مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
44. ما جاء في خلافة عمر بن الخطاب ﵁
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
ترقیم عوامۃ: 38214 ترقیم الشثری: -- 39842
٣٩٨٤٢ - حدثنا ابن فضيل عن (حصين) (١) عن عمرو بن ميمون قال: جئت وإذا عمر واقف على حذيفة (٢) وعثمان بن حنيف، فقال: تخافان ان تكونا حملتما الارض ما لا تطيق، فقال حذيفة: لو شئت لاضعفت ارضي، وقال عثمان: لقد حملت ارضي امرا هي له مطيقة، وما فيها (كثير) (٣) فضل، فقال: انظرا ما لديكما ان تكونا حملتما الارض ما لا تطيق، ثم قال: والله لئن سلمني الله لادعن ارامل (اهل) (٤) العراق لا يحتجن بعدي إلى اح ابدا، قال: فما اتت عليه إلا اربعة حتى اصيب. (قال) (٥) : وكان إذا دخل المسجد قام بين الصفوف (فقال) (٦) : استووا، فإذا استووا تقدم فكبر، قال: فلما كبر طعن مكانه، قال: فسمعته يقول: قتلني الكلب -او (اكلني) (٧) الكلب، قال عمرو: (ما) (٨) ادري ايهما قال: قال: وما بيني وبينه ⦗١٥٤⦘ (غير) (٩) ابن عباس، فاخذ عمر بيد عبد الرحمن (بن عوف) (١٠) فقدمه (وطار) (١١) (العلج) (١٢) وبيده سكين ذات طرفين، ما يمر (برجل) (١٣) يمينا ولا شمالا إلا طعنه حتى اصاب منهم ثلائة عشر رجلا، فمات منهم تسعة، قال: فلما راى ذلك رجل من المسلمين طرح عليه برنسا لياخذه، فلما ظن انه ماخوذ (١٤) نحر نفسه، قال: فصلينا الفجر صلاة خفيفة، قال: فاما نواحي المسجد فلا يدرون ما الامر، إلا انهم حيث فقدوا صوت عمر جعلوا يقولون: سبحان الله -مرتين. فلما انصرفوا كان اول من دخل عليه ابن عباس فقال: انظر من قتلني؟ (قال) (١٥) : (فجال) (١٦) ساعة ثم جاء فقال: غلام المغيرة الصناع، وكان نجارا، (قال) (١٧) : فقال عمر: الحمد لله الذي لم يجعل منيتي بيد رجل يدعي الإسلام، قاتله الله، لقد امرت به معروفا، قال: ثم قال لابن عباس: لقد كنت انت وابوك تحبان ان (تكثر) (١٨) العلوج بالمدينة، قال: فقال (ابن عباس) (١٩) : إن شئت فعلنا، فقال: بعد ما تكلموا بكلامكم، وصلوا (صلاتكم) (٢٠) ، ونسكوا (نسككم) (٢١) ، ⦗١٥٥⦘ قال: فقال (له) (٢٢) الناس: ليس عليك باس. قال: فدعا بنبيذ فشرب فخرج من جرحه، (ثم دعا) (٢٣) (بلبن) (٢٤) فشربه فخرج من جرحه، فظن انه الموت فقال لعبد الله بن عمر: (انظر ما علي من الدين) (٢٥) (فاحسبه) (٢٦) فقال: (ستة) (٢٧) وثمانين (الفا) (٢٨) ، فقال: إن (وفى بها) (٢٩) مال (آل) (٣٠) عمر فادها عني من اموالهم، وإلا فسل بني عدي بن كعب، فإن (تف) (٣١) من اموالهم وإلا فسل قريشا، ولا تعدهم إلى غيرهم، (فادها) (٣٢) عني. ٠٥ اذهب إلى عائشة ام المؤمنين فسلم وقل: يستاذن عمر بن الخطاب -ولا (تقل) (٣٣) : امير المؤمنين، فإني لست لهم اليوم بامير- ان يدفن مع صاحبيه. قال: فاتاها عبد الله بن عمر فوجدها قاعدة تبكي، فسلم ثم قال: يستاذن عمر بن الخطاب ان يدفن مع صاحبيه، قالت: قد -والله- كنت اريده لنفسي، ولاوثرنه اليوم على نفسي. فلما جاء قيل: هذا عبد الله بن عمر، قال: فقال: ارفعاني، فاسنده رجل إليه فقال: ما لديك؟ قال: اذنت لك، قال: فقال عمر: ما كان شيء اهم عندي من ⦗١٥٦⦘ ذلك، ثم قال: إذا انا مت فاحملوني على سريري (٣٤) ، ثم استاذن فقل: يستاذن عمر ابن الخطاب، فإن اذنت لك فادخلني، وإن لم تاذن فردني إلى مقابر المسلمين. قال: فلما حمل (كان) (٣٥) الناس لم تصبهم مصيبة إلا يومئذ، قال: فسلم عبد الله بن عمر (وقال) (٣٦) : (يستاذن) (٣٧) عمر بن الخطاب، فاذنت له حيث اكرمه الله مع (رسول) (٣٨) الله ﷺ (٣٩) ومع ابي بكر. فقالوا له حين حضره الموت: استخلف، فقال: لا اجد احدا احق بهذا الامر من هؤلاء النفر الذين توفي رسول الله ﷺ وهو عنهم راض، (فايهم) (٤٠) استخلفوا فهو الخليفة بعدي، فسمى عليا وعثمان وطلحة والزبير وعبد الرحمن بن عوف وسعدا، فإن اصابت سعدا فذلك، وإلا فايهم استخلف فليستعن به، فإني لم انزعه عن عجز ولا خيانة، قال: وجعل عبد الله (بن عمر) (٤١) (يشاور معهم) (٤٢) وليس له له من الامر شيء. قال: فلما اجتمعوا قال عبد الرحمن بن عوف: اجعلوا امركم إلى ثلاثة نفر، قال: فجعل الزبير امره إلى علي، وجعل طلحة امره إلى عثمان، وجعل سعد امره إلى عبد الرحمن، قال: فاتمروا اولئك الثلاثة حين جعل الامر (إليهم) (٤٣) ، ⦗١٥٧⦘ قال: فقال عبد الرحمن: ايكم (يتبرا) (٤٤) من الامر؟ ويجعل الامر إلي، ولكم الله علي ان لا آلو عن افضلكم (وخيركم) (٤٥) للمسلمين (٤٦) ، (قالوا: نعم) (٤٧) . فخلا لجي فقال: إن لك من القرابة من رسول الله ﷺ (٤٨) والقدم، ولي الله عليك لئن استخلفت لتعدلن، ولئن استخلف عثمان لتسمعن ولتطيعن، قال: فقال: نعم، قال: وخلا بعثمان فقال مثل ذلك، فقال له عثمان: نعم، ثم قال: يا عثمان ابسط يدك، فبسط يده فبايعه وبايعه علي والناس. ثم قال عمر: اوصي الخليفة من بعدي بتقوى الله والمهاجرين الاولين ان يعرف (لهم) (٤٩) حقهم، ويعرف (لهم) (٥٠) حرمتهم، واوصيه باهل الامصار (خيرا) (٥١) فإنهم ردء الإسلام وغيظ العدو وجباة الاموال: ان لا يؤخذ منهم فيئهم إلا عن رضا منهم، واوصيه بالانصار خيرا: الذين تبوؤا الدار والإيمان ان يقبل من محسنهم (٥٢) ، واوصيه بالاعراب خيرا فإنهم اصل العرب ومادة الإسلام، ان يؤخذ من حواشي اموالهم فترد على فقرائهم، واوصيه بذمة الله وذمة رسوله ان يوفى لهم بعهدهم وان لا يكلفوا إلا طاقتهم (٥٣) (٥٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (حسين).
(٢) في [أ، ب]: زيادة (إذا).
(٣) في [أ، ب]: (كبير).
(٤) سقط من: [ي].
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [ع]: (قال).
(٧) في [ع]: (كلمني).
(٨) في [ع]: (فما).
(٩) في [ع]: (إلا غير).
(١٠) سقط من: [ع].
(١١) في [أ، ب، س، ط]: (وكان).
(١٢) في [أ، ب]: (الصبح).
(١٣) سقط من: [أ، ب].
(١٤) في [أ، ب]: زيادة (طرح).
(١٥) سقط من: [ع].
(١٦) في [ب]: (جال).
(١٧) سقط من: [أ، ب].
(١٨) في [س، ق]: (يكثر).
(١٩) في [ي]: بياض.
(٢٠) في [ع]: (بصلاتكم)، وفي [ي]: بياض.
(٢١) في [ي]: بياض.
(٢٢) سقط من: [أ، ب].
(٢٣) في [ي]: بياض.
(٢٤) في [ب]: (بلب).
(٢٥) في [ي]: بياض.
(٢٦) في [أ]: (فاحسبيه).
(٢٧) في [س]: (سنة).
(٢٨) في [ع]: (ألف).
(٢٩) في [ع]: (أوفاتها)، وفي [جـ]: (وفا بها).
(٣٠) سقط من: [أ، ب].
(٣١) في [س]: (بقي)، وفي [أ، ط، هـ]: (تفي).
(٣٢) في [ع]: (قودها).
(٣٣) في [هـ]: (تقتل).
(٣٤) في [ق، هـ]: زيادة (ثم قف بي على الباب).
(٣٥) سقط من: [س].
(٣٦) في [ع]: (فقال).
(٣٧) في [أ، ب]: (إستأذن).
(٣٨) في [ع]: (رسوله).
(٣٩) سقط من: [ع].
(٤٠) في [ع]: (بأيهم).
(٤١) سقط من: [ع].
(٤٢) في [أ، ب، س]: (يشاورونه)، وفي [ق، ي]: (يشاور).
(٤٣) في [ع]: (لهم).
(٤٤) في [س]: بياض.
(٤٥) في [ع]: (وأخيركم).
(٤٦) في [هـ]: زيادة (فاسكت الشيخان علي وعثمان، فقال عبد الرحمن: تجعلانه إليّ، وأنا أخرج منها، فواللَّه لا ألو عن أفضلكم وخيركم للمسلمين).
(٤٧) في [ع]: تكررت.
(٤٨) سقط من: [ع].
(٤٩) في [ع]: (هم).
(٥٠) في [ع]: (هم).
(٥١) في [ع]: (خير).
(٥٢) في [ق، هـ]: زيادة (ويتجاوز عن مسيئهم).
(٥٣) في [ق، هـ]: زيادة (وأن يقاتل من وارءهم).
(٥٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٠٠)، وابن حبان (٦٩١٧).
حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ میں آیا تو میں نے دیکھا کہ حضرت عمر، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور عثمان بن حنیف کے پاس کھڑے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں۔ تم خوف کرو کہ تم نے زمین کو اس قدر عوض پر دیا ہے جو وسعت سے زیادہ ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اگر میں چاہوں تو اپنی زمین کو دو چند (عوض پر) کر دوں اور حضرت عثمان نے کہا۔ میں نے اپنی زمین کو ایسے معاملہ کے عوض میں رکھا جو اس کے مطابق ہے اور اس میں بہت زیادہ اضافہ نہیں ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے سلامت رکھا تو میں اہل عراق کے محتاجوں کو ایسی حالت میں چھوڑوں گا کہ میرے بعد وہ کسی اور کے محتاج نہیں ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں: پھر حضرت عمر چار دن ہی گزرے تھے کہ انہیں شہید کردیا گیا۔ ٢۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عمر جب مسجد میں داخل ہوتے تو آپ صفوں کے درمیان کھڑے ہوجاتے اور فرماتے۔ (صفوں میں) سیدھے ہو جاؤ۔ پس جب لوگ سیدھے ہوجاتے تو آپ تکبیر کہتے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر (جب ایک صبح) آپ نے نماز شروع کی تو آپ کی جگہ وار کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں: پس میں نے آپ کو کہتے سُنا۔ مجھے کتے نے قتل کر ڈالا… یا …مجھے کُتّے نے کھالیا۔ راوی عمروکہتے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ کیا کہا؟ میرے اور ان کے درمیان حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ پھر حضرت عمر نے عبد الرحمان بن عوف کو ہاتھ سے پکڑا اور آگے کر دیا…وہ قاتل دوڑنے لگا جبکہ اس کے ہاتھ میں دو دھاری چھری تھی وہ دائیں بائیں جس آدمی کے پاس سے گزرتا اس کو مارتا جاتا یہاں تک کہ اس نے تیرہ لوگوں کو زخمی کردیا۔ پھر ان زخمیوں میں سے نو افراد وفات بھی پا گئے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب یہ منظر ایک مسلمان نے دیکھا تو اس نے اس کو پکڑنے کے لئے اس پر ایک بڑی چادر ڈال دی۔ پھر جب اس قاتل کو یہ یقین ہوگیا کہ وہ پکڑا جائے گا تو اس نے خود کو ذبح کرلیا۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں: پس ہم نے فجر کی ہلکی سی نماز ادا کی۔ راوی کہتے ہیں: مسجد کے کناروں والے لوگوں کو پتہ ہی نہیں لگا کہ کیا معاملہ ہوا ہے۔ ہاں جب انہوں نے حضرت عمر (کی آواز) کو نہ پایا تو یہ کہنا شروع کیا۔ سبحان اللہ! سبحان اللہ! پھر جب لوگ چلے گئے تو پہلا شخص جو حضرت عمر کے پاس آیا وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔ حضرت عمر نے (ان سے) کہا۔ دیکھو (معلوم کرو) مجھے کس نے قتل کیا ہے؟ راوی کہتے ہیں: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تھوڑا سا گھوم کر واپس آئے اور بتایا۔ حضرت مغیرۃ کے کاریگر غلام نے۔ اور یہ غلام بڑھئی تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا: تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے میری موت کسی ایسے آدمی کے ہاتھ سے واقع نہیں کی جو اسلام کا دعویدار ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کرے۔ یقینا میں نے اس کو بھلائی کا حکم دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں: پھر حضرت عمر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا۔ تحقیق تم اور تمہارے والد اس بات کو پسند کرتے تھے کہ مدینہ منورہ میں علوج زیادہ ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا۔ اگر آپ چاہتے ہیں تو ہم یہ کرتے۔”انہوں نے کہا کہ بعد اس کے کہ تم اپنی بات کرچکے، اپنی نماز پڑھ چکے اور اپنے نسک ادا کرچکے۔“ ٤۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے حضرت عمر سے کہا۔ آپ کو کوئی (بڑا) مسئلہ نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر حضرت عمر نے نبیذ منگوائی اور اس کو پیا لیکن وہ آپ کے زخموں سے باہر نکل گئی۔ پھر حضرت عمر نے دودھ منگوایا اور اس کو پیا لیکن وہ بھی آپ کے زخموں سے باہر نکل گیا۔ چناچہ آپ کو موت کا یقین ہوگیا۔ تو آپ نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا۔ مجھ پر جو قرض ہے اس کو دیکھو اور اس کا حساب کرو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا۔ چھیاسی ہزار ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ اگر یہ قرض آلِ عمر کے مال سے پورا ہوجائے تو میری طرف سے ان کے اموال میں سے اس قرض کو ادا کردو۔ وگرنہ بنو عدی بن کعب سے مانگ لینا۔ پھر اگر یہ قرض ان کے اموال سے پورا ہوجائے تو ٹھیک وگرنہ قریش سے مانگ لینا اور ان کے سوا اور کسی سے نہ مانگنا۔ اور یہ میری طرف سے قرضہ ادا کردینا۔ ٥۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف جاؤ اور (انہیں) سلام کرو اور کہو۔ عمر بن خطاب … امیر المؤمنین کا لفظ نہ کہنا کیونکہ میں اس وقت لوگوں کا امیر نہیں ہوں …اپنے دونوں ساتھیوں (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر) کے ساتھ دفن کئے جانے کی اجازت مانگتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس عبداللہ بن عمر آئے تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیٹھے روتے پایا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سلام کیا پھر کہا۔ عمر بن خطاب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ فن کئے جانے کی اجازت مانگتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا۔ خدا کی قسم! میں تو اس بات کو اپنے لئے چاہتی تھی (یعنی حجرہ میں دفن ہونا) لیکن میں آج اس رات (حجر ہ میں دفن ہونا) میں عمر فاروق کو اپنے اوپر ترجحب دیتی ہوں۔ پھر جب حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو کہا گیا۔ یہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (واپس آگئے) ہیں۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عمر نے فرمایا: م [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39842]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39842، ترقيم محمد عوامة 38214)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39842 in Urdu