مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
35. ما (ذكر) في الطائف
وہ احادیث جو غزوہ طائف کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 38109 ترقیم الشثری: -- 39727
٣٩٧٢٧ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن عبد الله بن عثمان بن (خثيم) (١) عن ابي الزبير ان رسول الله ﷺ حاصر (اهل) (٢) الطائف، (٣) (فجاءه) (٤) اصحابه ⦗٧٢⦘ (فقالوا) (٥) : يا رسول الله (احرقتنا) (٦) نبال ثقيف، فادع الله عليهم، فقال:"اللهم اهد ثقيفا" -مرتين، قال: وجاءته خولة فقال: إني نبئت ان بنت خزاعة ذات حلي، فنفلني حليها (إن) (٧) (فتح) (٨) الله عليك الطائف غدا، قال:"إن لم يكن اذن لنا في قتالهم؟" [فقال رجل - (نراه) (٩) عمر-: يا رسول الله ما مقامك على قوم لم (يؤذن) (١٠) لك في قتالهم؟] (١١) قال:"فاذن في الناس بالرحيل"، فنزل الجعرانة، فقسم بها غنائم حنين، ثم دخل منها بعمرة، ثم انصرف إلى المدينة (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (خيثم).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [ع]: زيادة (قال).
(٤) في [جـ، س، ق]: (فجاء).
(٥) في [أ، ب]: (فقال).
(٦) في [س]: (أهرقتنا).
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) في [أ، ب]: (ففتح).
(٩) في [ي]: (تراه).
(١٠) في [أ، ب]: (تؤذن).
(١١) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(١٢) مرسل؛ أبو الزبير تابعي، وورد بنحوه من حديث أبي الزبير عن جابر أخرجه أحمد وابنه (١٤٧٠٢)، والترمذي (٣٩٤٢)، وابن عدي ١/ ٣١٢.
حضرت ابو الزبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہمیں تو بنو ثقیف کے نیزوں نے جلا ڈالا ہے لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے ان کے خلاف بد دعا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! بنو ثقیف کو ہدایت دے۔ دو مرتبہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حضرت خولہ حاضر ہوئیں اور عرض کیا۔ مجھے خبر ملی ہے کہ خزاعہ کی بیٹی بہت زیورات والی ہے۔ لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ کل آپ کو طائف فتح کروا دیں تو آپ اس کے زیورات مجھے ہدیہ فرما دیجئے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان سے لڑائی کی جازت ہی نہ دی ہو؟ اس پر ایک آدمی نے … ہمارے خیال میں حضرت عمر تھے … کہا … یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! جس قوم کے بارے میں آپ کو لڑائی کی اجازت نہیں دی گئی اس پر آپ نے پڑاؤ کیوں ڈالا ہوا ہے؟ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو کوچ کرنے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آ کر) مقام جعرانہ میں اترے اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کی غنیمتوں کو تقسیم فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہیں سے عمرہ کے لئے داخل ہوگئے پھر (عمرہ کے بعد) مدینہ منورہ چلے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39727]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39727، ترقيم محمد عوامة 38109)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39727 in Urdu