مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
47. ما جاء في ليلة العقبة
لیلۃ العقبہ کے بارے میں روایات
ترقیم عوامۃ: 38257 ترقیم الشثری: -- 39885
٣٩٨٨٥ - حدثنا عبد الرحيم عن (مجالد) (١) عن الشعبي عن عقبة بن عمرو الانصاري قال: وعدنا رسول الله ﷺ (اصل) (٢) العقبة يوم (الاضحى) (٣) ونحن سبعون رجلا، قال (عقبة) (٤) : إني من اصغرهم، (فاتانا) (٥) رسول الله ﷺ فقال:"اوجزوا في الخطبة، فإني اخاف عليكم كفار قريش"، قال: قلنا: يا رسول الله سلنا لربك، وسلنا لنفسك، وسلنا لاصحابك، واخبرنا ما الثواب على الله وعليك؟ فقال:" (اسالكم) (٦) لربي: ان تؤمنوا به ولا تشركوا به شيئا، (واسالكم) (٧) (لنفسي) (٨) : ان تطيعوني (اهدكم) (٩) سبيل الرشاد، (واسالكم) (١٠) لي ولاصحابي: ان تواسونا في ذات ايديكم، وان (تمنعونا) (١١) مما (منعتم) (١٢) منه انفسكم، مإذا فعلتم ذلك فلكم على الله الجنة (وعلي) (١٣) "، قال: فمددنا ايدينا (فبايعناه) (١٤) (١٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (مجاهد).
(٢) في [أ، ب]: غير واضحة.
(٣) في [ع]: (الأضحا).
(٤) في [ق]: (أبو عقبة).
(٥) في [ق]: (فخطبنا).
(٦) في [ع]: (أسلكم).
(٧) في [ع]: (أسلكم).
(٨) سقط من: [أ، ب، ب، س، ع].
(٩) في [ق، ع]: (أهدكم).
(١٠) في [ع]: (أسلكم).
(١١) في [ع] (تمتعونا).
(١٢) في [ع]: (متعتكم).
(١٣) سقط من: [ق].
(١٤) في [ع]: (فبايعنا).
(١٥) ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه عبد بن حميد (٢٣٨)، وأحمد ٤/ ١٢٠ (١٧١٢٠)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٨١٨)، والطبراني ١٧/ (٧١٠)، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٤٥١، وابن عساكر ٤٠/ ٥٢٠.
حضرت عقبہ بن عمرو انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم الاضحی کو گھاٹی کی جڑ میں ہم لوگوں سے وعدہ لیا اور ہم لوگ ستر کی تعداد میں تھے … حضرت عقبہ کہتے ہیں۔ میں ان میں سب سے چھوٹا تھا … پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا۔ ”گفتگو مختصر کرو کیونکہ مجھے تم پر قریش کے کفار کا ڈر ہے۔“ راوی کہتے ہیں۔ ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ ہم سے اپنے رب کے بارے میں سوال کریں اور آپ ہم سے اپنے بارے میں کوئی سوال کریں اور آپ ہم سے اپنے ساتھیوں کے بارے میں کچھ سوال کریں اور ہمں ب بھی بتادیں کہ اللہ پر اور آپ پر (ہمارے لئے) کیا ثواب دینا لازم ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے رب کے بارے میں تم سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور میں تم سے اپنے بارے میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تم میری بات مانو میں تمہیں راہ ہدایت کی جانب راہ نمائی کروں گا۔ اور میں تم سے اپنے ساتھیوں کے بارے میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تم ان کے ساتھ اپنے مال میں ہمدردی کرو اور یہ کہ تم ہم سے ان چیزوں کو روکو جن کو تم خود سے روکتے ہو۔ پس جب تم لوگ یہ کچھ کرو گے تو پھر تمہارے لئے اللہ پر اور مجھ پر جنت واجب ہے۔“ راوی کہتے ہیں پس ہم نے اپنے ہاتھ دراز کیے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39885]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39885، ترقيم محمد عوامة 38257)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39885 in Urdu