🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. (حديث فتح مكة)
فتح مکہ کی احادیث
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38106 ترقیم الشثری: -- 39724
٣٩٧٢٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) ابو (مالك) (٢) الاشجعي قال: حدثنا سالم بن ابي الجعد عن محمد بن الحنفية قال: خرج رسول الله ﷺ من بعض حجره فجلس عند بابها، وكان إذا جلس وحده لم ياته احد حتى يدعوه، قال:"ادع لي (ابا بكر) (٣) "، قال: فجاء فجلس (٤) بين يديه فناجاه طويلا، ثم امره فجلس عن يمينه او عن يساره، ثم قال:"ادع لي عمر"، فجاء فجلس ⦗٦٩⦘ (مجلس) (٥) ابي بكر فناجاه طويلا، فرفع عمر صوته فقال: يا رسول الله هم راس الكفر، هم الذين زعموا انك ساحر، وانك كاهن، وانك كذاب، وانك مفتر، ولم يدع شيئا مما كان اهل مكة يقولونه إلا ذكره، فامره ان يجلس من الجانب الآخر فجلس احدهما عن يمينه والآخر عن يساره، ثم دعا الناس فقال:"الا احدثكم بمثل صاحبيكم هذين؟" قالوا: نعم يا رسول الله، فاقبل بوجهه إلى ابي بكر فقال:"إن إبراهيم كان الين في الله من الدهن (باللبن) (٦) "، ثم اقبل على عمر فقال:"إن نوحا كان اشد في الله من الحجر، وإن الامر امر عمر فتجهزوا"، فقاموا فتبعوا ابا بكر فقالوا: يا ابا بكر إنا كرهنا ان نسال عمر ما هذا الذي (ناجاك) (٧) به رسول الله ﷺ (٨) ؟ قال: قال لي:"كيف (تامرني) (٩) في (غزو) (١٠) مكة؟"، قال: قلت: يا رسول الله هم قومك، قال: حتى رايت انه (سيطيعني) (١١) ، قال: ثم دعا عمر، فقال عمر: إنهم راس الكفر حتى ذكر كل سوء كانوا (يقولونه) (١٢) ،"وايم الله لا تذل العرب حتى يذل اهل مكة فآمركم (بالجهاز) (١٣) (لتغزوا) (١٤) مكة" (١٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [هـ]: (ملك).
(٣) في [أ، ب]: (عمر).
(٤) في [أ، ب]: زيادة (مجلس).
(٥) في [ع]: (إلى).
(٦) في [ع]: (بالليل)، وفي [هـ]: (في اللبن).
(٧) في [أ، ب]: (ناجاه).
(٨) سقط من: [ع].
(٩) في [ق، هـ]: (تأمروني).
(١٠) في [هـ]: (غزوة).
(١١) في [س]: (سيطيني).
(١٢) في [هـ]: (يذكرونه).
(١٣) في [أ، ب، ط، ق، هـ]: (بالجهاد).
(١٤) في [هـ]: (ولتغزوا).
(١٥) مرسل؛ محمد بن الحنفية تابعي.

حضرت محمد بن الحنفیہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کسی حجرہ مبارک سے باہر نکلے اور اس کے دروازہ پر تشریف فرما ہوگئے اور (عادت یہ تھی کہ) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکیلے تشریف فرما ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کوئی بھی نہیں آتا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کو خود بلاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو میرے پاس بلاؤ۔ راوی کہتے ہیں: پس حضرت ابوبکر تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے کافی دیر تک سرگوشی کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو حکم دیا چناچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں جانب یا بائیں جانب بیٹھ گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت عمر کو میرے پاس بلاؤ۔ چناچہ حضرت عمر حاضر ہوئے اور حضرت ابوبکر کی جگہ (سامنے) بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے بھی کافی لمبی سرگوشی فرمائی اس دوران حضرت عمر کی آواز بلند ہوگئی اور کہنے لگے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ تو کفر کے سردار ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کو جادو گر گمان کیا اور آپ کو کاہن کہا اور آپ کو کذاب سمجھا اور آپ کو جھوٹ باندھنے والا کہا۔ حضرت عمر نے ان تما م باتوں کا ذکر فرمایا جو اہل مکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو حکم دیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دوسری جانب بیٹھ جائیں۔ چناچہ ان حضرات شیخین میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب بیٹھ گیا۔ پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو بلایا اور ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے ان دو ساتھیوں کی مثال نہ بتاؤں؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رُخ مبارک حضرت ابوبکر کی طرف پھیرا اور ارشاد فرمایا: یقین کرو کہ ابراہیم اللہ تعالیٰ کے بارے میں دودھ میں تیل سے بھی زیادہ نرم تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رُخ مبارک حضرت عمر کی طرف کیا اور فرمایا۔ حضرت نوح اللہ کے بارے میں پتھر سے بھی زیادہ سخت تھے۔ اور فیصلہ تو وہی ہے جو عمر نے کیا ہے۔ پھر صحابہ کرام نے تیاری شرو ع کردی اور کھڑے ہوگئے۔ اور حضرت ابوبکر کے پیچھے چل پڑے اور کہنے لگے۔ اے ابوبکر! حضرت عمر سے پوچھنا تو ہم پسند نہیں کرتے۔ (لیکن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے ساتھ کیا سرگوشی کی تھی؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ فرمایا تھا کہ تم مکہ (والوں سے) لڑنے کے بارے میں مجھے کیا کہتے ہو؟ حضرت ابوبکر کہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! وہ آپ ہی کی قوم ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو دیکھ رہا ہوں کہ یہ لوگ عنقریب میری اطاعت کرلیں گے۔ حضرت ابوبکر کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو بلایا تو حضرت عمر نے کہا۔ یہ لوگ تو کفر کے سردار ہیں حتی کہ حضرت عمر نے ہر اس بُری بات کا ذکر کردیا جو وہ لوگ کہتے تھے۔ اور خدا کی قسم! جب تک مکہ والے ذلیل نہیں ہوں گے تب تک عرب والے ذلیل نہیں ہوں گے۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں جہاد کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ مکہ پر حملہ کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39724]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39724، ترقيم محمد عوامة 38106)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39724 in Urdu