مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
25. غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها
بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا،اور غزوہ بدر کے واقعات
ترقیم عوامۃ: 37815 ترقیم الشثری: -- 39422
٣٩٤٢٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن عمرو الليثي عن (١) جده قال: (خرج) (٢) رسول الله ﷺ إلى بدر حتى إذا كان بالروحاء (خطب الناس) (٣) ⦗٤٢٩⦘ فقال:"كيف ترون؟" [قال ابو بكر: يا رسول الله (بلغنا) (٤) انهم بكذا وكذا، قال: ثم خطب الناس فقال:"كيف ترون؟"] (٥) فقال عمر مثل قول ابي بكر ثم خطب فقال:"ما ترون؟" فقال سعد بن معاذ: إيانا تريد، فوالذي اكرمك (٦) وانزل عليك الكتاب ما سلكتها قط ولا لي بها علم، (ولئن) (٧) سرت حتى تاتي برك الغماد من ذي يمن لنسيرن معك، ولا نكون (كالذين) (٨) قالوا لموسى من بني إسرائيل: ﴿ (اذهب) انت وربك فقاتلا إنا هاهنا قاعدون﴾ [المائدة: ٢٤] ، ولكن اذهب انت وربك فقاتلا إنا معكما متبعون، ولعلك ان تكون خرجت لامر واحدث الله (٩) غيره (فانظر) (١٠) (١١) الذي احدث الله إليك فامض له، (فحل) (١٢) (حبال) (١٣) من شئت، واقطع حبال من (شئت) (١٤) ، وسالم من شئت، وعاد من شئت، وخذ من اموالنا ما شئت، فنزل القرآن على (قول) (١٥) سعد: ﴿كما اخرجك ربك من بيتك بالحق (وإن فريقا من المؤمنين) (١٦) ⦗٤٣٠⦘ (لكارهون) (١٧) ﴾ إلى قوله: ﴿ (ويقطع) (١٨) دابر الكافرين﴾ [الانفال: ٥ و ٧] ، وإنما خرج رسول الله ﷺ يريد غنيمة (ما) (١٩) مع ابي سفيان فاحدث الله (لنبيه) (٢٠) القتال (٢١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في الدر المنثور ٤/ ١٥، وتفسير ابن كثير ٢/ ٢٨٨، والبداية والنهاية ٣/ ٢٦٤ زيادة: (عن أبيه).
(٢) في [أ، ب]: (جزم).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) سقط ما بين المعكوفين في: [جـ].
(٦) في [جـ]: زيادة (بالحق).
(٧) في [أ، ب]: (ولين).
(٨) في [س]: (كالذي).
(٩) في [هـ]: زيادة (إليك).
(١٠) في [ب]: (أنظر).
(١١) في [أ، ب]: زيادة (إلى).
(١٢) في [ق، هـ]: (فصل).
(١٣) في [ي]: (جبال).
(١٤) في [هـ]: (جئت).
(١٥) في [ق]: (قوله).
(١٦) سقط من: [أ، ب].
(١٧) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(١٨) في [س]: (وليقطع).
(١٩) سقط من: [س].
(٢٠) في [هـ]: (إليه).
(٢١) مرسل؛ علقمة بن وقاص جد محمد تابعي.
حضرت محمد بن عمرو اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی طرف نکلے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقامِ روحاء پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور پوچھا تم لوگوں کی کیا رائے ہے؟ حضرت ابوبکر نے جواباً عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ وہ فلاں جگہ میں اور اتنی مقدار میں ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور پوچھا: تم لوگوں کی کیا رائے ہے؟ تو حضرت عمر نے (بھی) حضرت ابوبکر کی طرح جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور پوچھا۔ تم لوگوں کی کیا رائے ہے؟ تو حضرت سعد بن معاذ نے جواباً عرض کیا۔ آپ کی مراد ہم ہیں؟ قسم اس ذات کی! جس نے آپ کو عزت بخشی اور آپ پر کتاب کو نازل کیا۔ میں اس راہ پر کبھی نہیں چلا اور نہ ہی مجھے اس کا علم ہے۔ لیکن اگر چلتے چلتے ذی یمن مقام میں برک غماد تک بھی پہنچ جائیں گے تو البتہ ہم ضرور بالضرور آپ کے ہمراہ چلتے رہیں گے۔ اور ہم ان لوگوں کی مثال نہیں بنیں گے۔ جنہوں نے بنی اسرائیل میں سے (ہو کر) موسیٰ سے کہا۔ { اذْہَبْ أَنْتَ وَرَبُّک فَقَاتِلاَ، إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ }۔ بلکہ (ہم یہ کہیں گے) آپ اور آپ کا رب جا کر قتال کرے اور ہم آپ کے ہمراہ پیروی کرنے والے ہوں گے۔ اور ہوسکتا ہے کہ آپ کسی کام کے لئے نکلے ہوں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے کسی دوسرے امر کو رونما کر دے۔ پس آپ اس موملہ کو دیکھیں جس کو اللہ تعالیٰ آپ کے لئے رونما کرے اور آپ اسی کو پورا کریں۔ سو جس سے آپ چاہیں تعلق قائم کریں اور جس سے آپ چاہیں تعلق کاٹ لیں۔ اور جس سے چاہیں صلح کرلیں اور جس سے چاہیں دشمنی کرلیں۔ اور ہمارے اموال میں سے جو دل چاہے لے لیں۔ حضرت سعد کی بات پر یہ آیت قرآنی نازل ہوئی۔ { کَمَا أَخْرَجَک رَبُّکَ مِنْ بَیْتِکَ بِالْحَقِّ، وَإِنَّ فَرِیقًا مِنَ الْمُؤْمِنِینَ لَکَارِہُونَ سے لے کر وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکَافِرِینَ } اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ ابو سفیان کے پاس موجود مال غنیمت بنا کرلینا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے قتال کا واقعہ رونما کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39422]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39422، ترقيم محمد عوامة 37815)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39422 in Urdu