🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. (غزوة خيبر)
غزوہ خیبر
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38038 ترقیم الشثری: -- 39653
٣٩٦٥٣ - حدثنا علي بن هاشم قال: (حدثنا) (١) (٢) ابن ابي (ليلى) (٣) [عن المنهال والحكم وعيسى (عن) (٤) عبد الرحمن بن ابي (ليلى) (٥) ] (٦) قال: قال علي: ما كنت معنا يا ابا (ليلى) (٧) بخيبر؟ قلت: بلى والله، لقد كنت معكم، قال: فإن رسول الله ﷺ بعث ابا بكر (فسار) (٨) بالناس فانهزم حتى رجع (٩) ، وبعث عمر فانهزم بالناس حتى انتهى إليه، فقال رسول الله ﷺ:"لاعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله (يفتح الله له) (١٠) ليس بفرار"، قال: فارسل إلي فدعاني فاتيته -وانا ارمد إلا ابصر (شيئا) (١١) - [ (فدفع) (١٢) إلي الراية فقلت: يا رسول الله كيف وانا ارمد لا ابصر (شيئا؟) (١٣) ] (١٤) قال: فتفل في عيني، ثم قال:"اللهم اكفه الحر والبرد"، قال: فما آذاني بعد حر ولا برد (١٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ي]: (عن).
(٢) في [س]: زيادة (المنهال عن).
(٣) في [جـ]: (ليلا).
(٤) في [جـ]: (ابن).
(٥) في [جـ]: (ليلا).
(٦) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٧) في [جـ]: (ليلا).
(٨) في [ع]: (سار).
(٩) في [هـ]: زيادة (إليه).
(١٠) سقط من: [ب]، وفي [ي]: (يفتح له اللَّه).
(١١) في [جـ]: بياض.
(١٢) في [س]: (فدعا).
(١٣) سقط من: [س].
(١٤) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(١٥) ضعيف؛ لحال ابن أبي ليلى فهو سيئ الحفظ، أخرجه الحاكم ٣/ ٣٧، وأحمد (٧٧٨)، وابن ماجه (١١٧)، وسبق ١٢/ ٦٢ برقم [٣٤٢٥١].

حضرت عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اے ابو لیلیٰ! تم خیبر میں ہمارے ساتھ نہیں تھے؟ میں نے عرض کای: کیوں نہیں! بخدا میں تو تمہارے ساتھ تھا۔ (پھر) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو بھیجا اور وہ لوگوں کو لے کر (میدان کی طرف) چلے لیکن پسپا ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف واپس تشریف لے آئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو بھیجا وہ بھی لوگوں کے ہمراہ پسپا ہوگئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف واپس آگئے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ (اب) میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔ وہ بھاگنے والا آدمی نہیں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں… پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف آدمی بھیجا اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلایا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اس حال میں حاضر ہوا کہ میں آشوب چشم میں مبتلا تھا۔ اور مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جھنڈا عطا فرمایا۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! (یہ مجھے آپ) کیسے دے رہے ہیں؟ جبکہ مجھے تو آشوب چشم ہے اور میں کچھ نہیں دیکھ رہا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی۔ اے اللہ! تو ان کو سردی اور گرمی سے کافی ہوجا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ مجھے اس کے بعد کبھی سردی یا گرمی نے تکلیف نہیں دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39653]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39653، ترقيم محمد عوامة 38038)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39653 in Urdu