مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
25. غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها
بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا،اور غزوہ بدر کے واقعات
ترقیم عوامۃ: 37840 ترقیم الشثری: -- 39447
٣٩٤٤٧ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام عن ابيه ان رقية بنت رسول الله ﷺ توفيت، (فخرج) (١) النبي ﵊ (٢) إلى بدر وهي امراة عثمان، فتخلف عثمان واسامة بن زيد يومئذ، فبينما هم يدفنونها إذ سمع عثمان تكبيرا، فقال: يا اسامة، انظر ما هذا التكبير؟ فنظر فإذا هو زيد بن حارثة على ناقة رسول الله ﷺ الجدعاء يبشر بقتل اهل بدر من المشركين، فقال المنافقون: لا والله ما هذا بشيء، ما هذا إلا الباطل، حتى (جيء) (٣) بهم مصفدين مغللين (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: بياض.
(٢) في [أ، ب، جـ، ي]: ﷺ.
(٣) في [ق]: (أتي).
(٤) مرسل؛ عروة تابعي، وأخرجه الحاكم ٤/ ٤٧، والبخاري في التاريخ الأوسط ١/ ١٨، وابن شبه في تاريخ المدينة (٣٢١)، وأخرجه البيهقي ٩/ ١٧٤ من حديث عروة عن أسامة بن زيد.
حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی طرف نکلے ہوئے تھے۔ یہ حضرت عثمان کی اہلیہ تھیں۔ پس حضرت عثمان اور حضرت اسامہ بن زید اس دن پیچھے رہ گئے۔ پھر جب یہ لوگ حضرت زید کو دفن کر رہے تھے تو اس دوران حضرت عثمان نے تکبیر کی آواز سُنی۔ تو حضرت عثمان نے کہا: اے اسامہ! یہ تکبیر کی آواز کیسی؟ حضرت اسامہ نے دیکھا وہ حضرت زید بن حارثہ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدعاء (ناک کٹی) اونٹنی پر سوار تھے اور اہل بدر مشرکوں کی ہلاکت کی بشارت دے رہے تھے۔ (اس پر) منافقین نے کہا: بخدا! یہ کوئی (معتبر) بات نہیں ہے۔ یہ محض جھوٹ ہے۔ یہاں تک کہ مشرکین کو مقید کر کے اور خوب کس کر لایا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39447]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39447، ترقيم محمد عوامة 37840)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39447 in Urdu