مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
43. ما جاء في خلافة أبي بكر (وسيرته) في الردة
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
ترقیم عوامۃ: 38198 ترقیم الشثری: -- 39825
٣٩٨٢٥ - حدثنا عبد (الاعلى) (١) عن ابن إسحاق عن (عبد الله) (٢) بن ابي بكر ⦗١٣٩⦘ عن (الزهري) (٣) عن عبيد الله بن عبد الله (بن عتبة) (٤) عن ابن عباس قال: كنت (اختلف إلى عبد الرحمن) (٥) بن عوف (ونحن بمنى) (٦) مع عمر (بن الخطاب) (٧) ، اعلم عبد الرحمن بن عوف القرآن، فاتيته في المنزل فلم اجده فقيل: هو عند امير المؤمنين، فانتظرته حتى جاء فقال لي: قد (غضب) (٨) هذا اليوم غضبا (٩) ما رايته (غضب) (١٠) مثله منذ كان، قال: قلت: لم ذاك؟ قال: بلغه ان رجلين من الانصار ذكرا بيعة ابي بكر فقالا: والله ما كانت إلا فلتة، فما يمنع امرءا إن هلك هذا ان يقوم إلى من (يحب) (١١) فيضرب على يده فتكون كما كانت. قال: فهم عمر ان يكلم الناس، قال: فقلت: لا تفعل يا امير المؤمنين، فإنك ببلد قد اجتمعت إليه (افناء) (١٢) العرب كلها، وإنك إن قلت مقالة حملت عنك وانتشرت في الارض كلها، فلم تدر ما يكون في ذلك، وإنما يعينك من قد عرفت انه سيصير إلى المدينة. فلما قدمنا المدينة رحت (مهجرا) (١٣) حتى اخذت (عضادة) (١٤) المنبر اليمنى، ⦗١٤٠⦘ وراح إلي سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل حتى جلس معي، (فقلت) (١٥) : ليقولن هذا اليوم مقالة (ما قالها) (١٦) منذ استخلف، قال: وما عسى ان يقول؟ قلت: ستسمع (ذاك) (١٧) . قال: فلما اجتمع الناس خرج عمر حتى جلس على المنبر ثم حمد الله واثنى عليه ثم ذكر رسول الله ﷺ فصلى عليه ثم قال: إن الله ابقى رسوله بين اظهرنا ينزل عليه الوحي من الله يحل به ويحرم، ثم قبض الله رسوله فرفع (معه) (١٨) ما شاء ان يرفع، وابقى منه ما شاء ان يبقى، فتشبثنا ببعض، وفاتنا بعض. فكان مما كنا نقرا (في) (١٩) القرآن: ﴿لا ترغبوا عن آبائكم، فإنه كفر بكم ان ترغبوا عن آبائكم﴾ ونزلت آية الرجم، فرجم النبي ﷺ ورجمنا معه، والذي نفس محمد بيده لقد حفظتها (وعلمتها) (٢٠) وعقلتها لولا ان يقال: كتب عمر في المصحف ما ليس فيه، لكتبتها بيدي كتابا، والرجم على ثلاثة منازل: حمل بين، او اعتراف (من) (٢١) صاحبه، او شهود عدل، كما امر الله. وقد بلغني ان رجالا يقولون في خلافة ابي بكر: إنها كانت فلتة ولعمري إن كانت كذلك، ولكن الله اعطى خيرها (ووقى) (٢٢) شرها؛ (وايكم) (٢٣) هذا الذي تنقطع إليه الاعناق كانقطاعها إلى ابي بكر. ⦗١٤١⦘ إنه كان من شان الناس ان رسول الله ﷺ توفي فاتينا فقيل لنا: إن الانصار قد اجتمعت في بني ساعدة مع سعد بن عبادة يبايعونه، فقمت وقام ابو بكر وابو عبيدة ابن الجراح نحوهم فزعين ان يحدثوا في الإسلام (فتقا) (٢٤) ، فلقينا رجلان من الانصار، (رجلا) (٢٥) صدق: عويم بن ساعدة ومعن بن عدي، فقالا: اين تريدون؟ فقلنا: قومكم لما بلغنا من امرهم، (فقالا) (٢٦) : ارجعوا فإنكم لن تخالفوا، ولن يؤت شيء تكرهونه، فابينا إلا ان نمضي، وانا (ازوي) (٢٧) كلاما اريد ان اتكلم به. حتى انتهينا إلى القوم وإذا هم (عكر) (٢٨) هناك على سعد بن عبادة، وهو على سرير له مريض، فلما غشيناهم تكلموا فقالوا: يا معشر قريش! منا امير ومنكم امير، فقام (الحباب) (٢٩) بن المنذر فقال: انا (جذيلها) (٣٠) المحكك وعذيقها (المرجب) (٣١) ، إن شئتم والله رددناها جذعة. فقال ابو بكر: على رسلكم، فذهبت لاتكلم فقال: (انصت) (٣٢) يا عمر، فحمد الله واثنى عليه ثم قال: يا معشر الانصار إنا والله ما ننكر فضلكم ولا بلاءكم في الإسلام ولا حقكم الواجب علينا، (ولكنكم) (٣٣) قد عرفتم ان هذا الحي من قريش بمنزلة من العرب ليس بها غيرهم، وإن العرب لن تجتمع إلا على رجل منهم، ⦗١٤٢⦘ فنحن الامراء وانتم الوزراء، فاتقوا الله ولا تصدعوا الإسلام، ولا تكونوا اول من احدث في الإسلام، الا وقد رضيت لكم احد هذين الرجلين لي ولابي عبيدة بن الجراح، فايهما بايعتم فهو لكم ثقة. قال: فو الله ما بقي شيء كنت احب ان اقوله إلا وقد قاله يومئذ غير هذه الكلمة، فوالله لان اقتل ثم احيا (ثم اقتل ثم احيا) (٣٤) في غير معصية احب إلي من ان اكون اميرا على قوم فيهم ابو بكر. قال: ثم قلت: يا معشر الانصار! يا معشر المسلمين! إن اولى الناس بامر رسول الله ﷺ-من بعده ثاني اثنين إذ هما في الغار، ابو بكر السباق (المتين) (٣٥) ، ثم اخذت بيده وبادرني (رجل من الانصار) (٣٦) فضرب على (يده) (٣٧) قبل ان اضرب على يده، (ثم ضربت) (٣٨) على يده، [ (وتتابع) (٣٩) الناس. وميل على سعد بن عبادة فقال: الناس] (٤٠) قتل سعد، فقلت: (اقتلوه) (٤١) قتله الله، ثم انصرفنا وقد جمع الله امر المسلمين بابي بكر، (فكانت) (٤٢) (لعمر) (٤٣) الله (فلتة) (٤٤) كما (قلتم) (٤٥) اعطى الله خيرها ووقى شرها، فمن دعا إلى مثلها فهو ⦗١٤٣⦘ (الذي) (٤٦) لا بيعة له ولا لمن بايعه (٤٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (الأعلا).
(٢) في [أ، ب، س، ق، هـ]: (عبيد اللَّه).
(٣) في [ب]: بياض.
(٤) في [ب]: بياض.
(٥) في [ب]: بياض.
(٦) في [ب]: بياض.
(٧) في [ب]: بياض.
(٨) في [أ، ب]: (غضبت).
(٩) في [أ، ب]: زيادة (شديدًا).
(١٠) في [ع]: (غضبت).
(١١) في [س]: (يحبب).
(١٢) في [ع]: (أقياء).
(١٣) في [ع]: (سحرًا).
(١٤) في [أ، ب]: (عصارة)، وفي [جـ]: (عضارة)، وفي [ع]: (عضاءتي).
(١٥) في [أ، ب]: (فقالت).
(١٦) سقط من: [ع].
(١٧) في [ق، هـ]: (ذلك).
(١٨) في [هـ]: (منه).
(١٩) في [ق، هـ]: (من).
(٢٠) في [س، ع]: (ففعلتها).
(٢١) هكذا في: [ق، هـ]، وفي باقي النسخ: (عن).
