🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. (حديث فتح مكة)
فتح مکہ کی احادیث
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38064 ترقیم الشثری: -- 39681
٣٩٦٨١ - حدثنا سليمان بن حرب قال: (حدثنا) (١) حماد بن (زيد) (٢) عن ⦗٤٩⦘ ايوب عن ابي الخليل عن مجاهد ان النبي ﷺ قدم يوم الفتح والانصاب بين الركن والمقام، فجعل يكفئها (لوجو) (٣) هها، ثم (قام) (٤) رسول الله ﷺ خطيبا فقال:"الا إن مكة حرام ابدا التي يوم القيامة، لم (تحل) (٥) لاحد قبلي، (ولا) (٦) (تحل) (٧) لاحد بعدي، غير انها احلت لي ساعة من النهار، لا يختلى خلاها، ولا ينفر صيدها، ولا يعضد شجرها، ولا يلتقط لقطتها، إلا ان تعرف"، (فقام) (٨) العباس فقال: يا رسول الله (٩) إلا الإذخر (لصاغتنا) (١٠) (وبيوتنا وقبورنا) (١١) ، فقال:"إلا الإذخر، إلا الإذخر" (١٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: (يزيد).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) في [ي]: (قال).
(٥) في [ب]: (يحل).
(٦) في [أ]: (فلا).
(٧) في [ب]: (يحل).
(٨) في [ب]: (مقام).
(٩) في [هـ]: زيادة ﷺ.
(١٠) في [أ، ب]: (لصاعتنا)، وفي [هـ]: (لصناعتنا).
(١١) في [ع]: (وقبورنا وبيوتنا).
(١٢) مرسل، مجاهد تابعي، وأخرجه مرسلًا البخاري (٤٣١٣)، وعبد الرزاق (٩١٨٩)، والفاكهي ٢/ ٢٤٨ (١٤٤٥)، وورد من طريق مجاهد عن ابن عباس، أخرجه الطحاوي ٢/ ٢٦٠، والأزرقي ٢/ ١٢٦، وابن جرير ١/ ٥٤٢، كما ورد من حديث مجاهد عن طاووس عن ابن عباس، أخرجه البخاري (١٥٨٧)، ومسلم (١٣٥٣).

حضرت مجاہد بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن تشریف لائے تو رکن اور مقام کے درمیان بت پڑے ہوئے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان بتوں کو اوندھے منہ گرا دیا۔ اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو ارشاد فرمایا۔ ”خبردار! مکہ قیامت کے دن تک ہمیشہ کے لئے حرم (محترم) ہے۔ مجھ سے پہلے بھی یہ خطہ کسی کے لئے حلال نہیں ہوا تھا۔ اور نہ ہی میرے بعد یہ خطہ کسی کے لئے حلال ہوگا۔ ہاں اتنی بات ہے کہ میرے لئے اس مقام کو دن کے کچھ حصہ کے لیے حلال کردیا گیا ہے۔ اس علاقہ (مکہ) کی گھاس کو نہیں کاٹا جائے گا اور اس کے شکار کو بدکایا نہیں جائے گا اور نہ ہی اس کے درختوں کو کاٹا جائے گا۔ اور نہ ہی اس میں گری پڑی چیز کو اٹھایا جائے گا اِلَّا یہ کہ اس لقطہ کی تعریف کرنے کا ارادہ ہو۔ ”(یہ بات سن کر) حضرت عباس کھڑے ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اذخر (گھاس کی قسم) کو مستثنیٰ کر دیجئے ہمارے لوہاروں، گھروں اور قبروں میں استعمال کے لیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا۔ ہاں اذخر مستثنیٰ ہے۔ ہاں اذخر مستثنیٰ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39681]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39681، ترقيم محمد عوامة 38064)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39681 in Urdu