مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
26. هذا ما حفظ أبو بكر في أحد وما جاء فيها
یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ اُحد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
ترقیم عوامۃ: 37941 ترقیم الشثری: -- 39550
٣٩٥٥٠ - حدثنا احمد بن عبد الله قال: حدثنا ابو بكر (عن) (١) يزيد (عن) (٢) مقسم عن ابن عباس قال: لما قتل حمزة يوم احد اقبلت صفية تطلبه لا تدري ما صنع، قال: فلقيت عليا والزبير، فقال علي للزبير: (اذكره) (٣) لامك، وقال الزبير: ⦗٤٨٢⦘ لا، بل (٤) (اذكره) (٥) انت لعمتك، قالت: ما فعل حمزة؟ قال: (فارياها) (٦) انهما لا يدريان، قال: فجاء النبي ﷺ فقال:"إني لاخاف على عقلها"، قال: فوضع (يده) (٧) على صدرها ودعا لها، قال: فاسترجعت وبكت، قال: ثم جاء فقام عليه وقد مثل به، فقال:" (لولا) (٨) جزع النساء لتركته حتى يحشر من حواصل الطير وبطون (السباع) (٩) "، قال: ثم امر بالقتلى فجعل يصلي عليهم، قال: (فيضع) (١٠) تسعة وحمزة، فيكبر عليهم سبع تكبيرات، ثم يرفعون ويترك حمزة، ثم يجاء فيكبر عليهم سبعا حتى فرغ منهم (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (ابن).
(٢) في [جـ]: (ابن).
(٣) في [أ، ب، ط، هـ]: (اذكر).
(٤) في [ع]: زيادة (قل).
(٥) في [أ، ب، ط، هـ]: (اذكر).
(٦) في [أ، ب]: (فأراهما).
(٧) في [أ، ب]: (يدها).
(٨) في [أ]: (لولى).
(٩) في [جـ]: بياض.
(١٠) في [ي]: (فنضع).
(١١) ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه الحاكم ٣/ ١٩٧، وابن ماجه (١٥١٣)، وابن سعد ٣/ ١٤، والطحاوي ١/ ٥٠٣، والطبراني ٣/ (٢٩٣٥)، والبيهقي ٤/ ١٢.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب احد کے دن حضرت حمزہ قتل ہوگئے تو حضرت صفیہ انہیں تلاش کرنے کو آئیں۔ انہیں خبر نہیں تھی کہ کیا ہوا ہے۔ راوی کہتے ہیں: ان کی ملاقات حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زبیر سے ہوئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت زبیر سے کہا۔ اپنی والدہ کو حضرت حمزہ کے بارے میں بتاؤ۔ حضرت زبیر نے کہا۔ نہیں! بلکہ آپ انہیں اپنے چچا کے بارے میں بتاؤ۔ حضرت صفیہ کہنے لگی۔ حمزہ نے کیا کیا ہے؟ راوی کہتے ہیں: ان دونوں (علی رضی اللہ عنہ، زبیر) نے اسے یہ ظاہر کیا کہ انہیں خبر نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: مجھے اس کی عقل پر خوف ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک ان کے سینہ پر رکھا اور ان کے لئے دُعا کی۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر حضرت صفیہ نے اناللہ پڑھا اور رو پڑیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور حضرت حمزہ کے پاس کھڑے ہوئے۔ درآنحالیکہ ان کا مثلہ کیا گیا تھا۔ اور فرمایا: اگر عورتوں کا رونا دھونا نہ ہوتا تو میں ان (حمزہ) کو یونہی چھوڑ دیتا تاکہ یہ میدان محشر میں پرندوں کے پوٹوں اور درندوں کے پیٹوں سے جمع ہو کر آتے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہداء کے بارے میں حکم دیا: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر نماز جنازہ پڑھنی شروع کی۔ راوی کہتے ہیں: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نو افراد کو اور ساتھ حضرت حمزہ کو رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر سات تکبیرات میں جنازہ پڑھا۔ پھر باقی میتیں اٹھا دی گئیں اور حمزہ کو چھوڑ دیا گیا پھر نو افراد کو لایا گیا اور ان پر سات تکبیرات کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنازہ پڑھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے فارغ ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39550]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39550، ترقيم محمد عوامة 37941)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39550 in Urdu