مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
36. (ما حفظت) في (بعث) مؤتة
غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
ترقیم عوامۃ: 38121 ترقیم الشثری: -- 39739
٣٩٧٣٩ - حدثنا سليمان بن حرب قال: (حدثنا) (١) الاسود بن شيبان عن خالد ابن سمير قال: قدم علينا (عبد الله) (٢) بن رباح الانصاري، قال: وكانت الانصار تفقهه، قال: (حدثنا) (٣) ابو قتادة فارس رسول الله ﷺ قال: بعث رسول الله ﷺ جيش الامراء وقال:"عليكم زيد بن حارثة، فإن اصيب زيد فجعفر بن ابي طالب، فإن اصيب جعفر فعبد الله بن رواحة"، فوثب جعفر فقال: يا رسول الله ما كنت ارهب ان تستعمل علي زيدا فقال:"امض، فإنك لا تدري اي ذلك خير"، فانطلقوا فلبثوا ما شاء الله. ثم ان رسول الله ﷺ صعد المنبر وامر فنودي الصلاة جامعة، فاجتمع الناس إلى رسول الله ﷺ فقال:"ثاب خير، ثاب خير -ثلاثا- اخبركم عن جيشكم هذا الغازي، (انطلقوا) (٤) فلقوا العدو (فقتل) (٥) زيد شهيدا، فاستغفروا له، ثم اخذ اللواء جعفر بن ابي طالب فشد على القوم حتى قتل شهيدا، اشهدوا له بالشهادة واستغفروا له، ثم اخذ اللواء (عبد الله بن رواحة فاثبت قدميه حتى قتل شهيدا، فاستغفروا له، ثم اخذ اللواء) (٦) خالد بن الوليد ولم يكن من الامراء، هو امر نفسه"، ثم قال رسول الله ﷺ (٧) :" [اللهم إنه سيف (٨) من سيوفك (فانت) (٩) ⦗٧٨⦘ تنصره"، فمن يومئذ سمي سيف الله (١٠) ، وقال رسول الله ﷺ] (١١) :"انفروا (فامدوا) (١٢) إخوانكم ولا (١٣) (يتخلفن) (١٤) منكم احد"، فنفروا مشاة وركبانا، وذلك في حر شديد. فبينما هم ليلة (مما يلين) (١٥) (عن) (١٦) الطريق (إذ) (١٧) نعس رسول الله ﷺ حتى مال عن (الرحل) (١٨) ، فاتيته فدعمته بيدي، فلما وجد مس يد رجل اعتدل فقال:"من هذا؟" فقلت: ابو قتادة، (فسار ايضا، ثم نعس حتى مال عن (الرحل) (١٩) فاتيته فدعمته بيدي، فلما وجد مس يد رجل اعتدل فقال:"من هذا؟" فقلت: ابو قتادة) (٢٠) ، قال:"في الثانية او الثالثة"، قال:"ما اراني إلا قد شققت عليك منذ الليلة"، قال: قلت كلا بابي انت وامي، ولكن ارى الكرى والنعاس قد شق عليك، فلو عدلت (فنزلت) (٢١) حتى يذهب كراك، قال:"إني اخاف ان (يخذل) (٢٢) الناس"، قال: (قلت) (٢٣) : كلا بابي (انت) (٢٤) وامي، قال: فابغنا مكانا ⦗٧٩⦘ (خمرا) (٢٥) ، قال: فعدلت عن الطريق، فإذا (انا) (٢٦) بعقدة من شجر، فجئت فقلت: يا رسول الله هذه عقدة من شجر قد اصبتها. قال: فعدل رسول الله ﷺ وعدل معه من يليه من اهل الطريق، (فنزلوا) (٢٧) واستتروا بالعقدة من الطريق، فما استيقظنا إلا بالشمس طالعة علينا فقمنا (ونحن) (٢٨) (وهلين) (٢٩) ، فقال رسول الله ﷺ:"رويدا رويدا"، حتى تعالت الشمس. ثم قال:"من كان يصلي هاتين الركعتين قبل صلاة الغداة فليصلهما"، فصلاهما من كان يصليهما (ومن كان لا يصليهما) (٣٠) ، ثم امر فنودي بالصلاة، ثم تقدم رسول الله ﷺ فصلى بنا، فلما سلم قال:"إنا نحمد الله، (انا) (٣١) لم نكن في شيء من امر الدنيا، يشغلنا عن صلاتنا، ولكن ارواحنا كانت بيد الله، ارسلها انى شاء، الا فمن ادركته هذه الصلاة من عبد صالح فليقض معها مثلها". قالوا: يا رسول الله العطش، قال:"لا عطش يا ابا قتادة، ارني الميضاة"، قال: فاتيته بها (فجعلها) (٣٢) في (ضبنه) (٣٣) ، ثم التقم فمها، فالله اعلم انفث فيها ام لا، ثم قال:"يا ابا قتادة ارني (الغمر) (٣٤) على الراحلة"، فاتيته بقدح بين القدحين ⦗٨٠⦘ فصب فيه، فقال:"اسق القوم"، ونادى رسول الله ﷺ ورفع صوته:"الا من اتاه (إناؤه) (٣٥) فليشربه"، فاتيت رجلا فسقيته. ثم رجعت إلى رسول الله ﷺ بفضلة القدح، (فذهبت) (٣٦) فسقيت الذي يليه حتى سقيت اهل تلك الحلقة، ثم رجعت إلي رسول الله ﷺ (٣٧) بفضلة القدح فذهبت فسقيت حلقة اخرى حتى سقيت (سبع) (٣٨) رفق، وجعلت اتطاول (انظر) (٣٩) هل بقي فيها شيء؟ فصب رسول الله ﷺ في القدح فقال لي:"اشرب"، قال: قلت: بابي (انت) (٤٠) وامي، إني (لا اجد) (٤١) (بي) (٤٢) كثير عطش، قال: إليك عني، فإني ساقي القوم منذ اليوم، قال: فصب رسول الله ﷺ في القدح فشرب، ثم صب في القدح فشرب، (ثم صب (في) (٤٣) القدح فشرب) (٤٤) (ثم) (٤٥) ركب وركبنا. ثم قال:"كيف ترى القوم صنعوا حين [فقدوا نبيهم (وارهقتهم) (٤٦) صلاتهم؟" قلنا: الله ورسوله اعلم، قال:"اليس فيهم ابو بكر وعمر إن يطيعوهما ⦗٨١⦘ فقد رشدوا ورشدت] (٤٧) (امهم) (٤٨) ، وإن يعصوهما فقد غووا وغوت (امهم) (٤٩) "، -قالها ثلاثا-. ثم سار وسرنا حتى إذا كنا في نحر الظهيرة إذا ناس يتبعون ظلال الشجرة فاتيناهم فإذا ناس من المهاجرين فيهم عمر بن الخطاب، قال: فقلنا لهم: كيف صنعتم (حين) (٥٠) فقدتم نبيكم وارهقتكم صلاتكم؟ قالوا: نحن والله نخبركم وثب عمر فقال لابي بكر: إن الله قال في كتابه: ﴿إنك ميت وإنهم (ميتون) (٥١) ﴾ [الزمر: ٣٠] وإني (والله) (٥٢) ما ادري لعل الله قد توفى نبيه (٥٣) (فقم) (٥٤) فصل وانطلق، إني ناظر بعدك (ومتلوم) (٥٥) ، فإن رايت شيئا وإلا لحقت بك، قال: (واقيمت) (٥٦) الصلاة، وانقطع الحديث (٥٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب، س]: (عبد الرحمن).
(٣) في [ع]: (أخبرنا).
(٤) في [هـ]: (فانطلقوا)، وفي [ع]: (ثم انطلقوا).
(٥) في [س]: (فقيل).
(٦) سقط من: [ب].
