🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. ما جاء في ليلة العقبة
لیلۃ العقبہ کے بارے میں روایات
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38256 ترقیم الشثری: -- 39884
٣٩٨٨٤ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن عبد الله بن ابي بكر قال: قال رسول الله ﷺ ليلة العقبة:"اخرجوا إلى اثني عشر منكم يكونوا (كفلاء على قومهم) (١) (ككفالة) (٢) الحواريين لعيسى بن مريم،، فكان نقيب بني النجار - (قال: ابن إدريس) (٣) : وهم اخوال رسول الله ﷺ: اسعد بن زرارة ابو امامة، وكان (نقيبي) (٤) بني الحارث بن الخزرج: عبد الله بن رواحة وسعد بن ربيع، وكان (نقيبي) (٥) بني سلمة: عبد الله بن عمرو بن (حرام) (٦) والبراء بن معرور، وكان (نقيبي) (٧) بني ساعدة: سعد بن عبادة والمنذر بن عمرو، وكان (نقيب) (٨) بني زريق رافع بن مالك، وكان نقيب بني عوف بن الخزرج، وهم القوافل، عبادة بن الصامت، وكان (نقيبي) (٩) بني عبد الاشهل: (اسيد بن الحضير) (١٠) وابو الهيثم بن التيهان، وكان نقيب بني عمرو بن عوف: سعد بن خيثمة (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ق].
(٢) في [أ، ب]: (كلتلاء).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [ق]: (نقيب).
(٥) في [ق]: (نقيب).
(٦) في [ع]: (حزام).
(٧) في [ق]: (نقيب).
(٨) في [أ، ب، ع]: (نقيبي)، وفي [ق]: (نقيبًا).
(٩) في [ق]: (نقيبًا).
(١٠) سقط من: [أ، ب].
(١١) مرسل؛ ابن أبي بكر تابعي، أخرجه ابن إسحاق في السيرة ٢/ ٢٩٤، وابن سعد ٣/ ٦٠٢.

حضرت عبد اللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لیلۃ العقبہ کو فرمایا۔ تم لوگ اپنے میں سے بارہ لوگوں کو میری طرف نکال دو جو اپنی اپنی قوم کے کفیل ہوں جیسا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے حواریوں کے کفیل تھے۔ پس بنو نجار کے کفیل … ابن ادریس کہتے ہیں۔ بنو نجار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماموں لگتے تھے… اسعد بن زرار اور ابو امامہ تھے اور بنو الحارث بن خزرج کے دو نقیب (کفیل) حضرت عبد اللہ بن رواحہ اور سعد بن ربیع تھے اور بنو سلمہ کے دو نقیب حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بن حرام اور حضرت براء بن معرور تھے اور بنو ساعدہ کے دو نقیب حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت منذر بن عمرو تھے۔ اور بنوزریق کے نقیب رافع بن مالک تھے اور بنو عوف بن خزرج کے نقیب … یہ لوگ قواقل کے لقب سے ملقب تھے … عبادہ بن صامت تھے اور بنو عبدالاشہل کے دو نقیب حضرت اسید بن حضیر اور حضرت ابو الہیثم بن تیہان تھے اور بنو عمرو بن عوف کے نقیب حضرت سعد بن خیثمہ تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39884]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39884، ترقيم محمد عوامة 38256)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38257 ترقیم الشثری: -- 39885
٣٩٨٨٥ - حدثنا عبد الرحيم عن (مجالد) (١) عن الشعبي عن عقبة بن عمرو الانصاري قال: وعدنا رسول الله ﷺ (اصل) (٢) العقبة يوم (الاضحى) (٣) ونحن سبعون رجلا، قال (عقبة) (٤) : إني من اصغرهم، (فاتانا) (٥) رسول الله ﷺ فقال:"اوجزوا في الخطبة، فإني اخاف عليكم كفار قريش"، قال: قلنا: يا رسول الله سلنا لربك، وسلنا لنفسك، وسلنا لاصحابك، واخبرنا ما الثواب على الله وعليك؟ فقال:" (اسالكم) (٦) لربي: ان تؤمنوا به ولا تشركوا به شيئا، (واسالكم) (٧) (لنفسي) (٨) : ان تطيعوني (اهدكم) (٩) سبيل الرشاد، (واسالكم) (١٠) لي ولاصحابي: ان تواسونا في ذات ايديكم، وان (تمنعونا) (١١) مما (منعتم) (١٢) منه انفسكم، مإذا فعلتم ذلك فلكم على الله الجنة (وعلي) (١٣) "، قال: فمددنا ايدينا (فبايعناه) (١٤) (١٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (مجاهد).
(٢) في [أ، ب]: غير واضحة.
(٣) في [ع]: (الأضحا).
(٤) في [ق]: (أبو عقبة).
(٥) في [ق]: (فخطبنا).
(٦) في [ع]: (أسلكم).
(٧) في [ع]: (أسلكم).
(٨) سقط من: [أ، ب، ب، س، ع].
(٩) في [ق، ع]: (أهدكم).
(١٠) في [ع]: (أسلكم).
(١١) في [ع] (تمتعونا).
(١٢) في [ع]: (متعتكم).
(١٣) سقط من: [ق].
(١٤) في [ع]: (فبايعنا).
(١٥) ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه عبد بن حميد (٢٣٨)، وأحمد ٤/ ١٢٠ (١٧١٢٠)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٨١٨)، والطبراني ١٧/ (٧١٠)، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٤٥١، وابن عساكر ٤٠/ ٥٢٠.

