مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
44. ما جاء في خلافة عمر بن الخطاب ﵁
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
ترقیم عوامۃ: 38215 ترقیم الشثری: -- 39843
٣٩٨٤٣ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن ابي إسحاق عن عمرو بن ميمون الاودي ان عمر بن الخطاب لما حضر قال: ادعوا لي عليا وطلحة والزبير (وعثمان) (١) وعبد الرحمن بن عوف وسعدا، قال: فلم يكلم (احدا منهم) (٢) إلا (عليا) (٣) وعثمان، فقال: يا علي! لعل هؤلاء القوم يعرفون (لك) (٤) قرابتك وما آتاك الله من العلم والفقه، (فاتق) (٥) (الله) (٦) ، وإن وليت هذا الامر فلا ترفعن بني فلان على رقاب الناس، وقال لعثمان: يا عثمان إن هؤلاء القوم لعلهم يعرفون لك صهرك من رسول الله ﷺ (وسنك) (٧) وشرفك، فإن انت وليت هذا (الامر) (٨) فاتق الله، (و) (٩) لا ترفع بني فلان على رقاب الناس، فقال: ادعوا لي صهيبا، فقال: صل بالناس (ثلاثا) (١٠) ، وليجتمع هؤلاء الرهط (فليخلوا) (١١) فإن اجمعوا على رجل فاضربوا راس (من) (١٢) خالفهم (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [ب]: (منهم أحدًا)، وفي [ع]: (أحد).
(٣) في [ع]: (علي).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [هـ]: (واتق).
(٦) في [ع]: (للَّه).
(٧) في [أ، ب]: (دينك).
(٨) في [ع]: (لأمر).
(٩) سقط من: [ب].
(١٠) في [ع]: (ثلاث).
(١١) في [ي]: بياض.
(١٢) سقط من: [أ، ب].
(١٣) منقطع؛ عمرو بن ميمون لا يروي عن عمر، أخرجه ابن سعد ٣/ ٣٤٠، والخلال في السنة (٣٤٢).
حضرت عمرو بن میمون اودی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کی موت کا وقت جب قریب ہوا تو آپ نے فرمایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عثمان، حضرت عبد الرحمان بن عوف اور حضرت سعد کو میرے پاس بلاؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر حضرت عمر نے (ان میں سے) صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان سے گفتگو فرمائی۔ چناچہ آپ نے کہا۔ اے علی رضی اللہ عنہ! شاید یہ لوگ تمہارے بارے میں قرابت (نبوی) کو اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں علم اور فقہ عطاء کی ہے اس کو پہچانیں۔ پس تم اللہ سے ڈرنا۔ اور اگر تمہیں اس کا م (خلافت) کی سپردگی ہوجائے تو تم بنو فلاں کو دیگر لوگوں کی گردنوں پر بلند نہ کرنا (یعنی برتری نہ دینا) ور حضرت عمر نے حضرت عثمان سے کہا۔ اے عثمان! شاید یہ لوگ تمہارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دامادی کا رشتہ، اور تمہاری عمر اور تمہاری شرافت کو پہچانیں۔ پس اگر تم اس امر (خلافت) کے متولی ٹھہرے تو اللہ سے ڈرنا اور بنو فلاں کو دیگر لوگوں کی گردنوں پر بلند نہ کرنا۔ پھر حضرت عمر نے کہا۔ حضرت صہیب کو میرے پاس بلاؤ۔ اور آپ نے (انہیں) کہا۔ تم تین دن تک لوگوں کو نماز پڑھاؤ۔ ان (مذکورہ بالا) افراد کو چاہیے کہ اکٹھے ہوں اور خلوت میں (کوئی فیصلہ) کریں۔ پھر اگر یہ لوگ کسی ایک آدمی پر اکٹھے ہوجائیں تو اس کی مخالفت کرنے والے کا سر مار دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39843]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39843، ترقيم محمد عوامة 38215)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39843 in Urdu