🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها
بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا،اور غزوہ بدر کے واقعات
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37852 ترقیم الشثری: -- 39459
٣٩٤٥٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (ابي) (١) (و) (٢) إسرائيل عن ابي إسحاق ⦗٤٤٨⦘ عن ابي عبيدة قال: قال عبد الله: انتهيت إلى ابي جهل يوم بدر وقد ضربت رجله وهو صريع، وهو يذب الناس عنه بسيفه، فقلت: الحمد لله الذي اخزاك يا عدو الله، قال: هل هو إلا رجل قتله قومه، قال: فجعلت اتناوله بسيف لي غير طائل فاصبت يده فندر سيفه فاخذته فضربته به حتى برد ثم خرجت حتى اتيت النبي ﷺ كانما اقل من الارض -يعني (من السرعة) (٣) ، (فاخبرته) (٤) فقال:"الله الذي لا إله إلا هو"، (فرددها) (٥) علي ثلاثا، فخرج يمشي معي حتى قام عليه فقال:"الحمد لله الذي اخزاك -يا عدو الله- هذا كان فرعون هذه الامة" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق]: (أبو).
(٢) في [أ]: زيادة (ابن).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [ب]: (أخذته).
(٥) في [س]: (فردوه)، وفي [أ]: (فوقها).
(٦) منقطع؛ أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود، أخرجه أحمد (٤٢٤٦)، وأبو داود (٣٧٢٢)، وأبو يعلى (٥٢٣١)، والشاشي (٩٣٢)، والطبراني (٨٤٦٨)، والبيهقي ٩/ ٦٢، والطيالسي (٣٢٨)، والبزار (١٧٧٥/ كشف).

حضرت عبد اللہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں بدر والے دن ابو جہل کے پاس پہنچا جبکہ اس کے پاؤں پر ضرب لگی ہوئی تھی اور وہ نیم مردہ حالت میں تھا اور وہ خود سے لوگوں کو اپنی تلوار کے ذریعہ سے ہٹا رہا تھا۔ میں نے کہا۔ اے دشمن خدا! تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے تجھے رسوا کیا ہے۔ کہا: کہ وہ ایسا شخص ہے جس کو اس کی قوم نے قتل کیا ہے۔ عبد اللہ کہتے ہیں۔ پس میں نے اس کو اپنی چھوٹی سی تلوار سے لینا شروع کیا اور میں اس کے ہاتھ تک پہنچ گیا تو اس کی تلوار گرگئی۔ میں نے وہ تلوار پکڑ لی اور ابو جہل کو اسی تلوار کے ذریعہ سے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر میں (وہاں سے) نکلا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں (اس طرح) حاضر ہو اگویا کہ مجھے زمین سے اٹھایا گیا ہے (یعنی تیزی سے گیا) اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبردی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی ہی؟ الذی لا الہ الا ھو؟ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر تین مرتبہ دہرائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہمراہ چلتے ہوئے باہر تشریف لائے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے اور فرمایا؛ اے دشمن خدا! تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے تجھے رسوا کیا۔ یہ شخص اس امت کا فرعون تھا۔ حضرت وکیع کہتے ہیں۔ میرے والد نے بواسطہ ابو اسحاق از ابو عبیدہ یہ اضافہ کیا ہے کہ عبد اللہ کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کی تلوار عطا فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39459]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39459، ترقيم محمد عوامة 37852)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39459 in Urdu