مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
34. (حديث فتح مكة)
فتح مکہ کی احادیث
ترقیم عوامۃ: 38058 ترقیم الشثری: -- 39674
٣٩٦٧٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن زكريا بن ابي زائدة قال: كنت مع ابي إسحاق فيما بين مكة والمدينة فسايرنا رجل من خزاعة، فقال له (ابو) (١) إسحاق: كيف (قال) (٢) رسول الله ﷺ: لقد (رعدت) (٣) هذه السحابة بنصر بني كعب، [فقال (٤) الخزاعي: لقد (نصلت) (٥) بنصر بني كعب] (٦) ، ثم اخرج إلينا رسالة رسول ⦗٤٥⦘ الله ﷺ إلى خزاعة، (وكتبتها) (٧) يومئذ كان فيها:"بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله إلى بديل وبسر وسروات بني عمرو، فإني احمد إليكم الله الذي لا إله إلا هو، اما بعد ذلكم فإني لم (ثم) (٨) بإلكم ولم (اضع) (٩) في جنبكم، وإن اكرم اهل تهامة علي انتم واقربه رحما ومن (تبعكم) (١٠) (١١) من المطيبين، وإني قد اخذت لمن هاجر منكم مثل ما اخذت لنفسى، ولو هاجر بارضه غير ساكن مكة إلا معتمرا او حاجا، وإني لم اضع فيكم إن (اسلمتم) (١٢) وإنكم غير (خائفين) (١٣) من قبلي ولا محصرين، اما بعد فإنه قد اسلم علقمة بن علاثة (وابن) (١٤) هوذة (وبايعا) (١٥) وهاجرا على من اتبعهما من عكرمة، (واخذ) (١٦) لمن تبعه مثل ما اخذ لنفسه، وإن (بعضنا) (١٧) من بعض في الحلال والحرام، وإني والله ما كذبتكم وليحيكم ربكم" (١٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [ع]: (كان).
(٣) في [س]: (أعدت).
(٤) في [جـ، ق]: زيادة (له).
(٥) من نصل السهم، وفي [أ، ب، ع]: (نصلت)، وفي [جـ]: (خلت)، وفي [ي]: (نضرت)، وفي [ق، هـ]: (وصلت).
(٦) سقط ما بين المعكوفين من: [س].
(٧) في [ع]: (وأثبتها).
(٨) أي: لم أغدر في عهدكم، وفي [ع، ق]: (أثم).
(٩) في [ع]: (أصنع).
(١٠) في [أ، ب، جـ، س، ي]: (سبقكم).
(١١) في [هـ]: زيادة (و).
(١٢) في [جـ، ق]: (سلمتم).
(١٣) في [ق، هـ]: (خائبين)، وفي [ط]: (خائنين).
(١٤) في [هـ]: (ابنا).
(١٥) في [أ، ب، س، ي]: (وتابعا).
(١٦) في [هـ]: (أخذ).
(١٧) في [ط، هـ]: (بعضًا).
(١٨) مرسل؛ الخزاعي لم تثبت صحبته، وأخرجه ابن عساكر ٤١/ ١٤٣.
حضرت زکریا بن ابی زائدہ سے روایت ہے کہ میں ابو اسحاق کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھا۔ توبنو خزاعہ کا ایک آدمی ہمارے پاس آیا۔ ابو اسحاق نے اس سے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات کیسے فرمائی تھی۔ کہ تحقیق یہ بدلی بنی کعب کی مدد کے لئے کڑک رہی ہے؟ تو اس خزاعی آدمی نے جواب دیا۔ تحقیق اس بدلی نے فیصلہ کردیا تھا بنو کعب کی مدد کا۔ پھر اس خزاعی نے ہمیں ایک خط نکال کر دکھایا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے خزاعہ کی طرف تھا۔ اور میں نے اس خط کو اسی دن لکھا۔ اس میں لکھا تھا۔ ”اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ یہ خط محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے بدیل، بسر اور سرواتِ بنی عمرو کی طرف ہے۔ پس بیشک میں تمہارے سامنے اس خدا کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ بہرحال اس کے بعد، میں نے تمہارا عہد نہیں توڑا اور نہ ہی میں نے تمہاری زمین کو مباح کیا ہے۔ اور اہل تہامہ میں سے میرے ہاں سب سے زیادہ تم لوگ معزز ہو۔ اور سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہو۔ اور (اسی طرح) وہ لوگ جنہوں نے تمہاری اتباع کی ہے (یعنی بنو ہاشم، بنو زہرہ وغیرہ)۔ اور میں نے تم میں سے ہجرت کرنے والوں کے لئے بھی وہی پیمان باندھا ہے جو میں نے اپنے لئے باندھا ہے۔ اور اگر (تم میں سے) کوئی اپنی زمین سے (اسی طرح) ہجرت کرے کہ وہاں سکونت نہ رکھے مگر حج اور عمرہ کے لئے۔ اگر تم سلامتی قبول کرلو تو میں تمہارے بارے میں کوئی حکم نہیں دوں گا۔ اور تم لوگ میری طرف سے نہ خائف ہو اور نہ محصور۔ ٢۔ اما بعد! پس بلاشبہ علقمہ بن علاثہ اور ابن ہوزہ نے اسلام قبول کرلیا اور انہوں نے اپنے تابع … عکرمہ… کے ہمراہ ہجرت کی ہے۔ اور ان کے لئے بھی اس نے وہی کچھ پیمان باندھا ہے جو اس نے اپنے لیے باندھا ہے۔ اور ہم میں سے بعض، بعض کے حکم میں ہے حلا ل اور حرام ہونے کے اعتبار سے۔ اور بخدا میں نے تمہیں نہیں جھٹلایا اور پس تمہارا پروردگار تمہیں حیات دے۔ ٣۔ راوی بیان کرتے ہیں: مجھے زہری سے یہ بات پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ یہ لوگ خزاعہ کے ہیں۔ اور یہ میرے اہل میں سے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف خط تحریر فرمایا۔ یہ لوگ اس وقت عرفات اور مکہ کے درمیان پڑاؤ کئے ہوئے تھے۔ اور یہ لوگ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلیف تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39674]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39674، ترقيم محمد عوامة 38058)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39674 in Urdu