(٢٢) في [ب]: (وقى).
(٢٣) في [هـ]: (إياكم).
(٢٤) سقط من: [ع].
(٢٥) في [هـ]: (رجل).
(٢٦) في [أ، ب، جـ ع، ي]: (فقال)، وفي [س]: (قال).
(٢٧) في [أ، ب، س، ط]: (أروي).
(٢٨) أي: مجتمعون، وفي [ق، هـ]: (عكوف).
(٢٩) في [أ، ب]: (الخباب).
(٣٠) في [ع]: (جديعها).
(٣١) في [أ، ب]: (الوجب)، وفي [ع]: (المرحب).
(٣٢) في [س]: (ألفت).
(٣٣) في [س]: (للكنم).
(٣٤) سقط من: [ب].
(٣٥) في [أ، ب، س، ط]: (المبين)، وسقط من: [ي].
(٣٦) في [ي]: بياض.
(٣٧) في [أ، ب]: (يديه).
(٣٨) في [ع]: (فضربت).
(٣٩) في [ب، ع]: (وتبايع).
(٤٠) في [ي]: ما بين المعكوفين بياض.
(٤١) في [جـ]: (اقتلوا).
(٤٢) في [أ، ب]: (وكانت).
(٤٣) في [ع]: (لعمرو).
(٤٤) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٤٥) في [هـ]: (قتلتم).
(٤٦) في [أ، هـ]: (للذي).
(٤٧) حسن؛ ابن إسحاق صدوق، أخرجه البخاري (٦٨٣٠)، ومسلم (١٦٩١).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں عبد الرحمان بن عوف کے پاس آتا جاتا رہتا تھا اور (اس وقت) ہم حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ مقام منیٰ میں تھے۔ میں عبد الرحمان بن عوف کو قرآن پڑھا تا تھا پس میں ان کے پاس منزل میں آیا تو میں نے انہیں نہیں پایا۔ کہا گیا کہ وہ امیر المؤمنین کے پاس ہیں۔ چناچہ میں ان کا انتظار کرنے لگا یہاں تک کہ وہ آگئے اور انہوں نے بتایا۔ آج حضرت عمر کو اتنا شدید غصہ آیا تھا کہ اس سے پہلے کبھی ان کو اتنا غصہ نہیں آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے پوچھا: یہ کیوں؟ عبد الرحمن بن عوف نے جوا ب دیا۔ حضرت عمر کو یہ بات پہنچی کہ انصار میں سے دو آدمیوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت کا ذکر کیا تو پھر ان دونوں نے کہا۔ بخدا! ان کی بیعت تو اچانک ہوگئی تھی۔ وہ اس کے ہاتھ پر مارتا پھر جو ہوتا سو ہوتا۔ راوی کہتے ہیں: پھر حضرت عمر نے لوگوں سے گفتگو کرنے کا ارادہ کیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا۔ اے امیر المؤمنین! آپ (ابھی) گفتگو نہ کریں کیونکہ آپ (اس وقت) ایسے شہر میں ہیں کہ آپ کے پاس تمام عرب کے دور دراز غیر معروف علاقوں کے لوگ جمع ہیں۔ اور آپ اگر (اب) کوئی بھی بات کریں گے تو وہ آپ سے منسوب ہو کر تمام زمین میں پھیل جائے گی۔ پھر آپ کو نہیں معلوم کہ کیا ہوگا۔ آپ کے مطلب کے لوگ تو وہی ہیں جن کو آپ جانتے ہیں کہ وہ مدینہ واپس جائیں گے۔ ٢۔ پھر جب ہم مدینہ میں آئے تو میں سویرے سویرے چلا گیا یہاں تک کہ میں نے منبر کے دائیں پائے (کے ساتھ جگہ) پکڑ لی۔ پھر حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل بھی میری طرف آئے یہاں تک کہ وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ گئے۔ میں نے (ان سے) کہا۔ آج کے دن حضرت عمر ایسی گفتگو کریں گے کہ ویسی گفتگو انہوں نے خلیفہ بننے کے بعد سے کبھی نہیں کی۔ سعید نے پوچھا۔ وہ کیسی بات کریں گے؟ میں نے جواب دیا، ابھی تم وہ بات سُن لو گے۔ ٍ ٣۔ راوی کہتے ہیں: پھر جب لوگ جمع ہوگئے تو حضرت عمر باہر تشریف لائے یہاں تک کہ آپ منبر پر بیٹھ گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی پھر آپ نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھا۔ پھر آپ نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہمارے درمیان باقی رکھا ان پر اللہ کی جانب سے وحی نازل ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ذریعہ حلال و حرام بیان کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو (کی روح کو) قبض کرلیا پس جو کچھ ان کے ہمراہ اللہ نے اٹھانا چاہا وہ اٹھا لیا۔ اور جس کو اللہ نے باقی رکھنا چاہا تھا اس کو باقی رکھا۔ چناچہ بعض باتوں کے ساتھ تو ہم وابستہ رہے اور بعض باتیں ہم سے فوت ہوگئیں۔ پس ہم قرآن میں سے جو کچھ پڑھتے تھے اس میں یہ بھی تھا۔ ولا ترغبوا عن آباء کم فانہ کفر بکم ان ترغبوا عن آباء کم۔ اور رجم کی آیت بھی نازل ہوئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجم بھی کیا تھا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ رجم کیا تھا۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے! بلاشبہ میں نے (خود) اس آیت کو یا د کیا تھا اور اس کو سمجھا تھا اور معلوم کیا تھا۔ اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ کہا جائے گا۔ عمر نے قرآن میں اس بات کو لکھا جو اس میں سے نہیں ہے تو البتہ میں اس آیت رجم کو اپنے ہاتھوں سے لکھتا۔ رجم کی تین حالات ہیں۔ واضح حمل ہو۔ یا زانی کی طرف سے اقرار ہو یا عادل گواہ ہوں۔ جیسا کہ حکم خداوندی ہے۔ ٤۔ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ کچھ لوگوں نے حضرت ابوبکر کی خلافت کے بارے میں یہ بات کہی ہے کہ یہ تو اچانک ہوگئی تھی۔ میری عمر کی قسم! اگر چہ بات ایسی ہی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی خلافت کی خیر و برکت عطا فرمائی اور اس کے شر سے محفوظ فرما لیا۔ تم میں سے کون سا آدمی ہے جس کے لئے (لوگوں کی) گردنیں یوں خم ہوجائیں جیسا کہ حضرت ابوبکر کے لئے خم ہوگئیں تھیں۔ ٥۔ یقینا لوگوں کا معاملہ کچھ ایسا تھا کہ (جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تو ہمارے پاس معاملہ لایا گیا اور ہمیں کہا گیا۔ انصار، سعد بن عبادہ کے پاس بنو ساعدہ میں جمع ہیں اور سعد کی بیعت کر رہے ہیں۔ چناچہ میں، حضرت ابوبکر، حضرت ابو عبیدہ بن جرا ح ان کی طرف پریشانی کے عالم میں اٹھ کھڑے ہوئے کہ (مبادا) وہ اسلام میں کوئی دراڑ پیدا کردیں۔ پس ہمیں انصار ہی میں سے دو سچے آدمی ملے۔ عویم بن ساعدہ اور معن بن عدی۔ انہوں نے پوچھا: تم کہاں جا رہے ہو؟ ہم نے کہا: تمہاری قوم کے پاس، کیونکہ ہمیں ان کے بارے میں کوئی بات پہنچی ہے۔ ان دونوں نے کہا۔ واپس چلے جاؤ کیونکہ تمہاری مخالفت نہیں کی جائے گی اور ایسی چیز نہیں لائی جائے گی جس کو تم ناپسند کرو۔ لیکن ہم نے آگے جانے پر ہی اصرار کیا۔ اور میں (عمر) وہ کلام تیار کر رہا تھا جس کے ب [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39825]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39825، ترقيم محمد عوامة 38198)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39825 in Urdu