🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. غزوة الحديبية
غزوہ حدیبیہ
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38006 ترقیم الشثری: -- 39620
٣٩٦٢٠ - حدثنا عبيد الله بن موسى عن موسى بن عبيدة عن إياس (بن سلمة) (١) عن ابيه قال: بعثت قريش سهيل بن عمرو وحويطب بن عبد العزى و (٢) حفص إلى النبي ﷺ ليصالحوه، فلما رآهم رسول الله ﷺ فيهم سهيل، قال:"قد سهل من امركم، القوم ياتون إليكم (بارحامهم) (٣) ، (وسائلوكم) (٤) الصلح فابعثوا الهدي، واظهروا بالتلبية، (لعل ذلك يلين قلوبهم"، فلبوا من نواحي العسكر حتى ارتجت اصواتهم بالتلبية) (٥) [قال: فجاؤه فسالوا الصلح. ⦗٥٢٨⦘ قال: فبينما الناس قد توادعوا، وفي المسلمين ناس من المشركين، وفي المشركين ناس من المسلمين] (٦) (ففتك) (٧) ابو سفيان فإذا الوادي يسيل بالرجال والسلاح. قال: قال: (إياس) (٨) : قال (سلمة) (٩) : (فجئت) (١٠) (بستة) (١١) من المشركين مسلحين اسوقهم، ما يملكون لانفسهم نفعا ولا ضرا، فاتينا بهم النبي ﷺ فلم يسلب ولم يقتل وعفا، قال: فشددنا على ما في ايدي المشركين منا، فما تركنا فيهم رجلا منا إلا استنقذناه، قال: وغلبنا على من في ايدينا منهم. ثم إن قريشا اتت سهيل بن عمرو (وحويطب) (١٢) بن عبد العزى فولوا صلحهم، وبعث النبي ﷺ عليا وطلحة، فكتب علي بينهم:"بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما صالح عليه محمد رسول الله (١٣) قريشا: صالحهم على انه: لا إغلال ولا إسلال، (و) (١٤) على انه: (من) (١٥) قدم مكة [من اصحاب محمد (١٦) حاجا او ⦗٥٢٩⦘ معتمرا او يبتغي من فضل الله فهو آمن (على) (١٧) دمه وماله، [ومن قدم المدينة من قريش مجتازا إلى مصر (او) (١٨) إلى الشام يبتغي من فضل الله فهو آمن على دمه وماله] (١٩) وعلى انه من جاء محمدا (٢٠) من قريش فهو رد، ومن جاءهم] (٢١) من اصحاب محمد (٢٢) [فهو لهم. فاشتد ذلك على المسلمين فقال رسول الله ﷺ] (٢٣) :"من جاءهم منا فابعده الله، ومن جاءنا منهم (رددناه) (٢٤) إليهم -يعلم الله الإسلام من نفسه- يجعل الله (له) (٢٥) مخرجا". وصالحوه على (انه) (٢٦) يعتمر عاما قابلا في مثل هذا الشهر، لا يدخل علينا بخيل ولا سلاح إلا ما يحمل المسافر في قرابه، فيمكث فيها ثلاث ليال، وعلى ان هذا الهدي حيث حبسناه فهو محله لا يقدمه علينا، فقال رسول الله ﷺ:"نحن نسوقه وانتم تردون وجهه" (٢٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (وسلمة).
(٢) كذا في النسخ؛ ولعله من أوهام موسى، وفي [ق، هـ]: زيادة (مكرز بن).
(٣) في [أ]: (بأرحامكم).
(٤) في [أ، ب، ع، ي]: (وسايلوكم)، وفي [ق]: (ويسألونكم).
(٥) سقط من: [س].
(٦) في [ع]: أخرها عن الجملة التي بعدها، ثم ذكر الجملة التي بعدها ثم ذكرها مرة أخرى.
(٧) في [ق]: (فأقبل)، وفي [جـ، ع]: (فقبل)، وفي تفسير ابن جرير ٢٦/ ٩٦: (فقيل به)، وفي تاريخه ٢/ ١٢٠: (ففتك به).
(٨) في [أ، ب، ع]: (أناس).
(٩) في [أ، ب]: (سلمت).
(١٠) في [أ، ب]: (بحيث).
(١١) في [ي]: (بسيه)، وفي [أ، ب]: (بسنه).
(١٢) في [س]: (وحوطب).
(١٣) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(١٤) سقط من: [أ].
(١٥) في [أ]: (أن).
(١٦) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(١٧) سقط من: [ي].
(١٨) في [س، ع، ي]: (وإلى).
(١٩) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٢٠) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٢١) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٢٢) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٢٣) سقط ما بين المعكوفين من: [ي].
