مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
36. (ما حفظت) في (بعث) مؤتة
غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
ترقیم عوامۃ: 38120 ترقیم الشثری: -- 39738
٣٩٧٣٨ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : (حدثنا) (٢) ابو خالد الاحمر عن حجاج عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس ان رسول الله ﷺ بعث إلى مؤتة فاستعمل زيدا فإن قتل زيد فجعفر، فإن قتل جعفر فابن رواحة، فتخلف ابن رواحة (يجمع) (٣) مع النبي ﷺ، فرآه النبي ﷺ فقال:"ما خلفك؟" قال: اجمع معك، قال:"لغدوة او روحة في سبيل الله خير من الدنيا وما فيها" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) أي: يصلي الجمعة، وفي [جـ]: (مجمع)، وفي [س]: (يجتمع).
(٤) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه أحمد (١٩٦٧)، والترمذي (١٦٤٩)، وأبو يعلى (٢٥٠٦)، والطبراني (١٢٠٨١)، والطيالسي (٢٦٩٩)، والبيهقي ٣/ ١٨٧، وعبد بن حميد (٦٥٤)، وابن أبي عاصم في الجهاد (٦٦).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤتہ کے طرف لشکر روانہ فرمایا اور ان پر حضرت زید کو حاکم مقرر فرمایا اور اگر یہ قتل ہوجائیں تو پھر حضرت جعفر امیر ہوں گے اور اگر یہ بھی قتل ہوجائیں تو پھر ابن رواحہ امیر ہوں گے۔ حضرت ابن رواحہ لشکر سے پیچھے رہ گئے اور انہوں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جمعہ کی نماز ادا فرمائی چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا اور پوچھا۔ تمہیں کس چیز نے (لشکر سے) پیچھے کردیا؟ انہوں نے جواب دیا۔ (اس لئے رُکا) تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جمعہ کی نماز ادا کرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کے راستہ میں ایک صبح یا ایک شام دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39738]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39738، ترقيم محمد عوامة 38120)
ترقیم عوامۃ: 38121 ترقیم الشثری: -- 39739
٣٩٧٣٩ - حدثنا سليمان بن حرب قال: (حدثنا) (١) الاسود بن شيبان عن خالد ابن سمير قال: قدم علينا (عبد الله) (٢) بن رباح الانصاري، قال: وكانت الانصار تفقهه، قال: (حدثنا) (٣) ابو قتادة فارس رسول الله ﷺ قال: بعث رسول الله ﷺ جيش الامراء وقال:"عليكم زيد بن حارثة، فإن اصيب زيد فجعفر بن ابي طالب، فإن اصيب جعفر فعبد الله بن رواحة"، فوثب جعفر فقال: يا رسول الله ما كنت ارهب ان تستعمل علي زيدا فقال:"امض، فإنك لا تدري اي ذلك خير"، فانطلقوا فلبثوا ما شاء الله. ثم ان رسول الله ﷺ صعد المنبر وامر فنودي الصلاة جامعة، فاجتمع الناس إلى رسول الله ﷺ فقال:"ثاب خير، ثاب خير -ثلاثا- اخبركم عن جيشكم هذا الغازي، (انطلقوا) (٤) فلقوا العدو (فقتل) (٥) زيد شهيدا، فاستغفروا له، ثم اخذ اللواء جعفر بن ابي طالب فشد على القوم حتى قتل شهيدا، اشهدوا له بالشهادة واستغفروا له، ثم اخذ اللواء (عبد الله بن رواحة فاثبت قدميه حتى قتل شهيدا، فاستغفروا له، ثم اخذ اللواء) (٦) خالد بن الوليد ولم يكن من الامراء، هو امر نفسه"، ثم قال رسول الله ﷺ (٧) :" [اللهم إنه سيف (٨) من سيوفك (فانت) (٩) ⦗٧٨⦘ تنصره"، فمن يومئذ سمي سيف الله (١٠) ، وقال رسول الله ﷺ] (١١) :"انفروا (فامدوا) (١٢) إخوانكم ولا (١٣) (يتخلفن) (١٤) منكم احد"، فنفروا مشاة وركبانا، وذلك في حر شديد. فبينما هم ليلة (مما