🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. غزوة الحديبية
غزوہ حدیبیہ
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38007 ترقیم الشثری: -- 39621
٣٩٦٢١ - حدثنا عبيد الله بن موسى عن موسى بن عبيدة قال: حدثني إياس ابن سلمة عن ابيه قال: بعثت قريش خارجة بن كرز يطلع (لهم) (١) طليعة، فرجع حامدا (يحسن) (٢) الثناء، فقالوا له: إنك اعرابي قعقعوا لك السلاح فطار فؤادك فما دريت ما قيل لك وما قلت. ثم (ارسلوا) (٣) عروة بن مسعود فجاءه فقال: يا محمد ما هذا الحديث؟ تدعو إلى ذات الله، ثم جئت قومك باوباش الناس، من (تعرف ومن لا تعرف) (٤) ، لتقطع ارحامهم وتستحل حرمتهم ودماءهم واموالهم، فقال:"إني لم آت قومي إلا لاصل ارحامهم، يبدلهم الله بدين خير من دينهم، ومعائش خير من معائشهم"، فرجع حامدا يحسن الثناء. قال: قال إياس عن ابيه: فاشتد البلاء على من (كان) (٥) في يد المشركين من المسلمين، قال: فدعا رسول الله ﷺ عمر فقال:"يا عمر هل انت مبلغ عني إخوانك من اسارى المسلمين؟" فقال: (لا) (٦) يا نبي الله، والله ما لي بمكة من عشيرة، غيري اكثر عشيرة مني. فدعا عثمان فارسله إليهم فخرج عثمان على راحلته حتى جاء عسكر المشركين، (فعيبوا) (٧) به (واساءوا) (٨) (له) (٩) القول، ثم (اجاره) (١٠) ابان بن ⦗٥٣١⦘ (سعيد) (١١) بن العاص بن عمه وحمله على السرج وردفه، فلما قدم قال: يا ابن (ابي) (١٢) ما لي اراك (متحشفا) (١٣) اسبل، قال: وكان إزاره إلى نصف ساقيه، فقال له عثمان: هكذا إزرة صاحبنا. فلم يدع احدا بمكة من اسارى المسلمين إلا ابلغهم ما قال رسول الله ﷺ. قال سلمة: فبينما نحن قائلون نادى منادي رسول الله ﷺ:"ايها الناس، البيعة، البيعة، نزل روح القدس"، قال: (فسرنا) (١٤) إلى رسول الله ﷺ، وهو تحت (الشجرة) (١٥) (سمرة) (١٦) فبايعناه، وذلك قول الله: ﴿لقد رضي الله عن المؤمنين إذ يبايعونك تحت الشجرة﴾ [الفتح: ١٨] . قال: فبايع لعثمان إحدى يديه على الاخرى، فقال الناس: هنيئا لابي عبد الله يطوف بالبيت ونحن ها هنا، فقال رسول الله ﷺ:"لو مكث كذا وكذا سنة ما (طاف) (١٧) حتى اطوف" (١٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق، هـ]: (عليهم).
(٢) في [س]: (بحسن).
(٣) في [أ، ب]: (فأرسلوا).
(٤) في [س]: (يعرف ومن لا يعرف).
(٥) سقط من: [س].
(٦) في [أ، ب، ق، هـ]: (بلى).
(٧) في [ق، هـ]: (فعتبوا).
(٨) في [أ، ب]: (أسلوا)، وفي [س]: (أشاؤا).
(٩) في [ي]: (إليه).
(١٠) في [أ، ب، ط]: (أجازه).
(١١) في [ع]: (سعد).
(١٢) في [ق، هـ]: (عم)، وفي [ع]: (لي).
(١٣) في [ق، هـ]: (متخشعًا)، وفي [س، ط]: (متحشنًا).
(١٤) في [ق، هـ]: (فثرنا).
(١٥) في [ق، هـ]: (شجرة).
(١٦) في [أ، ب]: (سهرة).
(١٧) في [أ، ب]: (طاق).
(١٨) ضعيف؛ لحال موسى بن عبيدة، أخرجه الترمذي في الشمائل (١٢٢)، وابن سعد ١/ ٤٦١، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٤٥)، والبزار (٣٥٣)، والطبراني (١٤٤)، والروياني (١١٥٥)، وابن عساكر ٣٩/ ٧٤، وابن جرير في التفسير ٢٦/ ٨٦، وابن أبي حاتم كما في تفسير ابن كثير ٤/ ١٩٢، والحربي في غريب الحديث ١/ ٥٤.