حضرت عقبہ بن عمرو انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم الاضحی کو گھاٹی کی جڑ میں ہم لوگوں سے وعدہ لیا اور ہم لوگ ستر کی تعداد میں تھے … حضرت عقبہ کہتے ہیں۔ میں ان میں سب سے چھوٹا تھا … پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا۔ گفتگو مختصر کرو کیونکہ مجھے تم پر قریش کے کفار کا ڈر ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ ہم سے اپنے رب کے بارے میں سوال کریں اور آپ ہم سے اپنے بارے میں کوئی سوال کریں اور آپ ہم سے اپنے ساتھیوں کے بارے میں کچھ سوال کریں اور ہمں ب بھی بتادیں کہ اللہ پر اور آپ پر (ہمارے لئے) کیا ثواب دینا لازم ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے رب کے بارے میں تم سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور میں تم سے اپنے بارے میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تم میری بات مانو میں تمہیں راہ ہدایت کی جانب راہ نمائی کروں گا۔ اور میں تم سے اپنے ساتھیوں کے بارے میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تم ان کے ساتھ اپنے مال میں ہمدردی کرو اور یہ کہ تم ہم سے ان چیزوں کو روکو جن کو تم خود سے روکتے ہو۔ پس جب تم لوگ یہ کچھ کرو گے تو پھر تمہارے لئے اللہ پر اور مجھ پر جنت واجب ہے۔ راوی کہتے ہیں پس ہم نے اپنے ہاتھ دراز کیے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39885]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39885، ترقيم محمد عوامة 38257)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38258 ترقیم الشثری: -- 39886
٣٩٨٨٦ - حدثنا ابن نمير عن إسماعيل عن الشعبي قال: انطلق العباس مع النبي ﷺ إلى الانصار فقال: تكلموا ولا (تطيلوا) (١) (الخطبة، إن) (٢) عليكم عيونا (وإني) (٣) اخشى عليكم كفار قريش، فتكلم رجل منهم يكنى ابا امامة، وكان خطيبهم يومئذ وهو اسعد بن زرارة، فقال للنبي ﷺ: سلنا لربك وسلنا لنفسك وسلنا لاصحابك، وما الثواب على ذلك؟ فقال النبي ﷺ:" (اسالكم) (٤) لربي ان تعبدوه ولا تشركوا به شيئا، ولنفسي ان تؤمنوا بي وتمنعوني مما (تمنعون) (٥) منه انفسكم وابناءكم، ولاصحابي المواساة في ذات ايديكم"، قالوا: فما لنا إذا فعلنا ذلك؟ قال:"لكم على الله الجنة" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (تطيعوا).
(٢) في [ع]: (الخطبتان).
(٣) في [س]: (وإلى).
(٤) في [ع]: (أسلكم)، وفي [س]: (أسليكم).
(٥) في [ع]: (تمتعون).
(٦) مرسل؛ الشعبي تابعي، أخرجه أحمد ٤/ ١١٩ (١٧١١٩)، وابن سعد ٤/ ١١٩، والبيهقي في الدلائل ٢/ ٤٥٠.