يلين) (١٥) (عن) (١٦) الطريق (إذ) (١٧) نعس رسول الله ﷺ حتى مال عن (الرحل) (١٨) ، فاتيته فدعمته بيدي، فلما وجد مس يد رجل اعتدل فقال:"من هذا؟" فقلت: ابو قتادة، (فسار ايضا، ثم نعس حتى مال عن (الرحل) (١٩) فاتيته فدعمته بيدي، فلما وجد مس يد رجل اعتدل فقال:"من هذا؟" فقلت: ابو قتادة) (٢٠) ، قال:"في الثانية او الثالثة"، قال:"ما اراني إلا قد شققت عليك منذ الليلة"، قال: قلت كلا بابي انت وامي، ولكن ارى الكرى والنعاس قد شق عليك، فلو عدلت (فنزلت) (٢١) حتى يذهب كراك، قال:"إني اخاف ان (يخذل) (٢٢) الناس"، قال: (قلت) (٢٣) : كلا بابي (انت) (٢٤) وامي، قال: فابغنا مكانا ⦗٧٩⦘ (خمرا) (٢٥) ، قال: فعدلت عن الطريق، فإذا (انا) (٢٦) بعقدة من شجر، فجئت فقلت: يا رسول الله هذه عقدة من شجر قد اصبتها. قال: فعدل رسول الله ﷺ وعدل معه من يليه من اهل الطريق، (فنزلوا) (٢٧) واستتروا بالعقدة من الطريق، فما استيقظنا إلا بالشمس طالعة علينا فقمنا (ونحن) (٢٨) (وهلين) (٢٩) ، فقال رسول الله ﷺ:"رويدا رويدا"، حتى تعالت الشمس. ثم قال:"من كان يصلي هاتين الركعتين قبل صلاة الغداة فليصلهما"، فصلاهما من كان يصليهما (ومن كان لا يصليهما) (٣٠) ، ثم امر فنودي بالصلاة، ثم تقدم رسول الله ﷺ فصلى بنا، فلما سلم قال:"إنا نحمد الله، (انا) (٣١) لم نكن في شيء من امر الدنيا، يشغلنا عن صلاتنا، ولكن ارواحنا كانت بيد الله، ارسلها انى شاء، الا فمن ادركته هذه الصلاة من عبد صالح فليقض معها مثلها". قالوا: يا رسول الله العطش، قال:"لا عطش يا ابا قتادة، ارني الميضاة"، قال: فاتيته بها (فجعلها) (٣٢) في (ضبنه) (٣٣) ، ثم التقم فمها، فالله اعلم انفث فيها ام لا، ثم قال:"يا ابا قتادة ارني (الغمر) (٣٤) على الراحلة"، فاتيته بقدح بين القدحين ⦗٨٠⦘ فصب فيه، فقال:"اسق القوم"، ونادى رسول الله ﷺ ورفع صوته:"الا من اتاه (إناؤه) (٣٥) فليشربه"، فاتيت رجلا فسقيته. ثم رجعت إلى رسول الله ﷺ بفضلة القدح، (فذهبت) (٣٦) فسقيت الذي يليه حتى سقيت اهل تلك الحلقة، ثم رجعت إلي رسول الله ﷺ (٣٧) بفضلة القدح فذهبت فسقيت حلقة اخرى حتى سقيت (سبع) (٣٨) رفق، وجعلت اتطاول (انظر) (٣٩) هل بقي فيها شيء؟ فصب رسول الله ﷺ في القدح فقال لي:"اشرب"، قال: قلت: بابي (انت) (٤٠) وامي، إني (لا اجد) (٤١) (بي) (٤٢) كثير عطش، قال: إليك عني، فإني ساقي القوم منذ اليوم، قال: فصب رسول الله ﷺ في القدح فشرب، ثم صب في القدح فشرب، (ثم صب (في) (٤٣) القدح فشرب) (٤٤) (ثم) (٤٥) ركب وركبنا. ثم قال:"كيف ترى القوم صنعوا حين [فقدوا نبيهم (وارهقتهم) (٤٦) صلاتهم؟" قلنا: الله ورسوله اعلم، قال:"اليس فيهم ابو بكر وعمر إن يطيعوهما ⦗٨١⦘ فقد رشدوا ورشدت] (٤٧) (امهم) (٤٨) ، وإن يعصوهما فقد غووا وغوت (امهم) (٤٩) "، -قالها ثلاثا-. ثم سار وسرنا حتى إذا كنا في نحر الظهيرة إذا ناس يتبعون ظلال الشجرة فاتيناهم فإذا ناس من المهاجرين فيهم عمر بن الخطاب، قال: فقلنا لهم: كيف صنعتم (حين) (٥٠) فقدتم نبيكم وارهقتكم صلاتكم؟ قالوا: نحن والله نخبركم وثب عمر فقال لابي بكر: إن الله قال في كتابه: ﴿إنك ميت وإنهم (ميتون) (٥١) ﴾ [الزمر: ٣٠] وإني (والله) (٥٢) ما ادري لعل الله قد توفى نبيه (٥٣) (فقم) (٥٤) فصل وانطلق، إني ناظر بعدك (ومتلوم) (٥٥) ، فإن رايت شيئا وإلا لحقت بك، قال: (واقيمت) (٥٦) الصلاة، وانقطع الحديث (٥٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب، س]: (عبد الرحمن).
