مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
42. ما جاء في (وفاة) النبي ﷺ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
ترقیم عوامۃ: 38176 ترقیم الشثری: -- 39798
٣٩٧٩٨ - حدثنا ابن فضيل عن ابيه عن نافع عن ابن عمر قال: لما قبض رسول الله ﷺ كان ابو بكر في ناحية المدينة، فجاء فدخل على رسول الله ﷺ وهو مسجى، فوضع فاه على جبين رسول الله ﷺ فجعل يقبله ويبكي ويقول: بابي (١) وامي (طبت) (٢) حيا و (طبت) (٣) ميتا، فلما خرج مر بعمر بن الخطاب وهو يقول: ما مات رسول الله ﷺ (٤) ولا يموت حتى (يقتل) (٥) الله المنافقين، (وحتى يخزي الله المنافقين) (٦) ، قال: وكانوا قد استبشروا بموت رسول الله ﷺ، فرفعوا رؤوسهم، ⦗١٢٧⦘ فقال: ايها الرجل اربع على نفسك، فإن رسول الله ﷺ (٧) قد مات، الم تسمع الله يقول: ﴿إنك ميت وإنهم ميتون﴾ [الزمر: ٣٠] وقال (٨) : ﴿ (وما) (٩) جعلنا لبشر من قبلك الخلد افإن مت فهم الخالدون﴾ [الانبياء: ٣٤] ، قال: ثم اتى المنبر فصعده فحمد الله واثنى عليه ثم قال: ايها الناس، إن كان (محمد) (١٠) (١١) إلهكم الذي تعبدون فإن (إلهكم) (١٢) (١٣) قد مات، وإن كان إلهكم الذي في السماء فإن إلهكم لم يمت، ثم تلا: ﴿وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله (الرسل) (١٤) افإن مات او قتل انقلبتم على اعقابكم﴾ [آل عمران: ١٤٤] حتى ختم الآية، ثم نزل (وقد استبشر المسلمون بذلك) (١٥) واشتد فرحهم، (واخذت) (١٦) (المنافقين) (١٧) الكآبة قال عبد الله بن (عمر) (١٨) : فو الذي نفسي بيده لكانما كانت على وجوهنا اغطية فكشفت (١٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: زيادة (أنت).
(٢) في [ع]: (طيب).
(٣) في [ع]: (طيب).
(٤) سقط من: [ع].
(٥) في [س]: (يقبل).
(٦) سقط من: [ق، هـ].
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [س]: زيادة (تعالى).
(٩) سقط من: [س].
(١٠) في [أ، ب]: (محمدًا).
(١١) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(١٢) سقط من: [س].
(١٣) في [هـ]: في [جـ، س، ع، ي]: زيادة (محمدًا).
(١٤) في [هـ]: (الرجل).
(١٥) في [جـ]: تكررت.
(١٦) في [ع]: (وأخذ).
(١٧) في [ع]: (المنافقون).
(١٨) في [أ]: (عمره).
(١٩) صحيح؛ أخرجه البزار (١٠٣)، والبخاري في التاريخ ١/ ٢٠١، والذهبي في العلو (١٦٦).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مبارک قبض ہوئی تو (اس وقت) حضرت ابوبکر، مدینہ کے گوشہ میں تھے پھر آپ تشریف لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھکا ہوا تھا۔ اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر اپنا منہ رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دے کر رونا شروع کردیا اور کہنے لگے۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ زندگی میں بھی خوشبودار تھے اور مر کر بھی خوشبودار ہیں۔ پھر جب حضرت ابوبکر (وہاں سے) نکلے تو ان کا گزر عمر بن خطاب سے ہوا۔ وہ کہہ رہے تھے۔ اللہ کے رسول کو موت نہیں آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موت نہیں آئے گی حتی کہ اللہ تعالیٰ منافقوں کو موت دے دے اور یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ منافقوں کو رسوا کر دے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت کی وجہ سے (منافقین نے) خوشی محسوس کی تھی چناچہ انہوں نے اپنے سر اٹھا لئے تھے۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ اے آدمی! ٹھہرو (ذرا چپ کرو) کیونکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں۔ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سُنا۔ {إِنَّک مَیِّتٌ، وَإِنَّہُمْ مَیِّتُونَ } اور ارشاد خداوندی ہے۔ { وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ، أَفَإِنْ مِتَّ فَہُمُ الْخَالِدُونَ }۔ پھر حضرت ابوبکر منبر کے پاس آئے اور اس پر چڑھ گئے۔ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا اے لوگو! اگر تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے الہٰ تھے جس کی تم عبادت کرتے تھے تو یقین جانو کہ تمہارے الہٰ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں۔ اور اگر تمہارا الہٰ وہ ذات ہے جو آسمانوں میں ہے تو پھر یقین کرو کہ تمہارا الہٰ نہیں مرا۔ پھر حضرت ابوبکر نے یہ آیت تلاوت کی۔ { وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ، أَفَإِنْ مَاتَ، أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ }۔ یہاں تک کہ آپ نے یہ آیت مکمل فرما دی۔ پھر آپ نیچے تشریف لے آئے اور (اب) ان باتوں سے مسلمانوں نے خوشی محسوس کی اور یہ خوب خوش ہوئے اور منافقین کو مصیبت پڑگئی۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ یوں لگتا تھا جیسا کہ ہمارے چہروں پر پردے تھے جو ہٹا دیئے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39798]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39798، ترقيم محمد عوامة 38176)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39798 in Urdu