مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
25. غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها
بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا،اور غزوہ بدر کے واقعات
ترقیم عوامۃ: 37845 ترقیم الشثری: -- 39452
٣٩٤٥٢ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش (عن عمرو بن مرة) (١) عن ابي عبيدة عن عبد الله قال: لما كان يوم بدر قال رسول الله ﷺ:"ما تقولون (في) (٢) هؤلاء الاسارى؟" قال ابو بكر: يا رسول الله قومك و (اصلك) (٣) (استبقهم) (٤) واستتبهم، لعل الله ان يتوب عليهم، وقال عمر: يا رسول الله، كذبوك واخرجوك، قدمهم نضرب اعناقهم، وقال عبد الله بن رواحة: يا رسول الله ⦗٤٤٥⦘ [ (انت) (٥) في واد كثير الحطب فاضرم الوادي عليهم نارا ثم القهم فيه، فقال العباس: قطع الله] (٦) رحمك، قال: فسكت رسول الله ﷺ فلم يرد عليهم. ثم قام (٧) فدخل، فقال اناس: ياخذ يقول ابي بكر، وقال اناس: ياخذ يقول عمر، وقال اناس: ياخذ يقول عبد الله بن رواحة. ثم خرج رسول الله ﷺ فقال:"إن الله ليلين قلوب رجال فيه حتى تكون الين من اللبن، وإن الله ليشدد قلوب رجال فيه حتى تكون اشد من الحجارة وإن مثلك يا ابا بكر مثل إبراهيم قال: ﴿فمن تبعني فإنه مني ومن عصاني فإنك غفور رحيم﴾ [إبراهيم: ٣٦] ، وإن مثلك يا ابا بكر كمثل عيسى قال: ﴿إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك انت العزيز الحكيم﴾ [المائدة: ١١٨] ، وإن مثلك يا عمر مثل موسى قال: ﴿ربنا اطمس على اموالهم واشدد على قلوبهم فلا يؤمنوا حتى يروا العذاب الاليم﴾ [يونس: ٨٨] ، وإن مثلك يا عمر مثل نوح قال: ﴿رب لا تذر على الارض من الكافرين ديارا﴾ [نوح: ٢٦] ، انتم عالة، فلا ينفلتن احد منهم إلا بفداء او ضربة عنق". فقال ابن مسعود: يا رسول الله إلا (سهيل) (٨) بن بيضاء فإني قد سمعته يذكر الإسلام، قال: (فسكت) (٩) رسول الله ﷺ، فما رايتني في يوم اخوف ان تقع علي حجارة من السماء مني في ذلك اليوم حتى قائل رسول الله ﷺ إلا سهيل بن بيضاء، فانزل الله: ﴿ما كان لنبي ان يكون له اسرى حتى يثخن في الارض﴾ [الانفال: ٦٧] ، ⦗٤٤٦⦘ إلى آخر الآية (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: تكرر.
(٢) سقط من: [س].
(٣) في المسند: (أهلك).
(٤) في [هـ]: (استقبهم).
(٥) في [هـ]: (أنت).
(٦) هكذا في [ق، هـ]، وبنحوه مصادر التخريج، وسقط في باقي النسخ.
(٧) في [جـ، ي]: زيادة (رجل).
(٨) في المسند: (٣٦٣٤): (سهل)، وخطأ ابن سعد ٤/ ٢١٣ من قال سهيل، لأنه من المتقدمين بالإسلام المظهرين له وقد هاجر وشهد بدرًا مع المسلمين.
(٩) في [أ]: (فسألت).
(١٠) منقطع؛ أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبد اللَّه بن مسعود، أخرجه أحمد (٣٦٣٢)، والترمذي (١٧١٤)، والحاكم ٣/ ٢١، والبيهقي ٦/ ٣٢١، والطبري في التاريخ ٢/ ٤٧٦، والطبراني (١٠٢٥٩)، وأبو عبيد في الأموال (٣٠٦)، والواحدي في أسباب النزول ص ٢٣٦، وأبو يعلى (٥١٨٧)، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ٢٠٤.
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ جب بدر کا دن تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم لوگوں کی اسیران بدر کے بارے میں کیا رائے ہے؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! (یہ لوگ) آپ کی قوم و قبیلہ کے ہیں۔ آپ ان کی بقاء اور ان کی توبہ کے طلب گار بنیے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف رجوع کرلے (یعنی ہدایت دے دے)۔ اور حضرت عمر نے فرمایا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ان لوگوں نے آپ کی تکذیب کی اور انہوں نے آپ کو (شہر سے) باہر نکالا۔ انہیں آگے کریں تاکہ ہم ان کی گردن زنی کریں۔ اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ ایسی وادی میں ہیں جہاں لکڑیاں بہت زیادہ ہیں۔ پس آپ ان پر اس وادی کو آگ سے دہکا دیں پھر آپ انہیں اس دہکتی آگ میں ڈال دیں۔ (اس پر) عباس نے کہا۔ اللہ تیرے رشتہ کو کاٹ دے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے اور صحابہ کو کوئی جواب نہیں دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور اندر چلے گئے۔ لوگوں نے کہنا شروع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکر کا قول لیں گے اور (بعض) لوگوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عمر کا قول لیں گے۔ اور (بعض) لوگوں نے کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عبد اللہ بن رواحہ کا قول لیں گے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان (قیدیوں) کے بارے بعض مردوں کے دلوں کو نرم کردیا ہے۔ یہاں تک وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہوگئے ہیں۔ اور کچھ لوگوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے ا ن کے بارے میں سخت کردیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوگئے ہیں اور اے ابوبکر! تیری مثال تو حضرت ابراہیم کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا تھا۔ { فَمَنْ تَبِعَنِی فَإِنَّہُ مِنِّی، وَمَنْ عَصَانِی فَإِنَّکَ غَفُورٌ رَحِیمٌ}۔ اور تیری مثال۔ اے ابوبکر! حضرت عیسیٰ کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا تھا۔ {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ }۔ اور تیری مثال، اے عمر! موسیٰ کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا تھا۔ { رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَی أَمْوَالِہِمْ، وَاشْدُدْ عَلَی قُلُوبِہِمْ، فَلاَ یُؤْمِنُوا حَتَّی یَرَوُا الْعَذَابَ الأَلِیمَ } اور اے عمر! تیری مثال حضرت نوح کی طرح ہے انہوں نے کہا تھا۔ { رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الأَرْضِ مِنَ الْکَافِرِینَ دَیَّارًا }۔ تم لوگ (اس وقت) مفلس ہو پس ان میں سے کوئی بھی رہائی نہیں پائے گا۔ مگر فدیہ کے ساتھ یا گردن مارنے کے ساتھ۔ حضرت ابن مسعود نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! سہیل بن بیضاء کو مستثنیٰ کر دیجئے کیونکہ میں نے اس کو اسلام کا ذکر کرتے ہوئے سُنا ہے۔ ابن مسعود کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکوت اختیار فرما لیا۔ ”پس مجھے اس دن سے زیادہ کسی دن یہ خوف لاحق نہیں ہوا کہ (کہیں) مجھ پر آسمان سے پتھر (نہ) گرپڑیں۔“ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ سہیل بن بیضاء کو استثناء ہے۔ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ } آخر آیت تک۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39452]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39452، ترقيم محمد عوامة 37845)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39452 in Urdu