(٣) في [ع]: (أخبرنا).
(٤) في [هـ]: (فانطلقوا)، وفي [ع]: (ثم انطلقوا).
(٥) في [س]: (فقيل).
(٦) سقط من: [ب].
(٧) سقط من: [ع].
(٨) في [ع]: زيادة (المسلول).
(٩) في [ق]: (وأنت).
(١٠) في [ع]: زيادة (المسلول).
(١١) سقط من ما بين المعكوفين من: [ع].
(١٢) في [ع]: (فأمروا).
(١٣) في [ي]: زيادة كلمة غير واضحة.
(١٤) في [س]: (يخلفن).
(١٥) في [أ، ب، جـ، س، ي]: (ممائلين).
(١٦) في [ق]: (من).
(١٧) في [أ، ب]: (أن).
(١٨) في [س]: (الرجل).
(١٩) في [س]: (الرجل).
(٢٠) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٢١) في [أ]: (كنزلت).
(٢٢) في [أ، ب]: (ينزل).
(٢٣) سقط من: [ع].
(٢٤) سقط من: [هـ].
(٢٥) أي: ساترًا، وفي [هـ]: (خميرًا).
(٢٦) سقط من: [ي].
(٢٧) في [أ، ب]: (فعدلوا).
(٢٨) في [أ، ب]: (فنحن).
(٢٩) في [ع]: (ذهلين).
(٣٠) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ط، هـ، ي].
(٣١) سقط من: [أ، ب، جـ، س، هـ].
(٣٢) سقط من: [ي].
(٣٣) في [ي]: (خبنة).
(٣٤) في [أ، ب]: (الغمز)، وفي [ع]: (العمد).
(٣٥) في [جـ، ع]: (إناء).
(٣٦) في [أ، ب]: (فذهب).
(٣٧) سقط من: [س].
(٣٨) في [ق، هـ]: (سبعة).
(٣٩) سقط من: [ع].
(٤٠) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ي].
(٤١) في [جـ، ي]: (لأجد).
(٤٢) في [ع]: نقاط، وفي [ي]: (ني).
(٤٣) سقط من: [أ].
(٤٤) سقط من: [ع].
(٤٥) سقط من: [جـ].
(٤٦) في [جـ]: (وأهقهم)، وفي [ع]: (وأرهفتهم)، وفي [س]: (وأرهقهم)، وفي [ق]: (وأهمتهم).
(٤٧) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٤٨) في [ق]: (أمتهم).
(٤٩) في [ق]: (أمتهم).
(٥٠) في [س]: (جين).
(٥١) في [ب]: (ميت).
(٥٢) سقط من: [ع].
(٥٣) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﷺ.
(٥٤) في [أ، ب، جـ، س]: (قم).
(٥٥) أي: منتظر، وفي [هـ]: (مقاوم).
(٥٦) في [أ، ب]: (فأقيمت).
(٥٧) صحيح؛ خالد بن سمير ثقة، أجره أحمد (٢٢٥٥١)، والنسائي في الكبرى (٨١٥٩)، وابن حبان (٧٠٤٨)، وابن سعد ٣/ ٤٦، وابن جرير في التاريخ ٣٠/ ٤١، والدارمي (٥١٧٠)، والبيهقي في دلائل النبوة ٤/ ٣٦٧، وأصله عند مسلم (٦٨١).
