مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
26. هذا ما حفظ أبو بكر في أحد وما جاء فيها
یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ اُحد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
ترقیم عوامۃ: 37897 ترقیم الشثری: -- 39505
٣٩٥٠٥ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا جرير بن عبد الحميد عن عطاء بن السائب عن الشعبي قال: مكر رسول الله ﷺ بالمشركين يوم احد وكان اول (يوم) (٢) مكر فيه بهم (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) سقط من: [ب].
(٣) مرسل؛ الشعبي تابعي، وعطاء اختلط.
حضرت شعبی سے منقول ہے کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن مشرکین کے ساتھ چال چلی تھی۔ اور یہ پہلا دن تھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ چال چلی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39505]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39505، ترقيم محمد عوامة 37897)
ترقیم عوامۃ: 37898 ترقیم الشثری: -- 39506
٣٩٥٠٦ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا هشام بن عروة عن ابيه عن عائشة قالت: لما كان يوم احد هزم المشركون وصاح إبليس: اي عباد الله، اخراكم، قال: فرجعت اولاهم فاجتلدت هي واخراهم، قال: فنظر حذيفة فإذا هو بابيه اليمان فقال: عباد الله ابي ابي، قالت: فوالله ما (احتجزوا) (١) حتى (قتلوه) (٢) فقال حذيفة: غفر الله لكم، قال عروة: فوالله ما زالت في حذيفة بقية خير حتى لحق بالله (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (احتجر)، وفي [أ]: (احتجز)، وفي [س]: (احتجبوا).
(٢) في [هـ]: (قتلوا).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٢٩٠)، وابن سعد ٢/ ٤٥.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب احد کا دن تھا، مشرکین کو شکست ہوئی تو شیطان نے آواز لگائی: اے بندگانِ خدا اپنے پیچھے والوں کو دیکھو۔ آگے کے لوگ پیچھے گئے تو پیچھے والوں کے ساتھ مل گئے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس دوران حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ وہ اپنے والد کے مقابل تھے تو انہوں نے کہا۔ اے بندگانِ خدا! میرے والد۔ میرے والد۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ بخدا! صحابہ کرام نہ رکے یہاں تک کہ صحابہ نے انہیں قتل کردیا۔ تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ عروہ کہتے ہیں۔ بخدا! حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ میں خیر باقی رہی یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39506]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39506، ترقيم محمد عوامة 37898)
ترقیم عوامۃ: 37899 ترقیم الشثری: -- 39507
٣٩٥٠٧ - حدثنا عبد الاعلى عن داود بن ابي هند عن الشعبي قال: لما كان يوم احد وانصرف المشركون، فراى (المسلمون) (١) بإخوانهم مثلة سيئة جعلوا يقطعون آذانهم وآنافهم و (يشقون) (٢) بطونهم، فقال اصحاب رسول الله ﷺ: لئن انالنا الله منهم لنفعلن (ولنفعلن) (٣) فانزل الله: ﴿وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به ولئن ⦗٤٦٥⦘ صبرتم لهو خير للصابرين﴾ فقال رسول الله ﷺ (٤) :"بل نصبر" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ي]: (المسلمين)، وفي [ق]: (المملون).
(٢) في [ي]: (يشعون)، وفي [ب]: (يسقون).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) سقط من: [أ].
(٥) مرسل؛ الشعبي تابعي، أخرجه ابن جرير ١٤/ ١٩٥.
