🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. غزوة حنين وما جاء فيها
غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38154 ترقیم الشثری: -- 39774
٣٩٧٧٤ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن إسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة عن انس بن مالك ان هوازن (جاءت يوم حنين بالصبيان) (٢) ⦗١٠١⦘ والنساء والإبل والغنم، فجعلوها صفوفا يكثرون على رسول الله ﷺ فلما التقوا ولى المسلمون كما قال الله، فقال رسول الله ﷺ:"يا عباد الله! انا عبد الله ورسوله"، ثم قال:"يا معشر المهاجرين! انا عبد الله ورسوله"، قال: فهزم الله المشركين ولم يضرب بسيف (ولم) (٣) يطعن برمح، قال: وقال رسول الله ﷺ يومئذ:"من قتل كافرا فله سلبه"، قال: فقتل ابو طلحة يومئذ عشرين رجلا، فاخذ اسلابهم، وقال ابو قتادة: يا رسول الله إني ضربت رجلا على (حبل العاتق) (٤) وعليه درع له (فاتخفضت) (٥) عنه، وقد قال حماد: فاعجلت عنه، قال:"فانظر من اخذها؟" قال: فقام رجل فقال: انا اخذتها فارضه منها واعطنيها، وكان رسول الله ﷺ لا يسال شيئا إلا اعطاه او سكت، فسكت رسول الله ﷺ، قال: فقال عمر: لا والله لا (يفيئها) (٦) الله على اسد من اسده ويعطيكها، قال: فضحك رسول الله ﷺ، (و) (٧) قال:"صدق عمر"، ولقي ابو طلحة ام سليم ومعها خنجر فقال ابو طلحة: يا ام سليم (ما) (٨) هذا معك؟ قالت: اردت إن دنا مني بعض المشركين ان ابعج به بطنه، فقال ابو طلحة: يا رسول الله! الا تسمع ما تقول ام سليم؟ قالت: يارسول الله (قتل) (٩) (من) (١٠) بعدنا من الطلقاء، انهزموا بك يا رسول الله فقال:"إن الله قد كفى واحسن" (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع، ي]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (جاءت بالصبيان يوم حنين).
(٣) في [ع]: (فلم).
(٤) في [س]: (جبل العانق).
(٥) في [أ، جـ، ي]: (فانخفضت)، وفي [ع]: (قد انخفصت)، وفي [ب]: (فانخفنت)، وفي [ق، هـ]: (فأجهضت).
(٦) في [س]: (يغنيها).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [ب]: (جا).
(٩) في [ق]: (أقتل).
(١٠) سقط من: [ع].
(١١) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٣٩٧٥)، ومسلم (١٨٠٩).

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہوازن والے غزوہ حنین کے موقع پر (اپنے) بچوں عورتوں، اونٹوں اور بکریوں کو ساتھ لائے اور انہیں صفوں کی حالت میں جمع کردیا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے زیادہ لگیں۔ پس جب آمنا سامنا ہوا۔ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ مسلمان بھاگ نکلے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے گروہ مہاجرین! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست سے دوچار کیا۔ کوئی تلوار نہیں ماری گئی اور نہ ہی کوئی نیزہ بازی کی گئی۔ راوی کہتے ہیں: اور رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن ارشاد فرمایا: ”جو کسی کافر کو قتل کرے گا وہی اس کا سامان لے گا۔“ حضرت انس کہتے ہیں، چناچہ اس دن حضر ت ابو طلحہ نے بیس (٢٠) آدمیوں کو قتل کیا اور ان کے سامان کو لے لیا۔ حضرت ابو قتادہ کہتے ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں نے ایک آدمی کو گردن پر تلوار مار کر ہلاک کیا اس کے جسم پر زرہ تھی لیکن مجھ سے پہلے ہی کسی نے وہ زرہ اتار لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دیکھ لو کس نے وہ زرہ لی ہے۔ راوی کہتے ہیں: ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا۔ میں نے وہ زرہ لی ہے۔ آپ اس کو اس زرہ سے راضی کردیں۔ (یعنی چھوڑنے پر) اور یہ زرہ مجھے دے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب بھی کسی شئی کا سوال کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ چیز عطا فرما دیتے یا خاموش رہتے (یعنی انکار نہ کرتے)۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یہ بات سن کر) خاموش ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر کہنے لگے۔ نہیں خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ اپنے شیروں میں سے ایک شیر پر سے یہ غنیمت نہیں ہٹائیں گے اور نہ یہ تجھے دیں گے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عمر نے سچ کہا ہے۔“ حضرت ابو طلحہ کی ام سلیم سے ملاقات ہوئی۔ حضرت ام سلیم کے پاس چھُرا تھا۔ حضرت ابو طلحہ نے پوچھا۔ اے اُم سلیم! یہ آپ کے پاس کیا ہے؟ وہ فرمانے لگیں۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ اگر مشرکنا میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس چھرے کے ذریعہ سے پیٹ پھاڑ کر اس کی آنتیں باہرنکال دوں گی۔ حضرت ابو طلحہ نے (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اُم سلیم جو کچھ کہہ رہی ہیں۔ آپ نے نہیں سُنا۔ حضرت ام سلیم کہنے لگیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہمارے بعد طلقاء میں سے جو لوگ ہیں ان کو خوب قتل کریں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ لوگ آپ کے ذریعہ (خوب) شکست کھاچکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا: ”یقینا اللہ کافی ہے اور خوب ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39774]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39774، ترقيم محمد عوامة 38154)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39774 in Urdu