حضرت خالد بن سمرہ روایت کرتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عبد اللہ بن رباح انصاری تشریف لائے … اور انصار صحابہ ان کو فقیہ سمجھتے تھے تو انہوں نے فرمایا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھڑ سوار ابو قتادہ نے بیان کیا۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیش الامراء (غزوہ مؤتہ کا لشکر) کو روانہ فرمایا تو ارشاد فرمایا: ”تم پر زید بن حارثہ حاکم ہیں۔ پس اگر یہ قتل ہوجائیں تو پھر جعفر بن ابی طالب ہیں اور اگر یہ بھی قتل ہوجائیں تو پھر عبد اللہ بن رواحہ ہیں۔“ حضرت جعفر اچھل پڑے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں اس بات سے خوف نہیں کھاتا کہ آپ مجھ پر زید کو حاکم بنائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جانے دو! تم نہیں جانتے کہ ان میں کیا چیز خیر ہے۔ ٢۔ پھر یہ لوگ چل پڑے اور جتنی دیر اللہ کو منظور تھا یہ لوگ وہاں رہے۔ پھر (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور حکم دیا اور یہ منادی کی گئی کہ الصلاۃ جامعۃ۔ چناچہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جمع ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”خیر کی بات پہنچی ہے، خیر کی بات پہنچی ہے۔ یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی… میں تمہیں اس لڑنے والے لشکر کے بارے میں خبر دیتا ہوں۔ یہ لوگ (یہاں سے) چلے تو ان کی دشمن سے ملاقات (اور لڑائی) ہوئی چناچہ حضرت زید شہادت کی حالت میں قتل کردیئے گئے۔ تم لوگ ان کے لئے استغفار کرو، پھر جھنڈا حضرت جعفر بن ابی طالب نے سنبھال لیا اور انہوں نے دشمن پر خوب حملہ کیا یہاں تک کہ وہ بھی شہادت کی حالت میں قتل ہوگئے۔ تم ان کی شہادت پر گواہ بن جاؤ اور ان کے لئے استغفار کرو۔ پھر جھنڈا، حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے سنبھال لیا اور اپنے قدم خوب جما لئے (لیکن) آخر کار وہ شہید کردیئے گئے۔ تم ان کے لئے استغفار کرو پھر (ان کے بعد) جھنڈا حضرت خالد بن الولید نے سنبھال لیا ہے حالانکہ وہ (پہلے سے متعین) امیروں میں سے نہیں تھے (بلکہ) انہوں نے خود اپنے آپ کو امیر بنا لیا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا مانگی ”اے اللہ! یہ خالد تو تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں تو ہی ان کی مدد فرما۔“ اس دن سے حضرت خالد بن الولید کا نام سیف اللہ المسلول پڑگیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نکل جاؤ اور اپنے بھائیوں کی مدد کرو۔ کوئی بھی تم میں سے پیچھے نہ رہے۔“ چناچہ صحابہ کرام پیدل اور سوار ہو کر نکل پڑے اور یہ سخت گرمی کا وقت تھا۔ ٣۔ ایک رات صحابہ راستہ سے ہٹے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اونگھ آگئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کجاوہ سے ایک طرف جھک گئے۔ چناچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ہاتھ سے سہارا دیا۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدھا کرنے والے آدمی کے ہاتھ کا چھونا محسوس فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کون شخص ہے؟ میں نے عرض کیا: ابو قتادہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل پڑے پھر (دوبارہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اونگھ آئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کجاوہ سے ایک طرف جھک گئے۔ میں (دوبارہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور میں نے اپنے ہاتھ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سہارا دیا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی سیدھا کرنے والے آدمی کے ہاتھ کا چھونا محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ یہ کون شخص ہے؟ میں نے عرض کیا۔ ابو قتادہ ہے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری مرتبہ یا تیسری مرتبہ میں ارشاد فرمایا: میرا خیال تو اپنے بارے میں یہ ہے کہ میں نے تمہیں آج کی رات مشقت میں ڈال دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا۔ ہرگز نہیں! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ میں تو دیکھ رہا ہوں کہ نیند یا اونگھ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشقت میں ڈالا ہوا ہے۔ لہٰذا اگر آپ ایک طرف ہوجائیں اور پڑاؤ ڈال لیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند ختم ہوجائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اس بات کا خوف ہے کہ لوگ ان یخذل الناس۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: ہرگز نہیں! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ ٤۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم ہمارے واسطے پردے والی جگہ تلاش کرو۔“ راوی کہتے ہیں: میں راستہ سے اترا تو اچانک مجھے درختوں کا ایک جھُنڈ نظر آیا۔ چناچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ درختوں کا جُھن [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39739]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39739، ترقيم محمد عوامة 38121)
ترقیم عوامۃ: 38122 ترقیم الشثری: -- 39740
٣٩٧٤٠ - حدثنا عبد الله بن نمير عن يحيى بن سعيد عن عمرة انها سمعت ⦗٨٢⦘ عائشة (تقول) (١) : لما (جاء) (٢) (نعي) (٣) جعفر بن ابي طالب وزيد بن حارثة وعبد الله بن رواحة جلس رسول الله ﷺ (يعرف) (٤) في وجهه الحزن، فقالت عائشة: وانا اطلع من شق الباب، فاتاه رجل فقال: يا رسول الله إن نساء جعفر -فذكر (من) (٥) (بكائهن) (٦) فامره رسول الله ﷺ (ان) (٧) ينهاهن (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (يقول).
(٢) في [ع]: (جاءه).
(٣) في [جـ، س]: (في).
(٤) في [ق، هـ]: (ويعرف).
(٥) سقط من: [ق، هـ].
(٦) في [أ، ب]: (بكائهم).
(٧) في [ي]: (لن).
(٨) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٢٩٩)، ومسلم (٩٣٥).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جعفر بن ابی طالب، زید بن حارثہ اور عبد اللہ بن رواحہ کی موت کی خبر پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غم کے اثرات ظاہر تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ میں (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) دروازہ کی پھاڑ سے دیکھ رہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! جعفر کی عورتیں … پھر اس آدمی نے ان عورتوں کے رونے کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی سے کہا کہ وہ انہیں (جا کر) منع کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39740]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39740، ترقيم محمد عوامة 38122)
ترقیم عوامۃ: 38123 ترقیم الشثری: -- 39741
٣٩٧٤١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن الشعبي زعم ان جعفر ابن ابي طالب قتل (يوم) (١) مؤتة بالبلقاء فقال رسول الله ﷺ:"اللهم اخلف جعفرا في اهله بافضل ما خلفت عبدا من عبادك الصالحين" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (قبل).
(٢) مرسل؛ الشعبي تابعي.
حضرت شعبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت جعفر بن ابی طالب غزوہ مؤتہ میں مقام بلقاء میں شہید ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! جعفر کے گھر جعفر کا وہ بہترین خلیفہ پیدا فرما جو تو اپنے نیک بندوں میں سے کسی بندہ کو عطا کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39741]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39741، ترقيم محمد عوامة 38123)
ترقیم عوامۃ: 38124 ترقیم الشثری: -- 39742
٣٩٧٤٢ - حدثنا (عبد الله) (١) بن إدريس ووكيع عن إسماعيل عن قيس قال: سمعت خالد بن الوليد يقول: لقد اندق في يدي يوم مؤتة تسعة اسياف، فما صبرت في يدي إلا صفيحة (لي) (٢) (يمانية) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عبدة و)، وفي [أ، ب]: (عبدة).
(٢) سقط من: [جـ، ق].
(٣) في [أ، ب، ع]: (ثمانية).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٢٦٥)، وابن حبان (٧٠٨٩).
حضرت خالد بن ولید بیان کرتے ہیں کہ غزوہ مؤتہ کے دن میرے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹ گئیں۔ پھر (آخر) میرے ہاتھ میں ایک چوڑی تلوار باقی رہی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39742]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39742، ترقيم محمد عوامة 38124)
ترقیم عوامۃ: 38125 ترقیم الشثری: -- 39743
٣٩٧٤٣ - حدثنا جعفر بن عون عن ابن جريج عن عطاء ان النبي ﷺ نعى الثلاثة الذين قتلوا بمؤتة ثم (صلى) (١) عليهم (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (صلا).
(٢) مرسل؛ عطاء تابعي.
حضرت عطاء سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ مؤتہ میں قتل کیے جانے والے تین صحابہ کی موت کی خبر سنائی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر جنازہ پڑھایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39743]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39743، ترقيم محمد عوامة 38125)
ترقیم عوامۃ: 38126 ترقیم الشثری: -- 39744
٣٩٧٤٤ - حدثنا عيسى بن يونس عن صفوان بن (عمرو) (١) السكسكي عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير قال: لما اشتد حزن اصحاب رسول الله ﷺ على من اصيب منهم مع زيد يوم مؤتة، قال رسول الله ﷺ:"ليدركن المسيح من هذه الامة اقوام إنهم (لمثلكم) (٢) او خير -ثلاث مرات- ولن يخزي الله امة انا اولها والمسيح آخرها" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عمر).
