مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
43. ما جاء في خلافة أبي بكر (وسيرته) في الردة
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
ترقیم عوامۃ: 38209 ترقیم الشثری: -- 39837
٣٩٨٣٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان (بن) (١) حسين عن الزهري عن (عبيد الله بن عبد الله) (٢) بن عتبة قال: لما ارتد (من ارتد) (٣) على عهد ابي بكر (اراد) (٤) ابو بكر ان يجاهدهم، فقال عمر (له) (٥) : (اتقاتلهم) (٦) وقد سمعت رسول الله ﷺ يقول:"من شهد ان لا إله إلا الله وان محمدا رسول الله حرم ماله ودمه إلا بحقه وحسابه على الله) ، فقال (له) (٧) ابو بكر: انا لا اقاتل من فرق بين الصلاة والزكاة؟ والله لاقاتلن من فرق بينهما حتى اجمعهما، قال عمر: فقاتلنا معه، فكان والله رشدا، فلما ظفر بمن ظفر (به) (٨) منهم (قال) (٩) : اختاروا بين خطتين: إما حرب مجلية؛ وإما الخطة المخزية، قالوا: هذه الحرب المجلية قد عرفناها، فما الخطة المخزية؟ قال: تشهدون على قتلانا انهم في الجنة وعلى قتلاكم انهم في ⦗١٥٠⦘ النار ففعلوا (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عن).
(٢) في [جـ]: (عبد اللَّه بن عبد اللَّه).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب]: (وأراد).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [ع]: (أتقاتلوهم).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [جـ]: تكرر.
(٩) في [ي]: (قالوا)، وسقط من: [س].
(١٠) مرسل ضعيف؛ عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة تابعي، ورواية سفيان عن حسين عن الزهري ضعيفة، وقد ورد الحديث بنحوه من طريق عبيد اللَّه عن أبي هريرة، أخرجه البخاري (١٣٩٩)، ومسلم (٢٠).
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر کے زمانہ میں مرتد ہونے والے لوگ مرتد ہوئے تو حضرت ابوبکر نے ان سے قتال کرنے کا ارادہ فرمایا۔ حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ کیا آپ ان سے قتال کریں گے حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے ہوئے سُنا ہے کہ: ”جو شخص گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں تو اس کا مال اور اس کا خون حرمت حاصل کرلیتا ہے مگر حق کے بدلے میں (حرمت ختم ہوسکتی ہے) اور اس کا (باطنی) حساب اللہ کے ذمہ ہے“؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا۔ میں کیسے اس آدمی سے قتال نہ کروں جو نماز اور زکوۃ میں فرق کرتا ہے؟ خدا کی قسم! میں تو ضرور بالضرور اس آدمی سے قتال کروں گا جو ان دونوں میں فرق کرے گا یہاں تک کہ وہ ان دونوں کو جمع کرلے۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ پھر ہم نے حضرت ابوبکر کے ہمراہ قتال کیا۔ پس خدا کی قسم! حضرت ابوبکر راہ حق پر سختی سے قائم رہنے والے تھے۔ پھر جب حضرت ابوبکر نے مرتدین میں سے کچھ لوگوں کو قابو کرلیا تو آپ نے فرمایا: تم دو لائحہ عمل میں سے کسی کو اختیار کرلو۔ یا تو ننگی جنگ ہے۔ اور یا رسوا کن لائحہ عمل ہے۔ انہوں نے کہا۔ یہ ننگی جنگ تم ہم جانتے ہیں لیکن رسواکن لائحہ عمل کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم ہمارے مقتولین کے بارے میں یہ گواہی دو کہ وہ جنت میں ہیں اور اپنے مقتولین کے بارے میں گواہی دو کہ وہ جہنم میں ہیں۔ چناچہ انہوں نے یہی کام کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39837]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39837، ترقيم محمد عوامة 38209)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39837 in Urdu