حضرت شعبی سے روایت ہے کہ حضرت عباس، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ انصار کی طرف چل کر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ بات کرو لیکن گفتگو لمبی نہ کرنا۔ تم پر جاسوس متعین ہیں اور مجھے تمہارے بارے میں قریش کے کفار سے خوف ہے پس ان میں سے ایک آدمی … جس کی کنیت ابو امامہ تھی … اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ آپ ہم سے اپنے رب کے لئے سوال کریں، آپ ہم سے اپنے لئے سوال کریں اور آپ ہم سے اپنے ساتھیوں کے لئے سوال کریں۔ اور (یہ بتائیں کہ) اس پر کیا ثواب ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ میں تم سے اپنے رب کے بارے میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور اپنے لئے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ اور مجھ سے ان چیزوں کو روکو جن چیزوں کو تم اپنے اور اپنے بیٹوں سے روکتے ہو۔ اور اپنے ساتھیوں کے لئے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم ان کے ساتھ اپنے اموال میں ہمدردی کرو انصار نے پوچھا۔ جب ہم یہ سب کچھ کریں گے تو ہمیں کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تمہارے لئے اللہ پر جنت واجب ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39886]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39886، ترقيم محمد عوامة 38258)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38259 ترقیم الشثری: -- 39887
٣٩٨٨٧ - حدثنا الفضل بن دكين عن الوليد بن جميع عن ابي الطفيل قال: كان بين (١) حذيفة وبين رجل منهم من اهل العقبة (٢) بعض ما يكون بين الناس، (فقال) (٣) : انشدك بالله، كم كان اصحاب العقبة؟ فقال القوم: فاخبره فقد سالك، فقال ابو موسى الاشعري: قد كنا نخبر انهم اربعة عشر، فقال حذيفة: وإن كنت ⦗١٨٧⦘ فيهم فقد كانوا خمسة عشر، اشهد بالله ان إثني عشر منهم (حرب) (٤) (لله) (٥) ورسوله في الحياة الدنيا ويوم يقوم الاشهاد، وعذر ثلاثة، قالوا: ما سمعنا منادي رسول الله ﷺ (٦) ولا علمنا ما يريد القوم (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (أبي).
(٢) عقبة شمال المدينة على طريق تبوك، انظر: شرح مسلم ١٢٥/ ١٧، وقد كان النبي ﷺ طلب من أصحابه أن لا يشربوا من ماء أحد الآبار حتى يسبقهم ليقرأ عليه فيبارك اللَّه فيه، فسبق خمسة عشر رجلًا فشربوا قبل ورود النبي ﷺ.
(٣) في [ع]: (قال).
(٤) في [س، هـ]: (حزب).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) سقط من: [ع].
(٧) حسن؛ الوليد صدوق، أخرجه مسلم (٢٧٧٩)، وأحمد (٢٣٣٢١).

حضرت ابوا لطفیل سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور اہل عقبہ میں سے ایک اور آدمی کے درمیان کچھ تکرار سی تھی تو انہوں نے پوچھا۔ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں (بتاؤ) اصحاب العقبہ کی تعداد کیا تھی؟ اس پر لوگوں نے بھی کہا۔ تم اس کو بتاؤ کیونکہ اس نے تم سے سوال کیا ہے۔ پس حضرت ابو موسیٰ اشعری نے کہا۔ تحقیق ہمیں تو یہ خبر ملی تھی کہ وہ چودہ تھے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اور اگر آپ ان میں ہوتے تو وہ پندرہ ہوتے۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان میں سے بارہ تو دنیا و آخرت میں اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار تھے۔ اور تین نے معذرت کی تھی اور انہوں نے کہا تھا۔ ہم نے اللہ کے رسول کے منادی کو نہیں سنا اور ہمیں پتا نہیں کہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39887]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39887، ترقيم محمد عوامة 38259)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38260 ترقیم الشثری: -- 39888
٣٩٨٨٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن ابي خالد قال: سمعت عبد الله بن ابي اوفى، وكان ممن بايع تحت الشجرة، يقول: دعا رسول الله ﷺ على الاحزاب فقال:"اللهم (١) منزل الكتاب، سريع الحساب، هازم الاحزاب، اللهم اهزمهم وزلزلهم" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: زيادة (هازم الأحزاب و).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤١١٥)، ومسلم (١٧٤٢).