(٢) في [س]: (مثلكم).
(٣) مرسل؛ عبد الرحمن بن جبير تابعي، أخرجه نعيم بن حماد في الفتن (١٢١٧).
حضرت عبد الرحمان بن جبیر بن نفیر کہتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام کو غزوہ مؤتہ میں حضرت زید کے ساتھ شہید ہونے والے حضرات پر شدید غم ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ضرور بالضرور اسی امت میں سے کچھ قومیں حضرت مسیح کو پالیں گی۔ اور وہ لوگ تم سے بہتر یا تم جیسے ہوں گے۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ کہی۔ ”اور اللہ تعالیٰ ایسی امت کو ہلاک نہیں کرے گا جس کے اول میں میں اور آخر میں مسیح ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39744]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39744، ترقيم محمد عوامة 38126)
ترقیم عوامۃ: 38127 ترقیم الشثری: -- 39745
٣٩٧٤٥ - حدثنا (عبد الله) (١) (بن نمير) (٢) قال: (حدثنا) (٣) محمد بن إسحاق عن عبد الرحمن بن القاسم عن ابيه عن عائشة قالت: لما اتت (وفاة) (٤) جعفر عرفنا في وجه رسول الله ﷺ الحزن، قالت: فدخل عليه رجل فقال: يا رسول الله إن النساء يبكين، قال: فارجع إليهن فاسكتهن، فإن (ابين) (٥) فاحث (في) (٦) وجوههن التراب، (قال) (٧) : قالت عائشة: قلت في نفسي: والله ما تركت نفسك ⦗٨٤⦘ ولا انت مطيع رسول الله (٨) (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (عبيد اللَّه).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [ع]: (أخبرنا).
(٤) في [س]: (وقاة).
(٥) في [ع]: (أبو).
(٦) في [أ، ب]: (على).
(٧) في [ي]: (فإن).
(٨) في [أ، ب، جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٩) حسن؛ ابن إسحاق صدوق، صرح بالسماع عند الحاكم ٣/ ٤٣ (٤٣٤٩)، وأحمد ٦/ ٢٧٦ (٢٣٦٣)، والحديث أخرجه البخاري (١٢٩٩)، ومسلم (٩٣٥).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت جعفر کی وفات (کی خبر) آئی تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور پر غم (کے آثار) دیکھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! عورتیں رو رہی ہں ا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان کی طرف واپس جاؤ۔ انہیں خاموش کرواؤ۔ اور اگر وہ انکار کریں تو تم ان کے منہ پر مٹی ڈال دینا۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے اپنے دل میں کہا: تو اپنے آپ کو بھی نہیں چھوڑتا اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کو بجا لاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39745]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39745، ترقيم محمد عوامة 38127)
ترقیم عوامۃ: 38128 ترقیم الشثری: -- 39746
٣٩٧٤٦ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن يحيى بن عباد (بن عبد الله) (١) بن الزبير عن ابيه عن جده قال: اخبرني الذي ارضعني من بني مرة، قال: كاني انظر إلى جعفر يوم مؤتة: نزل عن فرس له شقراء فعرقبها، ثم مضى فقاتل حتى قتل (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) حسن؛ ابن إسحاق صدوق، صرح بالتحدث عند البيهقي ٩/ ٨٧، والطبراني (١٤٦٢)، وأبي نعيم في الحلية ١/ ١٨، وابن عساكر ٦٨/ ٨٨، وأخرجه أبو داود (٢٥٧٣)، وابن سعد ٤/ ٣٧، والحاكم ٣/ ٢٠٩، وابن الأثير في أسد الغابة ١/ ٤٢٢، والطحاوي في شرح المشكل ١٢/ ١٠٧، وابن جرير في التاريخ ٢/ ١٥١.