(٢٤) في [جـ]: تكررت.
(٢٥) سقط من: [أ، ب].
(٢٦) في [أ، ب]: (أن).
(٢٧) ضعيف؛ لحال موسى بن عبيدة، وأخرجه الطبراني (١٤٤)، وابن جرير في التفسير ٢٦/ ٨٦ و ٩٦، وفي التاريخ ٢/ ١٢٠.

حضرت ایاس بن سلمہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قریش نے سہیل بن عمرو، حویطب ابن عبد العزی اور مکرز بن حفص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صلح کریں۔ پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سہیل کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا معاملہ آسان ہوگیا ہے۔ لوگ تمہارے پاس اپنے رشتوں کے ہمراہ آ رہے ہیں۔ اور تم سے صلح کا سوال کر رہے ہیں۔ پس ہدی کے جانوروں کو کھڑا کردو اور تلبیہ کو ظاہر کرو۔ شاید کہ یہ ان کے دلوں کو نرم کر دے۔ صحابہ کرام نے لشکر کے اطراف سے تلبیہ بلند کیا یہاں تک کہ ان کے تلبیہ میں ان کی آوازوں سے گونج پیدا ہوگئی۔ راوی کہتے ہیں: پس مشرکین آئے اور انہوں نے صلح کی بات کی۔ ٢۔ راوی کہتے ہیں: اس دوران جبکہ یہ لوگ باہم۔ مسلمانوں کے لشکر میں مشرکین اور مشرکین کے لشکر میں مسلمان موجود تھے۔ کہا گیا: ابو سفیان!!! اچانک وادی لوگوں اور اسلحہ سے بہنے لگی۔ راوی کہتے ہیں: ایاس بیان کرتے ہیں کہ سلمہ نے کہا۔ میں نے مشرکین میں سے چھ مسلح افراد کو ہانک لیا درآنحالیکہ وہ اپنے لئے کسی نفع اور نقصان کے مالک نہیں تھے۔ ہم انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قتل کیا اور نہ مال چھینا بلکہ معاف فرما دیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر مشرکین کے قبضہ میں ہمارے جو ساتھی تھے ہم نے ان کے بارے میں سختی کی اور مشرکین کے قبضہ میں ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑا بلکہ چھڑا لیا۔ راوی کہتے ہیں: ہمارے قبضہ میں جو ان کے افراد تھے ہم ان پر غالب رہے۔ ٣۔ پھر قریش، سہیل بن عمرو اور حویطب بن عبد العزی کے پاس گئے اور انہیں اپنی صلح کا متولی بنایا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ کو بھیجا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان فیصلہ تحریر کیا۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ۔ یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد رسول اللہ نے قریش سے صلح کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اس بات پر صلح کی ہے کہ نہ تو دھوکہ دہی ہوگی اور نہ ہی شرائط کی خلاف ورزی اور یہ بھی شرط ہے کہ اصحابِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے جو آدمی حج وعمرہ کرنے یا اللہ کی رضا کے لئے مکہ مکرمہ آئے گا تو اس کے خون اور مال کو امن ہوگا۔ اور قریش میں سے جو شخص مدینہ میں مصر یا شام کی طرف جانے کے لئے آئے اور اللہ کے فضل کا متلاشی ہو تو اس کا مال اور خون بھی مامون ہوگا۔ اور یہ شرط بھی تھی کہ قریش میں سے جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے گا تو واپس کیا جائے گا اور جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے قریش کی طرف آئے گا تو وہ انہی کے پاس ہوگا۔ ٤۔ یہ بات اہل اسلام پر بہت شاق گزری۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ان میں سے ہماری طرف آئے گا تو ہم اس کو ان کی طرف واپس کردیں گے (حالانکہ) اللہ تعالیٰ اس کے دل سے اسلام کو جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے لئے راہ بنا دے گا۔ ٥۔ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات پر صلح کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئندہ سال انہی مہینوں میں عمرہ کریں گے (لیکن) ہمارے پاس گھوڑے اور اسلحہ لے کر نہیں آئیں گے سوائے اس مقدار کے جو ایک مسافر اپنے تھیلے میں رکھتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آئندہ سال) مکہ میں تین دن قیام کریں گے۔ اور یہ شرط بھی تھی کہ اس ہدی کو جہاں پر ہم نے روکا ہے وہیں پر اس کو حلال کریں۔ ان کو مزید آگے نہیں ہانکیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ہم تو اس کو ہانکیں گے اور تم اس کو واپس موڑدینا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39620]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39620، ترقيم محمد عوامة 38006)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39620 in Urdu