حضرت ایاس بن سلمہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قریش نے خارجہ بن کرز کو اپنے لئے جاسوسی کرنے کے لئے بھیجا۔ تو وہ (صحابہ کرام کی) تعریفیں کرتے ہوئے واپس پلٹا۔ تو قریش نے اس سے کہا۔ تو دیہاتی آدمی ہے۔ انہوں نے تجھے اسلحہ کی جھنکار سنائی تو تیرا دل اڑ گیا۔ پس تجھے کچھ پتہ نہیں چلا کہ تجھے کیا کیا گیا اور تو نے کیا کہا۔ پھر قریش نے عروہ بن مسعود کو بھیجا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اے محمد! یہ کیا بات ہے؟ تو خدا کی ذات کی طرف بلاتا ہے اور پھر تو اپنی قوم کے پاس اوباش لوگوں کو لاتا ہے۔ جن میں سے بعض کو تو جانتا ہے اور بعض کو نہیں جانتا… تاکہ تو ان سے قطع رحمی کرے اور ان کی حرمتوں، خون اور اموال کو حلال کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تو اپنی قوم کے پاس صرف اس لئے آیا ہوں تاکہ میں ان سے صلح رحمی کروں۔ اللہ ان کو ان کے دین کے بدلہ ایک اس سے بہتر دین اور ان کی معیشت سے بہتر معیشت دیتا ہے۔ پس (یہ بات سن کر) وہ بھی تعریفیں کرتے ہوئے لوٹا۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ایاس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، مشرکین کے قبضہ میں جو مسلمان موجود تھے ان پر مصائب کی شدت اور بڑھ گئی۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو بلایا اور اشارہ فرمایا۔ اے عمر! کیا اپنے مسلمان قیدی بھائیوں کو تم اپنی طرف سے پیغام پہنچا (آؤ) گے۔ حضرت عمر نے عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرا تو مکہ میں کوئی بڑا خاندان نہیں ہے۔ جبکہ میرے علاوہ لوگ مجھ سے زیادہ وہاں خاندانی روابط رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان کو بلایا اور ان کو اہل مکہ کی طرف روانہ کیا۔ حضرت عثمان، اپنی سواری پر سوار ہو کر نکلے یہاں تک کہ آپ مشرکین کے لشکر کے پاس پہنچے۔ انہوں نے آپ سے لا یعنی باتیں شروع کیں۔ اور بیہودہ گفتگو کی۔ لیکن پھر حضرت عثمان کو ابان بن سعد بن العاص نے … جو حضرت عثمان کا چچا زاد تھا … پناہ دی۔ اور انہیں اپنی زین پر سوار کیا اور خود آپ کے پیچھے سوار ہوگیا پھر جب یہ کچھ آگے بڑھے تو اس نے کہا۔ اے چچا زاد! کیا وجہ ہے کہ میں تجھے پرانے کپڑے پہنے ہوئے دیکھ رہا ہوں؟ شلوار نیچے کرو (یعنی ٹخنے ڈھانپ لو)۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عثمان کی ازار نصف پنڈلی تک تھی … حضرت عثمان نے جواباً اس کو ارشاد فرمایا: ہمارے صاحب (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازار بھی اسی طرح ہوتی ہے۔ پھر حضرت عثمان نے مسلمان قیدیوں میں سے کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام پہنچائے بیرے نہیں چھوڑا (یعنی سب کو پیغام دیا) حضرت سلمہ فرماتے ہیں۔ اس دوران جبکہ ہم قیلولہ کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منادی نے آواز دی۔ اے لوگو! بیعت (محمد) بیعت! روح القدس نازل ہوئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چل دئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کیکر کے درخت کے نیچے تشریف فرما تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی۔ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ { لَقَدْ رَضِیَ اللَّہُ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ إِذْ یُبَایِعُونَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ } راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان کے لئے بیعت اس طرح لی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر رکھ لیا۔ لوگ کہنے لگے۔ ابو عبد اللہ کی خوش قسمتی ہے۔ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے اور ہم یہاں پر ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر وہ کئی سال بھی وہاں رہے تب بھی طواف نہیں کرے گا جب تک میں طواف نہیں کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39621]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39621، ترقيم محمد عوامة 38007)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39621 in Urdu