🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها
بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا،اور غزوہ بدر کے واقعات
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37863 ترقیم الشثری: -- 39471
٣٩٤٧١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت (عن) (١) انس ان رسول الله ﷺ شاور حيث بلغه إقبال ابي سفيان، قال: فتكلم ابو بكر، فاعرض ⦗٤٥٣⦘ عنه ثم تكلم عمر: فاعرض عنه، فقال سعد بن عبادة: إيانا تريد يا رسول الله والذي نفسي بيده لو امرتنا ان نخيضها البحر لاخضناها، ولو امرتنا ان (نضرب) (٢) اكبادها إلى برك الغماد لفعلنا، قال: فندب رسول الله ﷺ الناس. قال: فانطلقوا حتى نزلوا بدرا (٣) وردت عليهم (روايا) (٤) قريش، وفيهم غلام اسود لبني الحجاج، فاخذوه فكان اصحاب رسول الله ﷺ يسالونه عن ابي سفيان واصحابه فيقول: ما لي علم بابي سفيان، ولكن هذا ابو جهل وعتبة وشيبة وامية ابن خلف، فإذا قال ذلك ضربوه، (فإذا ضربوه) (٥) قال: نعم انا اخبركم، هذا ابو سفيان، فإذا تركوه (٦) قال: مالي بابي سفيان علم، ولكن هذا ابو جهل وعتبة وشيبة وامية بن خلف في الناس، فإذا (قال) (٧) هذا ايضا ضربوه، ورسول الله ﷺ قائم يصلي. فلما راى ذلك انصرف، قال:"والذي نفسي بيده إنكم لتضربونه إذا (صدقكم) (٨) ، (وتتركونه) (٩) إذا كذبكم". قال: وقال رسول الله ﷺ:"هذا مصرع فلان"، يضع يده على الارض هاهنا، وههنا فما ماط احدهم عن موضع يد رسول الله ﷺ (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (ابن).
(٢) في [س]: (تضرب).
(٣) في [ق، هـ]: زيادة (و).
(٤) في [أ، ب]: (زوايا).
(٥) سقط من: [ب، س، هـ].
(٦) في [أ، ب، ط]: زيادة: (سألوه).
(٧) في [أ، ب]: (قالوا).
(٨) في [أ، ب]: (صدق).
(٩) في [ب]: (ويضربونه).
(١٠) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٧٩)، وأحمد (١٣٢٩٧).

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب ابو سفیان کے آنے کی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشورہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت ابوبکر نے گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اعراض کیا پھر حضرت عمر نے کلام شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے (بھی) اعراض کیا۔ پھر حضرت سعد بن عبادہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کی مراد ہم ہیں؟ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں گھوڑے سمندر میں ڈالنے کا حکم دیں گے تو البتہ ہم گھوڑوں کو سمندر میں ڈال دیں گے۔ اور اگر آپ ہمیں برک غماد تک گھوڑے دوڑانے کا حکم دیں گے تو ہم یہ بھی کریں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو آمادہ فرمایا۔ ٢۔ راوی کہتے ہیں۔ پس صحابہ چل پڑے یہاں تک کہ وہ بدر میں جا کر اترے تو ان کے پاس قریش کے پانی بھرنے والے اونٹ آپہنچے اور ان میں بنو حجاج کا ایک کالا غلام بھی تھا۔ پس صحابہ نے ان کو پکڑ لیا۔ اصحابِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے جواب دیا۔ مجھے ابو سفیان کا کوئی علم نہیں ہے لیکن یہ ابو جہل، عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف (آ رہے) ہیں۔ پس یہ غلام جب یہ بات کہتا تو صحابہ کرام اس کو مارتے۔ اور جب صحابہ کرام اس کو مارتے تو وہ کہتا۔ ہاں! میں بتاتا ہوں۔ یہ ابو سفیان (آ رہا) ہے۔ پھر جب صحابہ کرام ا س کو چھوڑ دیتے تو وہ پھر کہتا۔ مجھے ابو سفیان کا کوئی علم نہیں ہے لیکن یہ ابو جہل، عتبہ، شیبہ، اور امیہ بن خلف لوگوں کے ساتھ (آ رہے) ہیں۔ پھر جب وہ یہ بات کہتا تو صحابہ کرام پھر اس کو مارتے۔ ٣۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے نماز ادا فرما رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ معاملہ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مڑے اور فرمایا: اور جب یہ تمہارے ساتھ جھوٹ بولتا ہے تو تم اس کو چھوڑ دیتے ہو۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ فلاں کی جائے قتل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھ کر فرمایا: یہاں، یہاں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعیین کردہ جگہ سے کوئی کافر ادھر ادھر (قتل) نہیں ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39471]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39471، ترقيم محمد عوامة 37863)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39471 in Urdu