(٧) سقط من: [ع].
(٨) في [ع]: زيادة (المسلول).
(٩) في [ق]: (وأنت).
(١٠) في [ع]: زيادة (المسلول).
(١١) سقط من ما بين المعكوفين من: [ع].
(١٢) في [ع]: (فأمروا).
(١٣) في [ي]: زيادة كلمة غير واضحة.
(١٤) في [س]: (يخلفن).
(١٥) في [أ، ب، جـ، س، ي]: (ممائلين).
(١٦) في [ق]: (من).
(١٧) في [أ، ب]: (أن).
(١٨) في [س]: (الرجل).
(١٩) في [س]: (الرجل).
(٢٠) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٢١) في [أ]: (كنزلت).
(٢٢) في [أ، ب]: (ينزل).
(٢٣) سقط من: [ع].
(٢٤) سقط من: [هـ].
(٢٥) أي: ساترًا، وفي [هـ]: (خميرًا).
(٢٦) سقط من: [ي].
(٢٧) في [أ، ب]: (فعدلوا).
(٢٨) في [أ، ب]: (فنحن).
(٢٩) في [ع]: (ذهلين).
(٣٠) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ط، هـ، ي].
(٣١) سقط من: [أ، ب، جـ، س، هـ].
(٣٢) سقط من: [ي].
(٣٣) في [ي]: (خبنة).
(٣٤) في [أ، ب]: (الغمز)، وفي [ع]: (العمد).
(٣٥) في [جـ، ع]: (إناء).
(٣٦) في [أ، ب]: (فذهب).
(٣٧) سقط من: [س].
(٣٨) في [ق، هـ]: (سبعة).
(٣٩) سقط من: [ع].
(٤٠) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ي].
(٤١) في [جـ، ي]: (لأجد).
(٤٢) في [ع]: نقاط، وفي [ي]: (ني).
(٤٣) سقط من: [أ].
(٤٤) سقط من: [ع].
(٤٥) سقط من: [جـ].
(٤٦) في [جـ]: (وأهقهم)، وفي [ع]: (وأرهفتهم)، وفي [س]: (وأرهقهم)، وفي [ق]: (وأهمتهم).
(٤٧) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٤٨) في [ق]: (أمتهم).
(٤٩) في [ق]: (أمتهم).
(٥٠) في [س]: (جين).
(٥١) في [ب]: (ميت).
(٥٢) سقط من: [ع].
(٥٣) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﷺ.
(٥٤) في [أ، ب، جـ، س]: (قم).
(٥٥) أي: منتظر، وفي [هـ]: (مقاوم).
(٥٦) في [أ، ب]: (فأقيمت).
(٥٧) صحيح؛ خالد بن سمير ثقة، أجره أحمد (٢٢٥٥١)، والنسائي في الكبرى (٨١٥٩)، وابن حبان (٧٠٤٨)، وابن سعد ٣/ ٤٦، وابن جرير في التاريخ ٣٠/ ٤١، والدارمي (٥١٧٠)، والبيهقي في دلائل النبوة ٤/ ٣٦٧، وأصله عند مسلم (٦٨١).
