مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
25. غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها
بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا،اور غزوہ بدر کے واقعات
ترقیم عوامۃ: 37844 ترقیم الشثری: -- 39451
٣٩٤٥١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) محمد بن إسحاق عن عبد الله ابن ابي بكر عن يحيى بن (عبد الله بن عبد الرحمن) (٢) بن (اسعد) (٣) بن زرارة قال: قدم باسارى بدر، وسودة بنت زمعة زوج النبي ﵊ (٤) ⦗٤٤٤⦘ عند آل عفراء في (مناحتهم) (٥) على (عوف) (٦) ومعوذ ابني عفراء، وذلك قبل ان يضرب عليهن الحجاب، قالت: قدم بالاسارى فاتيت منزلي، فإذا انا بسهيل بن عمرو في ناحية الحجوة، مجموعة يداه إلى عنقه، فلما رايته ما ملكت نفسي (ان قلت:) (٧) ابا يزيد اعطيتم بايديكم، الا متم كراما؟ قالت: فوالله ما (نبهني) (٨) إلا قول رسول الله ﷺ من داخل البيت:"اي سودة، اعلى الله (وعلى) (٩) رسوله؟" قلت: يا رسول الله والله إن ملكت نفسي حيث رايت ابا يزيد ان قلت ما قلت (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (أنبأنا)، وفي [ي]: (حدثنا).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ط]: (عباد عن عبد الرحيم).
(٣) في [ق، هـ، ي]: (سعد).
(٤) في [أ، ب، جـ، ي]: ﷺ.
(٥) في [أ، ب، جـ، س، ي]: (مناخهم).
(٦) في [جـ]: (غوف)، وفي [أ، ب، ط]: (عوذ).
(٧) في [س]: (حيث رأيت).
(٨) في [س]: (نهنني)، وفي [أ، ب]: (ينتهمني)، وفي [ي]: (تهنهني).
(٩) سقط من: [جـ].
(١٠) مرسل؛ يحيى تابعي، وأخرجه أبو داود (٢٦٧٩)، والحاكم ٣/ ٢٢، وابن هشام في السيرة ٣/ ١٩٤، وابن جرير في التاريخ ٢٠/ ٣٩، والطبرانى ٢٤/ (٩٢)، والبيهقي ٩/ ٨٩، واين الأثير في أسد الغابة ٣/ ٤٣٩، والمزي ٣٥/ ٢٠٢.
حضرت یحییٰ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ بدر کے قیدیوں کو لایا گیا۔ اس وقت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ، حضرت سودہ بنت زمعہ، عفراء کے بیٹوں عوف اور معوِّذ کی سوگ منانے والی عورتوں کے ساتھ آل عفراء کے ساتھ تشریف فرما تھیں۔ یہ عورتوں پر حجاب کا حکم اترنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ سودہ کہتی ہیں: قیدیوں کو لایا گیا۔ تو میں اپنے گھر کی طرف آئی تو مجھے اچانک، حجرہ کے کونے میں سہیل بن عمرو دکھائی دیا درآنحالیکہ اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ جمع (باندھے) کئے ہوئے تھے۔ پس جب میں نے اس کو دیکھا۔ تو میرا خود پر قابو نہ رہا اور میں نے کہہ دیا۔ ابو یزید! تم نے اپنے ہاتھوں سے (اپنا آپ) حوالہ کردیا ہے۔ تم لوگ عزت کی موت کیوں نہ مرگئے۔ حضرت سودہ فرماتی ہیں۔ بخدا! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گھر سے آنے والی آواز کے سوا کسی نے تنبیہ نہیں کی۔ کہ ”اے سودہ! کیا اللہ اور اس کے رسول سے بھی اوپر؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم؟ بخدا! جب میں نے ابو یزید کو دیکھا تو میرا خود پر قابو نہ رہا کہ جو میں نے کہنا تھا وہ میں نے کہہ دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39451]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39451، ترقيم محمد عوامة 37844)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39451 in Urdu