حضرت یحییٰ بن عباد بن عبد اللہ بن زبیر، اپنے والد، دادا سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے بنو مرہ کے اس آدمی نے بیان کیا جس نے (یعنی جس کی بیوی نے) مجھے دودھ پلایا تھا۔ اس نے کہا۔ گویا کہ میں غزوہ مؤتہ میں جعفر کو دیکھ رہا ہوں وہ اپنے سفید و سرخ گھوڑے سے نیچے اترے اور پھر اس کی کونچیں کاٹیں اور چل دیئے اور جا کر لڑائی کی یہاں تک کہ قتل (شہید) کردیئے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39746]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39746، ترقيم محمد عوامة 38128)
ترقیم عوامۃ: 38129 ترقیم الشثری: -- 39747
٣٩٧٤٧ - حدثنا ابو اسامة عن مهدي بن ميمون عن محمد بن عبد الله بن ابي يعقوب عن الحسن (١) بن سعد قال: لما جاء النبي ﷺ (٢) خبر قتل زيد وجعفر وعبد الله بن رواحة نعاهم إلى الناس وترك اسماء حتى افاضت من عبرتها، ثم اتاها (فعزاها) (٣) (وقال) (٤) :"ادعي لي بني اخي"، قال: فجاءت بثلاثة بنين كانهم (افراخ) (٥) ، (قالت) (٦) : فدعا الحلاق فحلق رؤوسهم، فقال:"اما محمد فشبيه ⦗٨٥⦘ عمنا ( (ابي) (٧) طالب) (٨) ، واما عون (الله) (٩) فشبيه خلقى وخلقى، واما عبد الله -فاخذ بيده (فشالها) (١٠) ، ثم قال-: اللهم بارك (لعبد الله) (١١) في صفقة (يمينه) (١٢) "، قال: فجعلت (امهم) (١٣) (تفرح) (١٤) لهم، فقال لها رسول الله ﷺ:"اتخشين عليهم الضيعة، وانا وليهم في الدنيا والآخرة" (١٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: زيادة (عن).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [أ، ب]: (فقرأها).
(٤) في [أ، ب]: (فقال).
(٥) في [جـ، ع]: (أفرخ)، وفي [س]: (أقزح).
(٦) في [ق، هـ]: (وقالت).
(٧) في [ع]: (أبو).
(٨) سقط من: [أ، ب].
(٩) سقط من: [ب، س].
(١٠) في [ب]: (فسألها).
(١١) سقط من: [ق، هـ].
(١٢) في [س]: (يمينية)، وفي [ب]: (المنية).
(١٣) في [ب]: (فيه).
(١٤) في [ب]: (يفرح).
(١٥) مرسل؛ الحسن بن سعد تابعي، أخرجه الطيالسي (٩٨٦)، وأبو نعيم في معرفة الصحابة (٦٥٠)، وأخرجه متصلًا من حديث عبد اللَّه بن جعفر أحمد (١٧٥٠)، وأبو داود (٤١٩٢)، والنسائي ٨/ ١٨٢، وابن سعد ٤/ ٣٦، وابن أبي عاصم في الآحاد (٤٣٤)، والطبراني (١٤٦١)، والحاكم ١/ ٣٧٢.
حضرت حسن بن سعد روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت زید، جعفر اور عبد اللہ بن رواحہ کے قتل کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو یہ وفات کی خبر سُنائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اسماء کو اس حالت میں چھوڑا تھا کہ وہ آنسو بہا رہی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دوبارہ) حضرت اسمائ کے پاس تشریف لائے اور ان سے تعزیت کی اور فرمایا: میرے پاس میرے بھتیجوں کو بلا کر لاؤ۔ راوی کہتے ہیں: پھر حضرت اسمائ … پرندوں کے بچوں کی طرح کے … تین بچے لے کر حاضر ہوئیں۔ اسماء کہتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نائی کو بلایا اور ان کے سرمنڈوائے اور فرمایا: ”محمد تو ہمارے چچا ابو طالب کے مشابہ ہے اور عون اللہ تو صورت و سیرت میں میرے مشابہ ہے۔ اور عبد اللہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اوپر اٹھایا اور دعا فرمائی۔ اے اللہ! عبد اللہ کے دائیں ہاتھ کے سودے میں برکت دے۔ راوی کہتے ہیں: ان کی ماں حضرت اسمائ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کی (لاوارثی) کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جواب دیا۔ کیا تم ان کے ضائع ہونے کا خوف کھاتی ہو؟ حالانکہ میں دنیا و آخرت میں ان کا ولی ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39747]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39747، ترقيم محمد عوامة 38129)