مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
34. (حديث فتح مكة)
فتح مکہ کی احادیث
ترقیم عوامۃ: 38076 ترقیم الشثری: -- 39693
٣٩٦٩٣ - حدثنا الحسن بن موسى قال: (حدثنا) (١) شيبان عن يحيى قال: اخبرني ابو سلمة ان ابا هريرة اخبره ان خزاعة قتلوا رجلا من بني ليث عام فتح مكة بقتيل منهم قتلوه، فاخبر بذلك رسول الله ﷺ فركب راحلته فخطب فقال:"إن الله حبس عن مكة الفيل، وسلط عليها رسوله (والمؤمنين) (٢) (الا وإنها لم تحل لاحد ⦗٥٦⦘ كان قبلي ولا تحل لاحد كان بعدي) (٣) ، الا وإنها احلت لي ساعة من النهار، الا وإنها ساعتي هذه حرام، لا يختلى شوكها، ولا يعضد شجرها، ولا يلتقط ساقطتها، إلا منشد ومن قتل له قتيل فهو بخير النظرين: إما ان يقتل وإما ان يفادي اهل القتيل". قال: فجاء رجل يقال له: ابو (شاه) (٤) فقال: اكتب لي يا رسول الله، قال:"اكتبوا لابي شاه"، فقال رجل من قريش: إلا الإذخر -يا رسول الله- فإنا نجعله في بيوتنا وقبورنا فقال (رسول الله ﷺ) (٥) :"إلا الإذخر" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (والمؤمنون).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط، ق، هـ].
(٤) في [ب]: (نسياه).
(٥) سقط من: [ع].
(٦) صحيح؛ أخرجه البخاري (١١٢)، ومسلم (١٣٥٥).
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ بنو خزاعہ نے فتح مکہ کے سال بنو لیث کے ایک آدمی کو اپنے اس مقتول کے بدلے میں قتل کیا جس کو بنو لیث نے (کبھی) قتل کیا تھا۔ اس بات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا۔ اور فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو ہاتھیوں والوں سے محفوظ رکھا اور مکہ پر اپنے رسول اور اہل ایمان کو (لڑائی کے لئے) مسلط فرمایا۔ خبردار! یہ مکہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے بھی حلال نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا۔ خبردار! میرے لئے بھی یہ مکہ دن کی ایک گھڑی (ہی) کے لیے حلال کیا گیا تھا خبردار! میری اس گھڑی میں مکہ حرام ہے۔ اس کا کانٹا بھی نہیں کاٹا جائے گا اور اس کے درخت کو بھی نہیں کاٹا جائے گا اور اس کی گری پڑی چیز کو نہیں اٹھائے گا مگر تعریف کرنے والا۔ اور جس کا کوئی قتل کیا گیا ہو تو اس کو دو چیزوں میں اختیار ہے۔ یا تو وہ بھی قتل ہو اور یا اہل مقتول کو فدیہ دے دے۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک صاحب، ابو شاہ نامی، حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! مجھے (یہ بات) لکھ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (صحابہ سے) فرمایا۔ ابو شاہ کو (یہ بات) لکھ دو۔ پھر قریش کے ایک آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اذخر کو مستثنیٰ کر دیجئے کیونکہ ہم اس کو اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں اذخر مستثنیٰ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39693]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39693، ترقيم محمد عوامة 38076)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39693 in Urdu