🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. هذا ما حفظ أبو بكر في أحد وما جاء فيها
یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ اُحد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37942 ترقیم الشثری: -- 39551
٣٩٥٥١ - حدثنا خالد بن مخلد قال: (حدثنا) (١) (عبد الرحمن) (٢) بن عبد العزيز قال: حدثنا الزهري عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن ابيه ان رسول الله ﷺ قال يوم احد:"من راى مقتل حمزة؟" فقال رجل (اعزل) (٣) : انا رايت مقتله، قال: فانطلق (فارناه) (٤) ، فخرج حتى وقف على حمزة فرآه قد ⦗٤٨٣⦘ (بقر) (٥) بطنه وقد مثل به، فقال: يا رسول الله مثل به (والله) (٦) ، فكره رسول الله ﷺ ان ينظر إليه، ووقف بين ظهراني القتلى فقال:" (انا) (٧) شهيد على هؤلاء القوم، لفوهم في دمائهم فإنه ليس جريح يجرح إلا جرحه يوم القيامة يدمى، لونه لون الدم، وريحه ريح المسك، قدموا اكثر القوم قرآنا (فاجعلوه) (٨) في اللحد" (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق، ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: (عبد العزيز).
(٣) في [جـ]: (أعزك).
(٤) في [ع]: (فأريناه).
(٥) في [ع]: (شرط).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) سقط من: [ي].
(٨) في [ي]: (واجعلوه).
(٩) شاذ؛ أخرجه الطبراني ١٩/ (١٦٧)، والبيهقي ٤/ ١١، وصوابه الزهري عن عبد الرحمن عن جابر، كما أخرجه البخاري (١٣٤٣)، وأبو داود (٣١٣٨)، وابن ماجه (١٥١٤)، والترمذي (١٠٣٦)، والنسائي ٤/ ٦٢، وابن حبان (٣١٩٧).

حضرت عبد الرحمان بن کعب بن مالک، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن ارشاد فرمایا: حمزہ کا مقتل کس نے دیکھا ہے؟ ایک نہتے شخص نے کہا۔ میں نے حمزہ کا مقتل دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ چلو اور ہمیں ان کا مقتل دکھاؤ۔ پس وہ شخص نکلا یہاں تک کہ وہ حضرت حمزہ کی لاش پر آ کر کھڑا ہوا اور اس نے حمزہ کو دیکھا کہ ان کے پیٹ کو پھاڑا گیا ہے اور ان کا مثلہ بنایا گیا ہے۔ تو اس آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! بخدا! ان کا تو مثلہ کیا گیا ہے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمزہ کی طرف دیکھنے کو ناپسند کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقتولین کے درمیان کھڑے ہوگئے اور فرمایا: میں بذات خود ان لوگوں پر گواہ ہوں۔ انہیں ان کے خون سمیت لپیٹ دو۔ کیونکہ (ان میں سے) کوئی بھی مجروح، جس کو زخمی کیا گیا ہے۔ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا زخم خون برسا رہا ہوگا۔ اس کا رنگ خون کا رنگ ہوگا اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو ہوگی۔ ان لوگوں میں سے زیادہ قرآن والے کو مقدم کرو اور اس کو (پہلے) لحد میں داخل کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39551]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39551، ترقيم محمد عوامة 37942)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39551 in Urdu