مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
39. ما (حفظ) أبو بكر في غزوة تبوك
غزوہ تبوک کے بارے میں احادیث
ترقیم عوامۃ: 38161 ترقیم الشثری: -- 39781
٣٩٧٨١ - حدثنا عفان (حدثنا) (١) وهيب (حدثنا) (٢) عمرو بن يحيى عن العباس ابن سهل بن سعد الساعدي عن ابي حميد الساعدي قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه اوسلم عام تبوك حتى (جئنا) (٣) وادي القرى، وإذا امراة في حديقة لها، (فقال) (٤) رسول الله ﷺ (٥) :"اخرصوا"، (قال) (٦) : (فخرص) (٧) القوم، (وخرص) (٨) رسول الله ﷺ عشرة اوسق، وقال للمراة:"احصي ما يخرج منها حتى ارجع إليك إن شاء الله". (قال) (٩) : فخرج رسول الله ﷺ حتى قدم تبوك، فقال:"إنها ستهب عليكم الليلة ريح شديدة، فلا يقومن (رجل فيها) (١٠) ، فمن كان له بعير فليوثق عقاله"، قال: قال ابو حميد: فعقلناها، فلما كان من الليل هبت ريح شديدة، فقام ⦗١١١⦘ فيها رجل فالقته في (جبلي) (١١) طيء. ثم جاء رسول الله ﷺ إلى ملك ايلة، فاهدى إلى رسول الله ﷺ بغلة بيضاء، فكساه رسول الله ﷺ بردا، (وكتب) (١٢) له رسول الله ﷺ (١٣) ببحرهم، قال: ثم اقبل واقبلنا معه حتى جئنا وادي القرى، فقال (للمراة) (١٤) :"كم حديقتك؟" قالت: عشرة اوسق، خرص رسول الله ﷺ. (قال) (١٥) (رسول الله) (١٦) ﷺ (١٧) :"إني متعجل فمن احب منكم ان يتعجل فليفعل"، قال: فخرج رسول الله ﷺ وخرجنا معه، حتى إذا (اوفى) (١٨) على المدينة قال:"هذه طابة"، فلما راى احدا قال:"هذا جبل يحبنا ونحبه" (١٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) في [س]: (جاء)، وفي [ط]: (أتى).
(٤) في [ب، جـ، ع، ي]: (قال).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
(٦) سقط من: [ع].
(٧) في [أ]: (فحرض).
(٨) في [أ، ب]: (وحرض).
(٩) سقط من: [س].
(١٠) في [جـ، ع، ي]: (فيها رجل).
(١١) في [ق، هـ]: (جبل).
(١٢) في [ع]: (فكتب).
(١٣) سقط من: [ع].
(١٤) سقط من: [ع].
(١٥) في [ع]: (فقال).
(١٦) في [أ، ب]: (يا رسول اللَّه).
(١٧) سقط من: [ع].
(١٨) في [ع]: (وافا).
(١٩) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٤٨١)، ومسلم (١٣٩٢).
حضرت ابو حمید ساعدی سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تبوک کے سال (غزوہ کے لئے) نکلے یہاں تک کہ جب ہم وادی قُریٰ میں پہنچے تو ایک عورت (کو ہم نے دیکھاجو) اپنے باغ میں کھڑی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا: ”(کھجوروں کا) اندازہ لگاؤ۔“ راوی کہتے ہیں۔ لوگوں نے (کھجوروں کا) اندازہ لگایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی کھجوروں کا اندازہ لگایا اور دس وسق کا اندازہ ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت سے فرمایا: ”ان کھجوروں سے جتنی (زکوۃ) نکلتی ہے اس کا حساب کرلینا۔ میں ان شاء اللہ تمہارے پاس واپس آؤں گا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (وہاں سے) نکلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک میں تشریف فرما ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ”آج کی رات تم پر شدید ہوا چلے گی۔ پس کوئی آدمی اس ہوا میں کھڑا نہ ہو۔ اور جس آدمی کے پاس اونٹ ہو وہ اس اونٹ کی رسی باندھ دے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ابوحمید بیان کرتے ہں ز۔ ہم نے اونٹوں کو باندھ لیا۔ پس جب رات ہوئی تو خوب تیز ہوا چلی۔ اور اس ہوا میں ایک آدمی کھڑا ہوا تو ہوا نے اس کو طَیْ کے دو پہاڑوں میں دے مارا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شاہ ایلہ حاضر ہوا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک سفید خچر ہدیہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ایک چادر عطا فرمائی اور اس کو ان کے سمندر کے بارے میں تحریر لکھ دی۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ آگے بڑھے یہاں تک کہ ہم وادی قُریٰ میں پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے پوچھا۔ تمہارے باغ (کی زکوۃ کتنی) ہے؟ عورت نے جواب دیا۔ آپ کے اندازہ کے مطابق دس وسق ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو جلدی چلوں گا۔ تم میں سے جو آدمی جلدی چلنا چاہے وہ بھی (میرے ساتھ) چلے“ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نکلے یہاں تک کہ جب ہم مدینہ کے سامنے پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پاکیزہ جگہ ہے“ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احدپہاڑ کو دیکھا تو فرمایا ”یہ ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39781]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39781، ترقيم محمد عوامة 38161)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39781 in Urdu