حضرت شعبی کہتے ہیں کہ جب احد کا دن تھا اور مشرکین واپس ہوگئے تھے تو مسلمانوں نے اپنے بھائیوں کو بدترین مثلہ کی حالت میں دیکھا۔ مشرکین نے مسلمانوں کے کانوں اور ناکوں کو کاٹا تھا اور ان کے پیٹ چاک کیے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان پر دسترس دی تو ضرور بالضرور ہم بھی ان کے ساتھ (یہی رویہ) اختیار کریں گے۔ اور یہی رویہ اختیار کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ { وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِہِ، وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَہُوَ خَیْرٌ لِلصَّابِرِینَ } آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ ہم صبر کریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39507]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39507، ترقيم محمد عوامة 37899)
ترقیم عوامۃ: 37900 ترقیم الشثری: -- 39508
٣٩٥٠٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن (هاشم) (١) بن هاشم عن سعيد بن المسيب قال: سمعته يقول: كان سعد اشد المسلمين باسا يوم احد (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (هشام).
(٢) مرسل؛ سعيد تابعي.
حضرت سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ احد کی جنگ میں مسلمانوں میں سے سب سے زیادہ لڑائی لڑنے والے حضرت سعد تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39508]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39508، ترقيم محمد عوامة 37900)
ترقیم عوامۃ: 37901 ترقیم الشثری: -- 39509
٣٩٥٠٩ - حدثنا ابو اسامة (١) عن ابن عون عن عمير بن إسحاق ان الناس انجفلوا عن النبي ﷺ، يوم احد، وسعد بن مالك يرمي، وفتى (ينبل) (٢) له، فكلما فنيت نبلة، دفع إليه نبلة، ثم قال: ارمه ابا إسحاق، فلما كان بعد طلبوا الفتى فلم يقدروا عليه (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (عن ابن أبي عمير).
(٢) في [هـ]: (ينشل).
(٣) مرسل؛ عمير بن إسحاق تابعي.
حضرت عمیر بن اسحاق سے روایت ہے۔ جنگ احد میں لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور رہ گئے تھے اور حضرت سعد بن مالک تیر اندازی کر رہے تھے۔ اور ایک جوان انہیں تیر اندازی کے لئے تیر پکڑا رہا تھا۔ پس جونہی ایک تیر چلتا تو وہ دوسرا تیر حضرت سعد کے حوالے کردیتے۔ پھر اس نے کہا۔ اے ابو اسحاق! اس پر تیر پھینکو۔ پھر بعد میں لوگوں نے اس (تیر پکڑانے والے) جوان کو تلاش کیا۔ لیکن لوگوں کو اس جوان پر قدرت نہ ہوئی (یعنی نہیں ملا)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39509]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39509، ترقيم محمد عوامة 37901)
ترقیم عوامۃ: 37902 ترقیم الشثری: -- 39510
٣٩٥١٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سعد بن إبراهيم عن عبد الله بن شداد عن علي بن ابي طالب قال: ما سمعت رسول الله ﷺ يفدي احدا بابويه إلا سعدا، فإني سمعته يقول يوم احد:"إرم سعد فداك ابي وامي" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٠٥)، ومسلم (٢٤١١).
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب سے روایت ہے کہ میں نے سعد کے علاوہ کسی آدمی کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے والدین کے فدا کہنے کو نہیں سُنا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احد کے دن سُنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے۔ اے سعد! تیر پھینکو، میرے ماں، باپ تم پر قربان ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39510]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39510، ترقيم محمد عوامة 37902)
ترقیم عوامۃ: 37903 ترقیم الشثری: -- 39511
٣٩٥١١ - حدثنا عبد الله بن نمير عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: سمعت سعدا يقول: جمع لي رسول الله ﷺ ابويه يوم احد (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٢٥)، ومسلم (٢٤١٢).
حضرت سعد بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن میرے لئے اپنے ماں، باپ کو جمع (کر کے قربان ہونے کا) فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39511]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39511، ترقيم محمد عوامة 37903)
ترقیم عوامۃ: 37904 ترقیم الشثری: -- 39512
٣٩٥١٢ - حدثنا محمد بن بشر وابو اسامة عن مسعر عن سعد بن إبراهيم عن ابيه عن سعد قال: رايت عن يمين رسول الله ﷺ وعن شماله يوم احد رجلين عليهما ⦗٤٦٦⦘ ثياب بياض، لم ارهما قبل ولا بعد (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٨٢٦)، ومسلم (٢٣٠٦).
