🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. ما جاء في خلافة عمر بن الخطاب ﵁
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38218 ترقیم الشثری: -- 39846
٣٩٨٤٦ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن ابي (جمرة) (١) عن (جارية) (٢) ابن قدامة السعدي قال: حججت العام الذي اصيب فيه عمر، قال: فخطب (٣) فقال: إني رايت (ان) (٤) (ديكا) (٥) نقرني نقرتين او ثلاثا، ثم لم ⦗١٦٢⦘ (تكن) (٦) إلا جمعة او نحوها حتى اصيب، قال: فاذن لاصحاب رسول الله ﷺ، ثم اذن لاهل المدينة، ثم اذن لاهل الشام، ثم اذن لاهل العراق، فكنا آخر من دخل عليه وبطنه معصوب ببرد اسود والدماء تسيل، كلما دخل قوم بكوا واثنوا عليه، فقلنا له: اوصنا -وما ساله الوصية احد غيرنا- فقال: عليكم بكتاب الله، فإنكم لن تضلوا ما اتبعتموه، واوصيكم بالمهاجرين فإن الناس يكثرون ويقلون، واوصيكم بالانصار فإنهم شعب (الإسلام) (٧) الذي لجا إليه، واوصيكم بالاعراب فإنها اصلكم ومادتكم، واوصيكم بذمتكم فإنها ذمة نبيكم (٨) ، ورزق عيالكم، قوموا عني، فما (زادنا) (٩) على هؤلاء الكلمات (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق، هـ]: (حمزة).
(٢) في [ع]: (حارثة).
(٣) في [ع]: زيادة (عمر).
(٤) سقط من: [ب].
(٥) في [ي]: بياض.
(٦) في [ع]: (يك).
(٧) في [أ، ب، هـ]: (الإيمان).
(٨) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﷺ.
(٩) في [ع]: (زاذنا).
(١٠) صحيح؛ أخرج بعضه البخاري (٣١٦٢)، وأخرجه أحمد (٣٦٢)، والطيالسي (٦٦)، وابن سعد ٣/ ٣٣٦، وابن شبه في تاريخ المدينة ٣/ ٩٣٦، والبغوي في الجعديات (١٢٩٠)، وأبو عبيد في الأموال (٥٦٩)، وابن زنجوية (٥١٩)، والبيهقي ٩/ ٢٠٦.

حضرت جاریہ بن قدامہ سعدی سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں: جس سال حضرت عمر کو زخمی کیا گیا میں نے اس سال حج کیا۔ بیان کرتے ہیں کہ … حضرت عمر نے خطبہ دیا اور (اس میں) ارشاد فرمایا۔ میں نے (خواب) دیکھا ہے کہ ایک مرغ نے مجھے دو یا تین مرتبہ ٹھونگ ماری ہے۔ پھر اس کے بعد ایک جمعہ یا اس کے قریب ہی وقت گزرا تھا کہ حضرت عمر پر حملہ ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں: پس (پہلے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو اجازت دی گئی۔ پھر اہل مدینہ کو اجازت دی گئی پھر اہل شام کو اجازت دی گئی پھر اہل عراق کو اجازت دی گئی۔ پس ہم حضرت عمر کی خد مت میں حاضر ہونے والے آخری لوگ تھے۔ آپ کا پیٹ سیاہ چادر سے باندھا ہوا تھا اور خون بہہ رہا تھا۔ جب بھی کچھ لوگ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوتے تو لوگ رو پڑتے اور آپ کی تعریف کرتے۔ ہم نے آپ سے کہا۔ آپ ہمیں وصیت کریں۔ اور ہمارے علاوہ کسی نے بھی آپ سے وصیت کرنے کا سوال نہیں کیا … چناچہ حضرت عمر نے کہا۔ کتاب اللہ کو لازم پکڑو۔ کیونکہ جب تک تم لوگ اس کی تابعداری کرتے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔ اور میں تمہیں مہاجرین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ دیگر لوگ بڑھیں گے اور (یہ) کم ہوں گے۔ اور میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ لوگ ایمان کی ایسی گھاٹی ہیں جس کی طرف ایمان نے پناہ پکڑی اور میں تمہیں دیہاتیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہاری اصل اور مادہ ہیں۔ اور میں تمہیں تمہارے ذمیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں یہ لوگ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذمہ ہیں اور تمہارے مال بچوں کی روزی ہیں۔ میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ اس سے زیادہ حضرت عمر نے ہمارے ساتھ بات نہیں کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39846]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39846، ترقيم محمد عوامة 38218)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39846 in Urdu