حضرت خالد بن سمرہ روایت کرتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عبد اللہ بن رباح انصاری تشریف لائے … اور انصار صحابہ ان کو فقیہ سمجھتے تھے تو انہوں نے فرمایا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھڑ سوار ابو قتادہ نے بیان کیا۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیش الامراء (غزوہ مؤتہ کا لشکر) کو روانہ فرمایا تو ارشاد فرمایا: ”تم پر زید بن حارثہ حاکم ہیں۔ پس اگر یہ قتل ہوجائیں تو پھر جعفر بن ابی طالب ہیں اور اگر یہ بھی قتل ہوجائیں تو پھر عبد اللہ بن رواحہ ہیں۔“ حضرت جعفر اچھل پڑے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں اس بات سے خوف نہیں کھاتا کہ آپ مجھ پر زید کو حاکم بنائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جانے دو! تم نہیں جانتے کہ ان میں کیا چیز خیر ہے۔ ٢۔ پھر یہ لوگ چل پڑے اور جتنی دیر اللہ کو منظور تھا یہ لوگ وہاں رہے۔ پھر (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور حکم دیا اور یہ منادی کی گئی کہ الصلاۃ جامعۃ۔ چناچہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جمع ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”خیر کی بات پہنچی ہے، خیر کی بات پہنچی ہے۔ یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی… میں تمہیں اس لڑنے والے لشکر کے بارے میں خبر دیتا ہوں۔ یہ لوگ (یہاں سے) چلے تو ان کی دشمن سے ملاقات (اور لڑائی) ہوئی چناچہ حضرت زید شہادت کی حالت میں قتل کردیئے گئے۔ تم لوگ ان کے لئے استغفار کرو، پھر جھنڈا حضرت جعفر بن ابی طالب نے سنبھال لیا اور انہوں نے دشمن پر خوب حملہ کیا یہاں تک کہ وہ بھی شہادت کی حالت میں قتل ہوگئے۔ تم ان کی شہادت پر گواہ بن جاؤ اور ان کے لئے استغفار کرو۔ پھر جھنڈا، حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے سنبھال لیا اور اپنے قدم خوب جما لئے (لیکن) آخر کار وہ شہید کردیئے گئے۔ تم ان کے لئے استغفار کرو پھر (ان کے بعد) جھنڈا حضرت خالد بن الولید نے سنبھال لیا ہے حالانکہ وہ (پہلے سے متعین) امیروں میں سے نہیں تھے (بلکہ) انہوں نے خود اپنے آپ کو امیر بنا لیا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا مانگی ”اے اللہ! یہ خالد تو تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں تو ہی ان کی مدد فرما۔“ اس دن سے حضرت خالد بن الولید کا نام سیف اللہ المسلول پڑگیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نکل جاؤ اور اپنے بھائیوں کی مدد کرو۔ کوئی بھی تم میں سے پیچھے نہ رہے۔“ چناچہ صحابہ کرام پیدل اور سوار ہو کر نکل پڑے اور یہ سخت گرمی کا وقت تھا۔ ٣۔ ایک رات صحابہ راستہ سے ہٹے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اونگھ آگئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کجاوہ سے ایک طرف جھک گئے۔ چناچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ہاتھ سے سہارا دیا۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدھا کرنے والے آدمی کے ہاتھ کا چھونا محسوس فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کون شخص ہے؟ میں نے عرض کیا: ابو قتادہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل پڑے پھر (دوبارہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اونگھ آئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کجاوہ سے ایک طرف جھک گئے۔ میں (دوبارہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور میں نے اپنے ہاتھ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سہارا دیا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی سیدھا کرنے والے آدمی کے ہاتھ کا چھونا محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ یہ کون شخص ہے؟ میں نے عرض کیا۔ ابو قتادہ ہے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری مرتبہ یا تیسری مرتبہ میں ارشاد فرمایا: میرا خیال تو اپنے بارے میں یہ ہے کہ میں نے تمہیں آج کی رات مشقت میں ڈال دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا۔ ہرگز نہیں! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ میں تو دیکھ رہا ہوں کہ نیند یا اونگھ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشقت میں ڈالا ہوا ہے۔ لہٰذا اگر آپ ایک طرف ہوجائیں اور پڑاؤ ڈال لیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند ختم ہوجائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اس بات کا خوف ہے کہ لوگ ان یخذل الناس۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: ہرگز نہیں! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ ٤۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم ہمارے واسطے پردے والی جگہ تلاش کرو۔“ راوی کہتے ہیں: میں راستہ سے اترا تو اچانک مجھے درختوں کا ایک جھُنڈ نظر آیا۔ چناچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ درختوں کا جُھن [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39739]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39739، ترقيم محمد عوامة 38121)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39739 in Urdu