مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
35. ما (ذكر) في الطائف
وہ احادیث جو غزوہ طائف کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 38108 ترقیم الشثری: -- 39726
٣٩٧٢٦ - حدثنا عبيد الله بن موسى عن طلحة بن (جبر) (١) عن المطلب بن عبد الله عن مصعب بن عبد الرحمن (عن عبد الرحمن) (٢) بن عوف قال: لما افتتح رسول الله ﷺ مكة انصرف إلى الطائف، فحاصرهم تسع عشرة او ثماني عشرة فلم ⦗٧١⦘ يفتتحها، ثم (اوغل) (٣) روحة او غدوة، (فنزل) (٤) (ثم هجر) (٥) ، ثم قال:"ايها الناس، إني فرط لكم فاوصيكم بعترتي خيرا، (وإن) (٦) موعدكم الحوض، والذي نفسي بيده (ليقيمن) (٧) الصلاة (وليؤتن) (٨) الزكاة او لابعثن إليهم رجلا مني او كنفسي (فليضربن) (٩) اعناق مقاتلتهم وليسبين ذراريهم"، (قال) (١٠) : (فراى) (١١) الناس انه ابو بكر (او عمر) (١٢) ، فاخذ بيد علي (١٣) فقال:"هذا" (١٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (جابر)، وفي [س]: (جبير).
(٢) سقط من: [ع، ي].
(٣) في [ق، هـ]: (ارتحل).
(٤) في [أ، ب]: (ثم نزل).
(٥) في [ع]: (ثم هجز)، وسقط من: [هـ].
(٦) في [ي]: (أو أن).
(٧) في [س]: (لتقيمن).
(٨) في [س]: (ولتؤتن).
(٩) في [س]: (فلتضربن).
(١٠) في [أ، ب، جـ، س، ي]: (قالوا).
(١١) في [ع]: (فرا).
(١٢) في [ب]: (وعمر).
(١٣) في [أ، ب]: زيادة ﵁.
(١٤) ضعيف جدًّا؛ طلحة بن جبر متروك، أخرجه أبو يعلى (٨٥٩)، والحاكم ٢/ ١٢٠، وابن عساكر ٤٢/ ٣٤٣، والبزار (١٠٥٠)، والمروزي في تعظيم الصلاة (٩٦٨)، وخليفة بن خياط في التاريخ ص ٨٩، والفاكهي (١٩٦٢)، وابن جرير في الجزء المفقود من تهذيب الآثار (٢١٦).
حضرت عبد الرحمان بن عوف روایت بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کو فتح کرلیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طائف کی طرف چل پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف والوں کا اٹھارہ یا انیس (دن) محاصرہ کیا لیکن طائف کو فتح نہ کرسکے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک صبح یا ایک شام محاصرہ کو شدید کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑاؤ ڈالا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوپہر کے وقت (ہی) چل پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں تم سے پہلے (آگے) پہنچنے والا ہوں لہٰذا میں تمہیں اپنی عزت کے ساتھ خیر کی وصیت کرتا ہوں۔ اور یقین جانو کہ تمہارے ساتھ میرے وعدہ کی جگہ حوض ہے۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ مں ے میری جان ہے تم لوگ نماز کو ضرور بالضرور قائم کرتے رہنا اور زکوۃ کو ضرور بالضرور ادا کرتے رہنا یا میں تمہاری طرف اپنے میں سے ایک اپنی طرح کا ایک آدمی بھیج دوں گا۔ جو اُن (اہل ایمان) سے لڑنے والوں کی گردنیں مارے گا اور ان کے افراد کو قیدی بنا لائے گا۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں کا خیال یہ ہوا کہ یہ آدمی حضرت ابوبکر ہوں گے یا حضرت عمر ہوں گے۔ لیکن جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا: وہ آدمی یہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39726]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39726، ترقيم محمد عوامة 38108)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39726 in Urdu