مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
36. (ما حفظت) في (بعث) مؤتة
غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
ترقیم عوامۃ: 38129 ترقیم الشثری: -- 39747
٣٩٧٤٧ - حدثنا ابو اسامة عن مهدي بن ميمون عن محمد بن عبد الله بن ابي يعقوب عن الحسن (١) بن سعد قال: لما جاء النبي ﷺ (٢) خبر قتل زيد وجعفر وعبد الله بن رواحة نعاهم إلى الناس وترك اسماء حتى افاضت من عبرتها، ثم اتاها (فعزاها) (٣) (وقال) (٤) :"ادعي لي بني اخي"، قال: فجاءت بثلاثة بنين كانهم (افراخ) (٥) ، (قالت) (٦) : فدعا الحلاق فحلق رؤوسهم، فقال:"اما محمد فشبيه ⦗٨٥⦘ عمنا ( (ابي) (٧) طالب) (٨) ، واما عون (الله) (٩) فشبيه خلقى وخلقى، واما عبد الله -فاخذ بيده (فشالها) (١٠) ، ثم قال-: اللهم بارك (لعبد الله) (١١) في صفقة (يمينه) (١٢) "، قال: فجعلت (امهم) (١٣) (تفرح) (١٤) لهم، فقال لها رسول الله ﷺ:"اتخشين عليهم الضيعة، وانا وليهم في الدنيا والآخرة" (١٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: زيادة (عن).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [أ، ب]: (فقرأها).
(٤) في [أ، ب]: (فقال).
(٥) في [جـ، ع]: (أفرخ)، وفي [س]: (أقزح).
(٦) في [ق، هـ]: (وقالت).
(٧) في [ع]: (أبو).
(٨) سقط من: [أ، ب].
(٩) سقط من: [ب، س].
(١٠) في [ب]: (فسألها).
(١١) سقط من: [ق، هـ].
(١٢) في [س]: (يمينية)، وفي [ب]: (المنية).
(١٣) في [ب]: (فيه).
(١٤) في [ب]: (يفرح).
(١٥) مرسل؛ الحسن بن سعد تابعي، أخرجه الطيالسي (٩٨٦)، وأبو نعيم في معرفة الصحابة (٦٥٠)، وأخرجه متصلًا من حديث عبد اللَّه بن جعفر أحمد (١٧٥٠)، وأبو داود (٤١٩٢)، والنسائي ٨/ ١٨٢، وابن سعد ٤/ ٣٦، وابن أبي عاصم في الآحاد (٤٣٤)، والطبراني (١٤٦١)، والحاكم ١/ ٣٧٢.
حضرت حسن بن سعد روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت زید، جعفر اور عبد اللہ بن رواحہ کے قتل کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو یہ وفات کی خبر سُنائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اسماء کو اس حالت میں چھوڑا تھا کہ وہ آنسو بہا رہی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دوبارہ) حضرت اسمائ کے پاس تشریف لائے اور ان سے تعزیت کی اور فرمایا: میرے پاس میرے بھتیجوں کو بلا کر لاؤ۔ راوی کہتے ہیں: پھر حضرت اسمائ … پرندوں کے بچوں کی طرح کے … تین بچے لے کر حاضر ہوئیں۔ اسماء کہتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نائی کو بلایا اور ان کے سرمنڈوائے اور فرمایا: ”محمد تو ہمارے چچا ابو طالب کے مشابہ ہے اور عون اللہ تو صورت و سیرت میں میرے مشابہ ہے۔ اور عبد اللہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اوپر اٹھایا اور دعا فرمائی۔ اے اللہ! عبد اللہ کے دائیں ہاتھ کے سودے میں برکت دے۔ راوی کہتے ہیں: ان کی ماں حضرت اسمائ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کی (لاوارثی) کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جواب دیا۔ کیا تم ان کے ضائع ہونے کا خوف کھاتی ہو؟ حالانکہ میں دنیا و آخرت میں ان کا ولی ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39747]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39747، ترقيم محمد عوامة 38129)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39747 in Urdu