حضرت سعد کہتے ہیں میں نے احد کے روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں جانب اور بائیں جانب دو آدمیوں کو دیکھا جن پر سفدں رنگ کے کپڑے تھے۔ میں نے ان کو اس سے پہلے اور اس کے بعد (کبھی) نہیں دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39512]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39512، ترقيم محمد عوامة 37904)
ترقیم عوامۃ: 37905 ترقیم الشثری: -- 39513
٣٩٥١٣ - حدثنا ابو اسامة عن ابن عون عن (١) عمير بن إسحاق قال: كان حمزة يقاتل بين يدي رسول الله ﷺ يوم احد بسيفين ويقول: انا اسد الله، قال: فجعل يقبل ويدبر فعثر فوقع على قفاه مستلقيا وانكشط، وانكشفت الدرع عن بطنه فابصره العبد الحبشي فزرقه برمح او حربة (فنفذه) (٢) بها (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (ابن).
(٢) في [هـ]: (فبقر)، وفي [ق]: (فبقره).
(٣) مرسل؛ عمير بن إسحاق تابعي فيه جهالة، وأخرجه الحاكم ٣/ ١٩٢، وابن سعد ٣/ ١٢، وأحمد في مسائل صالح ٢/ ٤١٥، والطبراني (٢٩٥٣)، والبيهقي في دلائل النبوة ٣/ ٢٤٣، وابن عبد البر في الاستيعاب ١/ ٣٧٣.
حضرت عمیر بن اسحاق سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ، احد کی جنگ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دو تلوار کے ساتھ قتال کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ میں خدا کا شیر ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت حمزہ، آگے، پیچھے آ جا رہے تھے کہ آپ کو ٹھوکر لگی اور آپ اپنی گردن کے بَل چت گرگئے اور دور ہوگئے اور حضرت حمزہ کے پیٹ پر سے زرہ کھل گئی۔ تو آپ کو ایک حبشی غلام نے دیکھ لیا اور اس نے آپ کو ایک تیر یا نیزہ مارا جو آپ کے پار گزر گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39513]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39513، ترقيم محمد عوامة 37905)
ترقیم عوامۃ: 37906 ترقیم الشثری: -- 39514
٣٩٥١٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سالم عن سعيد بن جبير ﴿ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا بل احياء عند ربهم يرزقون﴾ [آل عمران: ١٦٩] ، قال: لما اصيب حمزة بن عبد المطلب ومصعب بن عمير يوم احد قالوا: ليت إخواننا يعلمون ما اصابنا من الخير كي يزدادوا رغبة فقال الله: انا ابلغ عنكم فنزلت: ﴿تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا﴾ إلى قوله: ﴿المؤمنين﴾ (١) (٢) [آل عمران: ٧١] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ط، هـ]: (المحسنين)، وتقدم ١٢/ ١٠٧.
(٢) مرسل، سعيد بن جبير تابعي، أخرجه الطبراني (٢٩٤٦)، وورد من حديث سعيد عن ابن عباس أخرجه الحاكم ٢/ ٤١٩، والبيهقي في إثبات عذاب القبر (٢١٤).
حضرت سعید بن جبیر، { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللہِ أَمْوَاتًا، بَلْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ } کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں۔ جب احد کے دن حضرت حمزہ بن عبد المطلب اور مصعب بن عمیر شہید ہوگئے تو انہوں نے کہا۔ ہم جس خیر کو پاچکے ہیں۔ کاش! اس کی خبر ہمارے بھائیوں کو ہوجائے تاکہ وہ مزید رغبت کریں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ میں یہ بات تمہاری طرف سے (ان کو) پہنچا دوں گا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللہِ أَمْوَاتًا } سے لے کر { الْمُؤْمِنِینَ } تک۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39514]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39514، ترقيم محمد عوامة 37906)