في [س]: زيادة ﵉.
(١٧) في [أ، ب، ي]: (العاصي).
(١٨) في [أ، ب]: (لتقبلني).
(١٩) سقط من: [س].
(٢٠) في [أ]: (إجليله).
(٢١) صحيح؛ أخرجه عبد بن حميد (٥٥٠)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٦٦)، والحاكم ٢/ ٣٠٩، والروياني (٥٠٢)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١١٤، وابن سعد في الطبقات ٤/ ١٠٦، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٢٩٩.
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حضرت جعفر بن ابی طالب کے ہمراہ ارض ِ نجاشی کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ ابو موسیٰ کہتے ہیں۔ یہ بات ہماری قوم کو معلوم ہوئی تو انہوں نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن الولید کو بھیجا۔ اور نجاشی کے لئے تحائف اکٹھے کئے۔ پس ہم بھی (وہاں) پہنچے اور وہ دونوں بھی پہنچے۔ یہ دونوں اس کے پاس ہدایا لے کر حاضر ہوئے تو اس نے ان ہدایا کو قبول کرلیا۔ ان لوگوں (قاصدین قریش) نے اس کو سجدہ کیا۔ پھر عمرو بن العاص نے نجاشی سے کہا۔ ہماری قوم میں سے کچھ لوگ اپنے دین سے پھرگئے ہیں اور وہ (اس وقت) تمہاری زمین میں ہیں۔ نجاشی نے ان سے پوچھا۔ میری زمین میں؟ قاصدین نے کہا: جی ہاں! پھر نجاشی نے ہماری طرف (آدمی) بھیجا۔ ٢۔ حضرت جعفر نے ہمیں کہا۔ تم میں سے کوئی نہ بولے آج تمہارا خطیب میں ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ پس ہم نجاشی کے پاس پہنچے۔ اور اپنی مجلس میں بیٹھا ہو اتھا۔ عمرو بن العاص اس کے دائیں طرف اور عمارہ اس کے بائیں طرف بیٹھاہو اتھا۔ عباد اور زاہد لوگ دو صفیں بنا کر بٹھے۔ ہوئے تھے۔ عمرو بن العاص اور عمارہ نے نجاشی سے کہہ دیا تھا۔ کہ یہ لوگ تمہیں سجدہ نہیں کریں گے۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب ہم اس کے پاس پہنچے تو اس کے پاس موجود زاہدوں اور عباد نے ہمیں روک دیا کہ بادشاہ کو سجدہ کرو۔ حضرت جعفر نے فرمایا: ہم اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے۔ پھر جب ہم نجاشی کے پاس پہنچے تو نجاشی نے پوچھا۔ تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے منع کیا؟ حضرت جعفر نے جواب دیا۔ ہم اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتے۔ نجاشی نے حضرت جعفر سے پوچھا۔ یہ کیا (وجہ) ہے؟ حضرت جعفر نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان اپنے ایک رسول کو مبعوث فرمایا ہے۔ اور یہ وہی رسول ہے جس کی بشارت حضرت عیسیٰ بن مریم نے دی تھی۔ (بِرَسُولٍ یَأْتِی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ أَحْمَدُ) پس اس رسول نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللہ ہی کی عبادت کریں اور ہم اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں اور ہم نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں اور اس رسول نے ہمیں اچھائی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا۔ راوی کہتے ہیں: نجاشی کو حضرت جعفر کی بات نے تعجب میں ڈال دیا۔ ٤۔ جب عمرو بن العاص نے یہ حالت دیکھی تو بولا۔ اللہ تعالیٰ بادشاہ کو سلامت رکھے! یہ لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم i میں آپ کی مخالفت کرتے ہیں۔ نجاشی نے حضرت جعفر سے پوچھا۔ تمہارا ساتھی (نبی) عیسیٰ بن مریم i کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ حضرت جعفر نے فرمایا۔ وہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں خدا کا یہ کلام کہتے ہیں۔ کہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ اللہ پاک نے ان کو اس کنواری زاہدہ عورت سے پیدا کیا ہے جس کے قریب کوئی بندہ بشر نہیں گیا۔ راوی کہتے ہیں۔ نجاشی نے زمین سے ایک لکڑی (تنکا) اٹھائی اور کہا۔ اے جماعت عُبَّاد و زُہَّاد! حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارے میں جو بات تم کہتے ہو۔ ان لوگوں کی کہی ہوئی بات تمہاری بات سے اس لکڑی کے وزن سے بھی زیادہ نہیں ہے۔ تمہیں آنا مبارک ہو اور اس کو بھی مبارک ہو جس کے پاس سے تم آئے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ خدا کا رسول ہے اور وہی رسول ہے جس کی بشارت حضرت عیسیٰ بن مریم i نے دی تھی۔ اگر میں ان حکومتی احوال میں نہ ہوتا تو میں اس کے پاس حاضر ہوتا تاکہ میں اس کے جوتے اٹھاتا۔ جتنی دیر تمہارا دل چاہے تم میری زمین میں رہو۔ پھر نجاشی نے ہمارے لئے کھانے اور کپڑوں کا حکم دیا اور کہا۔ ان دونوں (قاصدین قریش) کو ان کے ہدایا واپس کردو۔ ٥۔ راوی کہتے ہیں: عمرو بن العاص پستہ قد آدمی تھا۔ اور عمارہ بن الولید ایک خوبرو نوجوان تھا۔ راوی کہتے ہیں: یہ دونوں نجاشی کے سامنے سمندر میں آئے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر انہوں نے شراب پی۔ کہتے ہیں۔ عمرو بن العاص کے ہمراہ اس کی بیو ی بھی تھی۔ تو جب انہوں نے شراب نوشی کی تو عمارہ نے عمرو سے کہا۔ اپنی بیوی کو حکم دو کہ وہ مجھے بوسہ دے۔ عمرو نے عمارہ کو کہا۔ تمہیں شرم نہیں آتی۔ پس عمارہ نے عمرو کو پکڑا اور اس کو سمندر میں پھینکنے چلا تو عمرو نے اس کو مسلسل دہائی دینی شروع کی یہاں تک کہ عمارہ نے عمرو کو کشتی مں ی داخل کردیا۔ اس بات پر عمرو نے عمارہ کو موقع پا کر نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا۔ تو عمرو نے نجاشی سے کہا۔ جب تم باہر جاتے ہو تو عمارہ تمہارے گھر والوں کے پاس آتا جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ نجاشی نے عمارہ کو بلا بھیجا اور اس کی پیشاب کی نالی میں پھونک مروا دی پس عمارہ وحشیوں کے ساتھ ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39401]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39401، ترقيم محمد عوامة 37795)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39401 in Urdu