حضرت اسماعیل بن خالد سے روایت ہے کہ میں عبد اللہ بن ابی اوفیٰ … یہ ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی…کو کہتے سُنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لشکروں کے خلاف بددعا کی اور فرمایا۔ اے اللہ! کتاب کو اتارنے والے، جلد حساب لینے والے، لشکروں کو شکست دینے والے، اے اللہ! تو ان کو شکست دے دے اور ان کو ہلا دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39888]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39888، ترقيم محمد عوامة 38260)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38261 ترقیم الشثری: -- 39889
٣٩٨٨٩ - حدثنا يحيى بن ابي بكير (حدثنا) (١) شعبة عن عمرو بن مرة قال: سمعت بن ابي اوفى يقول: كان اصحاب النبي ﷺ الذين (بايعوا) (٢) تحت الشجرة (الفا) (٣) واربعـ (ــمائة) (٤) او (الفا) (٥) وثلاثمائة، وكانت اسلم (من) (٦) المهاجرين (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [جـ]: (إذا).
(٣) في [ع]: (ألف).
(٤) سقط من: [أ، هـ].
(٥) في [ع]: (ألف).
(٦) في [ع]: (ممن).
(٧) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٥٧)، وابن حبان (٤٨٠٣).

حضرت عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفیٰ کو کہتے سُنا کہ جن صحابہ نے درخت کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی وہ چودہ سو یا تیرہ سو تھے اور قبیلہ اسلم کے لوگ مہاجرین کا ایک ثمن تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39889]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39889، ترقيم محمد عوامة 38261)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38262 ترقیم الشثری: -- 39890
٣٩٨٩٠ - حدثنا عبدة بن سليمان عن (مجالد) (١) عن عامر قال: اول من بايع تحت الشجرة ابو سنان الاسدي وهب، اتى النبي ﷺ فقال (٢) : ابايعك، (قال) (٣) :"علام تبايعني؟" قال: على ما في نفسك، قال: فبايعه، قال: واتاه رجل آخر فقال: ابايعك على ما بايعك عليه ابو سنان فبايعه، ثم بايعه الناس (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (مجاهد).
(٢) في [س]: زيادة (له).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) ضعيف مرسل؛ عامر الشعبي تابعي، ومجالد ضعيف، وأخرجه أحمد في الفضائل (١٦٨٩)، والعلل ٢/ ٣٣٦، وابن سعد ٢/ ١٠٠، والخلال في السنة (٣٦)، وابن جرير في التفسير ٢/ ٨٦٦، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٣١٥، وأبو عروبة في الأوائل (٦٥)، والدولابي في الكنى ١/ ١١١، والفاكهي في أخبار مكة (٢٨٧)، والبيهقي في دلائل النبوة ٤/ ١٣٧، وأبو أحمد الحاكم في معرفة علوم الحديث ص ١٨٣، وابن عساكر ١٠/ ٤٢.

حضرت عامر سے روایت ہے کہ درخت کے نیچے سب سے پہلے ابو سنان اسدی وھب نے بیعت کی تھی۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ میں آپ کی بیعت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تم کس بات پر میری بیعت کرتے ہو؟ ابو سنان نے کہا۔ اس بات پر جو آپ کے دل میں ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بیعت کیا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر ایک اور آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور اس نے کہا۔ جس بات پر ابو سنان نے بیعت کی ہے میں بھی اس پر آپ کی بیعت کرتا ہوں۔ پس اس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی۔ پھر باقی لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39890]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39890، ترقيم محمد عوامة 38262)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38263 ترقیم الشثری: -- 39891
٣٩٨٩١ - حدثنا محمد بن بشر (حدثنا) (١) إسماعيل عن عامر قال: السابقون الاولون: من ادرك بيعة الرضوان (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (تم الجزء الثالث)، وفي [جـ، ق]: (آخر المغازي)، وفي [هـ]: (تم بحمد اللَّه ﷾ الجزء الرابع عشر ويليه إن شاء اللَّه الجزء الخامس عشر، وأوله باب "من كره الخروج في الفتنة وتعوذ عنها من كتاب الفتن")، وفي [س]: (تم الجزء الثالث وهوآخر المغازي والحمد للَّه وحده يتلوه كتاب الفتن).

حضرت عامر سے روایت ہے کہ السَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بیعۃ الرضوان کی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39891]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39891، ترقيم محمد عوامة 38263)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں